”آئی لو محمد“ کے بینر لگانے پر کارروائی غیر منصفانہ، نبی ﷺ کی محبت ایمان کا بنیادی جز ہے!
انتظامیہ سے ایف آئی آر فوری واپس لینے اور گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ

کرناٹک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، عمائدین اور تنظیموں کے ذمہ داران کا متفقہ فیصلہ!
بنگلور، 27/ ستمبر (پریس ریلیز): اترپردیش کے ضلع کانپور میں ”آئی لو محمد“ کا بینر لگائے جانے کے بعد پولیس کی جانب سے کی گئی سخت کارروائی کے خلاف اس وقت پورے ملک میں الگ الگ پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ کرناٹک کے مختلف شہروں میں بھی مسلمانوں نے اترپردیش اور دیگر ریاستوں کی پولیس کارروائی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ اسی تناظر میں کرناٹک کے داونگرے میں بھی ”آئی لو محمد“ کے بینر لگائے جانے پر پولیس نے کارروائی کی ہے۔ ان تمام حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ”آئی لو محمد“ کے بینروں پر ہو رہی کارروائی کے تعلق سے گزشتہ دنوں کرناٹک کے مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام، عمائدین ملت اور دینی، ملی و سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور سیاسی قائدین کی مشترکہ نشست منعقد ہوئی، جس میں حالات پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا گیا اور آئندہ لائحہ عمل پر متفقہ فیصلے لئے گئے۔
ٍ اجلاس میں کہا گیا کہ ”آئی لو محمد“ کے بینر لگانے پر پولیس کی سخت کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا عمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ملک کے جمہوری و آئینی اصولوں کے بھی خلاف ہے، کیونکہ رسول اکرم ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جز ہے اور اس اظہار کو کوئی طاقت دنیا میں روک نہیں سکتی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ پیغمبر اسلام ﷺ صرف مسلمانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے، اور یہی وجہ ہے کہ غیر مسلم برادرانِ وطن میں سے بھی بے شمار افراد نے وقتاً فوقتاً آپ سے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا ہے۔علماء و عمائدین نے متفقہ طور پر کہا کہ ہم اترپردیش کے ضلع کانپور، ہماری ریاست کرناٹک کے ضلع داونگرے اور ملک بھر کے مختلف شہروں میں اس نوعیت کی کارروائیوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام
بے بنیاد ایف آئی آر کو فوراً واپس لیا جائے اور گرفتار شدگان کو فوراً رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں بالخصوص نوجوانانِ ملت کو اس جانب متوجہ کیا کہ عشقِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم امن قائم رکھیں، قانون کی پاسداری کریں اور صرف ایک بینر لگا کر فرقہ پرست عناصر کو کسی بھی طرح ماحول خراب کرنے کا موقع نہ دیں۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ رسول اکرم ﷺ سے محبت کا اصل ثبوت صرف بینر لگانے سے نہیں بلکہ آپ ﷺ کی سنت اور شریعت کو اپنی عملی زندگی میں اپنانے سے ہے، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان تعلیمات کو عام کریں اور برادرانِ وطن کو بھی اس پیغامِ رحمت سے روشناس کرائیں۔قائدین نے اس امر کی بھی وضاحت کی کہ کسی بھی عوامی مقام پر بینر لگانے یا مظاہرہ کرنے سے پہلے انتظامیہ کی اجازت لینا ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ رسول اکرمﷺ کی شان اقدس بڑھتی ہوئی گستاخیوں اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر جلد ہی ایک نمائندہ وفد ریاست کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرے گا اور مطالبہ کرے گا کہ ایسے واقعات کے مرتکبین کے خلاف سخت اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ریاست میں امن و سکون اور بھائی چارہ قائم رہ سکے۔یہ اجلاس اس بات پر اختتام پذیر ہوا کہ ہم سب کو مل جل کر باہمی اتحاد، امن و امان اور اخوت کے ساتھ اپنے جذبات کا مثبت اور تعمیری اظہار کرنا چاہئے تاکہ رسول اکرم ﷺ کی سیرت و تعلیمات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور ہماری آنے والی نسلوں میں عشقِ رسول ﷺ حقیقی معنوں میں زندہ و جاوید رہ سکے۔
قابل ذکر ہے کہ اس مشاورتی اجلاس میں مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، مولانا عبد القادر شاہ واجد قادری (امام و خطیب جمعہ مسجد بنگلور)، جناب محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، شیخ اعجاز احمد ندوی (خطیب جامع مسجد اہلحدیث بنگلور)،
جناب محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا غلام مختار قادری (امام و خطیب مسجد درگاہ حضرت کمبل پوش بنگلور)، مولانا ذبیح اللہ نوری (امام احمد رضا مومنٹ بنگلور)، جناب عثمان شریف (سکریٹری جمعہ مسجد ٹرسٹ بورڈ)، جناب افسر بیگ قادری (سکریٹری جلوس محمدی کمیٹی بنگلور)، جناب منصور احمد قریشی (جمعیۃ اہلحدیث کرناٹک)، مولانا محمد علی قاضی (چئیرمین اردو اکیڈمی)، مولانا شافی سعدی وغیرہ شامل تھے۔ سیاسی قائدین میں کرناٹک کے وزیر برائے ہاؤسنگ، اقلیتی بہبود و اوقاف جناب بی زیڈ ضمیر احمد خان، وزیر اعلیٰ کے سیاسی مشیر جناب نصیر احمد اور رکن کونسل عبد الجبار موجود تھے۔ اجلاس میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ اگرچہ بعض اہم ذمہ داران اپنی مشغولیات کی بنا پر اس ہنگامی اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے لیکن انہوں نے اپنی مکمل تائید کا اظہار کیا ہے اور عوام سے متفقہ فیصلے پر عمل پیرا ہونے کی اپیل کی ہے۔




