مہاراشٹرا

آکولہ میں سنت گاڈگے بابا امراؤتی یونیورسٹی کے ذیلی مرکز کے قیام کی سمت اہم پیش رفت، تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت

آکولہ ،۱۱؍ستمبر (محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ) آکولہ میں سنت گاڈگے بابا امراؤتی یونیورسٹی کا ذیلی مرکز (Sub-Centre) قائم کرنے کی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں مہاراشٹر کے اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکانت دادا پاٹل نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے، جو آکولہ میں ذیلی مرکز کے لیے مناسب جگہ کا معائنہ کرے گی اور ایک مفصل منصوبہ (پلان) حکومت کو پیش کرے گی۔ یہ فیصلہ وزارتِ اعلیٰ و تکنیکی تعلیم میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں لیا گیا، جس کی صدارت خود وزیر چندرکانت پاٹل نے کی۔

اس اجلاس میں مملکتی وزیر اندرنیل نائک، رکن اسمبلی رندھیر ساورکر، تکنیکی تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ونود موہتکر، اعلیٰ تعلیم کے نائب سکریٹری اشوک مانڈے، نائب سکریٹری پرتاپ لوبال، ریاستی آرٹ ڈائریکٹریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کشور انگلے، ریاستی آرٹ ایجوکیشن بورڈ کے ڈائریکٹر ونود ڈانڈگے، سنت گاڈگے بابا امراؤتی یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر، رجسٹرار اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے۔اجلاس میں نہ صرف ذیلی مرکز کے قیام پر تبادلہ خیال ہوا بلکہ پاتور کے مہاتما پھولے کالج کے ملازمین کے زیر التوا مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔

چندرکانت پاٹل نے اجلاس کے دوران امراؤتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہدایت دی کہ آکولہ میں ذیلی مرکز کے قیام کے لیے موزوں زمین کی تلاش جلد از جلد مکمل کی جائے اور اس کا مفصل خاکہ آئندہ منگل تک اعلیٰ و تکنیکی تعلیم کے دفتر میں پیش کیا جائے۔ذرائع کے مطابق، فی الحال اس ذیلی مرکز کو عارضی طور پر آکولہ کے کسی کالج میں شروع کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ وزیر موصوف نے متعلقہ افسران سے کہا ہے کہ جلد از جلد اس کے لیے کسی کالج کا متبادل انتخاب کیا جائے تاکہ کام فوری طور پر شروع ہو سکے۔واضح رہے کہ امراؤتی یونیورسٹی کے وسیع دائر?

کار کو دیکھتے ہوئے آکولہ میں ذیلی مرکز قائم کرنے کا مطالبہ کئی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ اس مطالبے کو آگے بڑھانے میں رکن اسمبلی رندھیر ساورکر نے مسلسل کوششیں کیں۔ انہوں نے اسمبلی اجلاس کے دوران بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا، جس پر وزیر چندرکانت پاٹل نے ذیلی مرکز کے قیام کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اب ان ہدایات کے بعد یہ خواب حقیقت کا روپ دھارتا دکھائی دے رہا ہے۔آکولہ، بلڈہانہ اور واشیم اضلاع کے طلبہ کے لیے یہ ذیلی مرکز کسی نعمت سے کم نہیں ہوگا، کیونکہ امراؤتی یونیورسٹی کے زیر انتظام کل ۱۴۴ کالجوں میں سے ۱۲۲ کالج ان تینوں اضلاع میں واقع ہیں۔ ان اضلاع میں یونیورسٹی کے ۵۴ فیصد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ بعض کالج، خصوصاً بلڈہانہ ضلع کے دیولگاو? راجہ تعلقہ میں واقع ادارے، امراؤتی سے ۰۰۲ کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہیں۔

اس طویل فاصلے کی وجہ سے طلبہ، اساتذہ اور والدین کو شدید دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں مالی بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔رندھیر ساورکر نے اجلاس کے دوران اس مسئلے کو بھرپور انداز میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے کام کے لیے بار بار امراؤتی جانا نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ مالی طور پر بھی بھاری پڑتا ہے۔ اس پر وزیر چندرکانت پاٹل نے فوراً احکامات جاری کیے کہ آکولہ میں جلد از جلد ذیلی مرکز کے لیے مناسب زمین تلاش کی جائے اور اگر ممکن ہو تو کسی کالج میں عارضی طور پر یہ مرکز قائم کیا جائے۔اس پیش رفت کے ساتھ ہی آکولہ میں یونیورسٹی کے ذیلی مرکز کے قیام کی سمت واضح اور مضبوط قدم اٹھایا گیا ہے۔

اب تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اگلے مراحل شروع ہوں گے۔ رندھیر ساورکر نے کہا کہ یہ قدم ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور والدین کے لیے راحت کا باعث بنے گا اور پورے ودربھ کے تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔یونیورسٹی کے سست روی والے انتظامی نظام پر بھی رندھیر ساورکر نے اجلاس میں سخت ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے ذیلی مرکز کے قیام کی مانگ نظرانداز کی جاتی رہی، لیکن اب وزیر چندرکانت پاٹل کی سنجیدگی سے یہ مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے۔اب جب کہ آکولہ میں سنت گاڈگے بابا امراؤتی یونیورسٹی کے ذیلی مرکز کے قیام کی سمت عملی قدم اٹھایا جا رہا ہے، علاقے کے طلبہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، کیونکہ یہ مرکز نہ صرف تعلیمی سہولتوں کو قریب لائے گا بلکہ ودربھ کے تعلیمی ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گا

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!