آنسوؤں کی زبان، حکمتِ ربّ بندۂ مومن کا یقین


✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
وہ ذات جو دلوں کے بھید جانتی ہے، جو آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے رازوں سے باخبر ہے، جس کی رحمت ہر شے پر محیط ہے اور جس کی حکمت ہر فیصلے میں کارفرما۔ اسلام کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں، اضطرابوں اور آزمائشوں کے باوجود تنہاء نہیں ہے۔ اس کا ربّ اس کے ساتھ ہے، اس کے قریب تر ہے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ۔ قرآنِ حکیم بار بار انسان کو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ آزمائش زندگی کا لازمی حصّہ ہے، اور صبر و توکل ایمان کا لازمہ۔ مومن کی زندگی محض حالات کے رحم و کرم پر نہیں ہوتی، بلکہ وہ یقین، رضا اور اعتمادِ الٰہی کے سہارے آگے بڑھتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں آنسو کمزوری کی علامت نہیں، بلکہ دل کی نرمی اور روح کی بیداری کی دلیل ہیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں اس بات کی شاہد ہیں کہ وہ اپنے ربّ کے حضور گڑگڑاتے، گریہ کرتے اور دعا میں اپنے دل کی کیفیت پیش کرتے تھے۔ یہ آنسو دراصل بندگی کا سرمایہ ہیں ایسے آنسو جو دل کی گہرائی سے نکل کر عرش تک رسائی پاتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ تقدیر کے فیصلے فوری طور پر سمجھ میں نہ آئیں تو بھی ان پر بدگمانی نہ کی جائے۔ کیونکہ ربّ حکیم کا ہر فیصلہ علم، عدل اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ تکلیف میں صبر کرتا ہے اور راحت میں شکر، اور دونوں صورتوں میں اپنے ربّ سے جڑا رہتا ہے۔ یہی تعلق اس کی اصل قوت ہے، یہی اس کی نجات کا وسیلہ ہے۔ اسی پس منظر میں ذیل کا مضمون آنسوؤں کی معنویت، ربِّ کریم کی حکمت اور صبر و یقین کی روحانی حقیقت کو واضح کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے۔
آنسوؤں کی زبان اور ربِّ کریم کی حکمت
انسان جب زندگی کی پُرپیچ راہوں میں قدم رکھتا ہے تو اسے کبھی خوشیوں کی نرم گھاس میسر آتی ہے اور کبھی آزمائشوں کے نوکیلے کانٹے۔ ایسے میں دل گھبرا اٹھتا ہے، زبان خاموش ہو جاتی ہے اور آنکھیں بے اختیار نم ہو جاتی ہیں۔ مگر اہلِ ایمان جانتے ہیں کہ آنسو محض پانی کے قطرے نہیں ہوتے، یہ دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والی وہ صدائیں ہیں جنہیں آسمانوں کا ربّ بخوبی سنتا اور سمجھتا ہے۔ گھبرانے کی کیا ضرورت، جب آنسوؤں کی بھی ایک زبان ہوتی ہے اور وہ زبان اللّٰہ سمجھتا ہے۔ بندہ بسا اوقات اپنے درد کو لوگوں سے چھپا لیتا ہے، اپنے زخموں پر مسکراہٹ کا مرہم رکھ لیتا ہے، مگر جو کیفیت اس کے دل میں موجزن ہوتی ہے، وہ اس کے ربّ کے سامنے سب سے زیادہ واضح اور نمایاں ہوتی ہے۔ قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اللّٰہ دلوں کے بھیدوں تک سے واقف ہے؛ وہ نہ صرف ہماری بات سنتا ہے بلکہ ہماری خاموشی کو بھی پڑھ لیتا ہے۔
اللّٰہ کے فیصلے بسا اوقات دیر سے سمجھ میں آتے ہیں۔ انسانی عقل محدود ہے، وہ لمحۂ موجود کے پردے سے آگے نہیں دیکھ سکتی، جب کہ ربِّ کائنات کا علم ازل سے ابد تک محیط ہے۔ ہم کسی واقعے کو محض ایک حادثہ سمجھتے ہیں، مگر اس کے پیچھے حکمتوں کے کئی در وا ہوتے ہیں جن کا ادراک ہمیں وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ جب پردہ اٹھتا ہے اور حقیقت سامنے آتی ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں کبھی شکر سے، کبھی ندامت سے، اور کبھی اس احساس سے کہ ہمارا رب ہمیں ہم سے زیادہ جانتا تھا۔ آزمائش دراصل محرومی کا نام نہیں، بلکہ تربیت کا دوسرا عنوان ہے۔ جس طرح سونا آگ میں تپ کر کندن بنتا ہے، اسی طرح مومن مشکلات کی بھٹی میں صبر کے ساتھ رہ کر نکھرتا ہے۔ اگر رب آزمائش دیتا ہے تو اس کے ساتھ صبر کی توفیق بھی دیتا ہے، اور اگر وہ کسی دروازے کو بند کرتا ہے تو کسی اور سمت سے رحمت کے دریچے کھول دیتا ہے۔ قرآن کا وعدہ ہے کہ تنگی کے ساتھ آسانی ہے یعنی مشکل خود اپنے اندر آسانی کا بیج رکھتی ہے، بس صبر کی زمین درکار ہوتی ہے۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ دل میں درد نہ ہو یا آنکھ میں آنسو نہ آئیں۔ صبر دراصل دل کا وہ سکون ہے جو یقین سے پیدا ہوتا ہے؛ یہ یقین کہ میرا ربّ حکیم ہے، عادل ہے، اور مہربان ہے۔ وہ میرے لیے وہی پسند کرتا ہے جو میرے حق میں بہتر ہو، چاہے میں اس وقت اسے نہ سمجھ سکوں۔ یہی یقین انسان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے، اسے مایوسی کے اندھیروں میں چراغِ اُمید عطاء کرتا ہے۔ تاریخِ انبیاء اس حقیقت کی روشن مثال ہے۔ ہر نبی نے آزمائشوں کا سامنا کیا، تنہائی دیکھی، مخالفت سہی، مگر صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ بالآخر اللّٰہ کی نصرت آئی اور حالات بدل گئے۔ یہی سنّتِ الٰہی ہے کہ رات جتنی گہری ہوتی ہے، سحر اتنی قریب آ جاتی ہے۔ لہٰذا جب دل پر بوجھ ہو، جب دعائیں بظاہر بے اثر محسوس ہوں، جب راستے بند نظر آئیں تو گھبرانے کے بجائے اپنے آنسوؤں کو دعا میں ڈھال دو۔ اپنے ربّ سے ہم کلام ہو جاؤ، کیونکہ وہ تمہاری سرگوشی بھی سنتا ہے اور تمہاری خاموشی بھی۔
یقین رکھو کہ اس کے فیصلے تاخیر سے سمجھ میں آئیں تو بھی وہ رحمت سے خالی نہیں ہوتے۔ بس صبر کر لو۔ وہ ربّ اگر آزمائش دیتا ہے تو نوازتا بھی ہے اور جب نوازتا ہے تو ایسے انداز سے کہ پچھلے سارے دکھ اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ آخرکار بندہ یہی سیکھتا ہے کہ تقدیر کے ہر موڑ پر اس کا ربّ اس کے ساتھ تھا، ہے اور رہے گا۔ آنسو گواہ رہتے ہیں کہ ربّ کی حکمت دیر سے سہی، مگر ہمیشہ روشن ہو کر سامنے آتی ہے۔
انسان کی زندگی محض چند سانسوں کا سلسلہ نہیں، بلکہ ایک امانت اور ایک امتحان ہے۔ ایسا امتحان جس کا ہر سوال ہمارے ظرف، ہمارے یقین اور ہمارے تعلقِ الٰہی کو پرکھتا ہے۔ آنسو، آزمائش اور انتظار یہ سب اسی امتحان کے اجزاء ہیں۔ مگر خوش نصیب ہے وہ بندہ جو ہر کیفیت میں اپنے ربّ کی طرف رجوع کرنا سیکھ لے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی ہر تکلیف عارضی ہے، مگر اس پر کیا گیا صبر دائمی اجر کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک لمحے کا ضبط، ایک سجدے کی خاموش فریاد، ایک آنسو کی سچی ندامت یہ سب اللّٰہ کے ہاں ضائع نہیں جاتے۔ وہ ربّ جو چیونٹی کے قدموں کی آہٹ سنتا ہے، وہ اپنے بندے کے دل کی دھڑکنوں سے کیسے غافل ہو سکتا ہے؟
پس جب زندگی کے صحرا میں تنہائی کا احساس شدّت اختیار کرے، جب دل سوالوں کے بوجھ سے جھک جائے، تو اپنے یقین کو تازہ کیجیے۔ اپنے آپ کو یاد دلائیے کہ میرا ربّ حکیم ہے، وہ بے سبب نہیں آزماتا؛ وہ کریم ہے، وہ بے صلہ نہیں چھوڑتا؛ وہ رحیم ہے، وہ بے آسرا نہیں کرتا۔ اس کی حکمت کبھی فوری طور پر منکشف نہیں ہوتی، مگر جب ہوتی ہے تو بندہ سرِ تسلیم خم کر کے کہہ اٹھتا ہے: "اے ربّ! تو نے جو کیا، بہتر کیا”۔ یہ تحریر دراصل ایک دعوت ہے؛ صبر کی دعوت، توکل کی دعوت، اور اس یقین کی دعوت کہ آنسو اگر اللّٰہ کے لیے بہیں تو کمزوری نہیں، عبادت بن جاتے ہیں۔ آزمائش اگر رضا کے ساتھ برداشت کی جائے تو سزا نہیں، قربت کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
آئیے ہم اپنے دلوں کو شکوے سے پاک کریں، اپنی زبانوں کو شکر سے تر کریں، اور اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو دعا کا زیور بنائیں۔ کیونکہ بالآخر کامیابی اسی کی ہے جو آزمائش میں ثابت قدم رہے، جو تقدیر کے ہر موڑ پر اپنے ربّ سے وابستہ رہے، اور جو یہ یقین رکھے کہ ربِّ کریم کی حکمت دیر سے سہی، مگر ہمیشہ خیر اور رحمت ہی لاتی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں صبرِ جمیل، یقینِ کامل اور رضا بالقضا کی دولت عطاء فرمائے، اور ہمارے آنسوؤں کو ہماری مغفرت اور ہماری بلندیِ درجات کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔
🗓 (22.02.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




