احساس مروت اور انسانی جذبات کو موبائل اور انٹرنیٹ نے کچل دیا ہے۔پروفیسر حامد اشرف

موجودہ دور میں نئ نسل بالخصوص طلبہ و طالبات کمپیوٹر’ انٹرنیٹ’ موبائل ‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اے۔آئ کے زیر اثر اردوتہذیب و ثقافت کو بھول گئ ہے۔جس کی وجہ سے ان کے اخلاق و کردار متاثر ہوگئے ہیں ۔مروت اخوت خلوص ہمدردی’ ایثار و قربانی اور بھائ چارہ جیسے الفاظ اپنی اہمیت کھونے لگے ہیں۔اقبال نے بہت پہلے کہا تھا کہ: ہے دل کے لئے موت مشینوں کی زندگی
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی پروفیسر حامد اشرف صدر شعبہ اردو، مہاراشٹر اودگیری کالج اودگیر’ شنکر راؤ چوہان کالج اردھا پور ناندیڑ کی بزم اردو ادب کی ایک پر وقار تقریب میں کر رہے تھے۔جہاں کالج ہذا کے دیگر پروفیسرز اور طلبہ و طالبات کی کافی تعداد موجود تھی۔ تقریب کا آغاز کالج ہذا کے بانی شنکر راو چوہان کی تصویر پر بدست مہمانان پھول مالا سے ہوا۔
صدر شعبہ اردو ڈاکٹر جاگیردار عذرا نےافتتاحی کلمات پیش کیے۔ مہمانان کا تعارف حاضرین سے کرواتے ہوئے بزم اردو ادب کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔بعد ازاں طلبہ و طالبات کے دیواری رسالہ ” شعور ادب” کا اجراء عمل میں آیا۔بزم ہذا کے تحت منعقد شدہ علمی کوئیز کے علاوہ ذوق کتب بینی کے پروگراموں پر طلبہ و طالبات کی مساعی کو پروجیکٹر کے ذریعے پردہ سیمیں پر پیش کیا گیا۔زویا یشفین’ پٹھان مریم اور رمشا پٹھان نے اردو ادباء و شعراء کی تصاویر پر مشتمل البم اور اردو خطاطی کے بہترین نمونے آویزاں کئے تھے جن کا اجراء بدست مہمانان خصوصی پروفیسر حامد اشرف اور پروفیسر شیخ محبوب(صدر شعبہ اردو شیواجی کالج اودگیر)عمل میں آیا۔موخر الذکر پروفیسر نے اپنے خطاب میں اردو زبان کی تاریخ،اہمیت و افادیت اور اس کےعصری تقاضوں پر روشنی ڈالی اور طلبہ و طالبات کو حصول علم اور مشاہدہ علم کا مشورہ دیا۔
تقریب کے صدارتی خطاب میں انچارج پرنسپل ڈاکٹر شیٹوڈ (صدر شعبہ تاریخ) نے کہا کہ بزم اردو کے زیر اہتمام مزیدتقریبات منعقدکئے جائیں گے تاکہ طلبہ وطالبات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع مل سکے۔بی ایس سی سال دوم کی طالبہ پٹھان مریم نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔شکریہ ادائیگی کا فریضہ شعبہ اردو کی جز وقتی لکچرر ڈاکٹر شیخ زینت نے انجام دیا اور جلسہ اختتام پذیر ہوا۔




