اردو سا عشق اردو والوں سے بھی ہو

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
یومِ اقبال بنام یومِ عالمی اردو زبان.. ہر سال کی طرح اس سال بھی اردو داں طبقے نے اپنی بساط سے بڑھ کر اسے جوش و خروش، محبت و عقیدت کے ساتھ منایا۔ منانا بھی چاہیے، کہ اردو محض ہماری زبان نہیں بلکہ ہماری روح، شناخت اور تہذیب کا آئینہ ہے۔یہ وہ زبان ہے جو ہماری دینی زبان عربی کے قریب تر ہے، دینی علوم کی تفہیم میں معاون ہے اور ہمارے فکری و روحانی ورثے کو سمجھنے کا وسیلہ بھی۔
ہم اردو کو دل کی گہرائیوں سے مقدس و محترم سمجھتے ہیں،مگر ایک سوال بار بار ذہن میں اُبھرتا ہے..کیا جتنا ہم اردو سے محبت کرتے ہیں، اتنا ہی احترام اس کے علمبرداروں، سپاہیوں، قلمکاروں، صحافیوں اور فنکاروں کو دیتے ہیں؟
ہر سال تقاریب میں ہم اردو کی بقاء و فروغ کے عہد کرتے ہیں، مگر کیا کبھی ہم نے خود سے یہ سوال کیا کہ ہم نے اپنی زبان کے لیے کیا کیا؟ کیا ہم نے ان لوگوں کی کبھی حوصلہ افزائی کی، کیا ہم نے ان کی کتب خریدیں ،جو اپنی زندگیاں اردو کی خدمت میں صرف کر رہے ہیں؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اردو کے اصل خدمتگاروں، شعراء، ادباء، پبلیشرز، یوٹیوبرز، صحافیوں اور رسائل کے کارکنان، کا بھرپور تعاون کریں۔
کتابیں خریدیں، رسائل کی رکنیت لیں، مضامین پڑھیں اور ان پر داد دیں۔ یہی تعاون ان کے لیے حوصلہ افزائی کا زادِ راہ بنے گا، ان کی معیشت بہتر ہوگی تو ان کا قلم مزید تیز اور روشن ہوگا۔ کورونا وبا کے بعد اردو کے بہت سے سپاہی، صحافی، کاتب، کمپیوٹر آپریٹر، اخبار فروش اور قلمکار ، میدان سے دور ہوگئے۔ان کا اردو سے دور ہونا،خاموش ہوجا نا ہماری علمی و ادبی دنیا کے لیے ایک خسارہ ہے۔
ان کی واپسی، ان کی عزت، اور ان کا معاشی و اخلاقی سہارا، اردو کی بقاء کے لی ناگزیر ہے۔ لہٰذا آج کے دن ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ: اردو کو زندہ رکھنا ہے تو اردو والوں کو زندہ دل رکھنا ہوگا۔
اردو کے سپاہیوں کو عزت و مقام دینا ہی اردو کی اصل خدمت ہے۔
اردو کی خوشبو ہے دلوں میں بسی ہوئی،
اس بول کی حرمت سے ہی دنیا ہری ہوئی۔




