ایجوکشن

اردو کی شعری روایتوں کو فروغ دینا اہل اردو کی اولین ذمے داری۔ ڈاکٹر شیخ محمد صابر

لاتور(محمد مسلم کبیر)اردو شاعری خود بھی حسین ہوتی ہے اور حسن کی نمائندگی کرتی ہے۔اشعار کا یاد کرنا اور بیت بازی میں بر محل بولنا ذہانت اور فطانت کی عمدہ مثال ہے۔جس کا اندازہ آج منعقدہ مسلسل ایک گھنٹے کی بیت بازی سے ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی ڈاکٹر شیخ محمد صابر(صدر مدرس مولانا ابوالکلام آزاد اردو اور سیمی انگلش ہائ اسکول اودگیر)کر رہےتھے۔مہاراشٹرا اودے گيری مہاودلیہ اودگیر کے شعبہ اردو کے زیر اہتمام بیت بازی مقابلہ زیر صدارت پرنسپال ڈاکٹر راجکمار مسکے منعقد ہوا۔جس میں اردو یو۔جی اور پی۔جی کے طلبہ کثیر تعداد میں شریک تھے۔یہ اسکول کنیکٹ پروگرام کی پہلی کڑی تھی۔جس میں مولانا ابوالکلام آزاد اردو اورسیمی انگلش ہائ اسکول اودگیر کی دہم جماعت کے طلبہ وطالبات بطور خاص مدعو تھے۔

مقابلے میں جن طلبہ وطالبات نے مؤثر انداز میں اشعار پیش کرکے سامعین کے دل جیت لیے ان میں شیخ منتجب،شیخ عبد الرحیم،تمبولی رَضیہ، پٹھان ارشاد،پٹھان آسیہ،قریشی اَرسلان،ہاشمی زبیر، پٹھان واجد،باغبان سعدیہ، شیخ حِنامہوین، سیدہ صدف،شیخ جواد،شیخ نصرت،سیدہ نشاط، کوتوال اَمنہ،پٹھان نازیہ اور سیدہ صافیہ ہیں۔ مقابلہ بیت بازی کے آغاز میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر حامد اشرف نے بیت بازی کے اصول بتائے اور اسکول کنیکٹ پروگرام کا مقصد یہ بتایا کہ اردو طلباء میں شعر گوئ اور شعر فہمی عام ہو جائے۔

اس موقع پر اسٹیج پر موجود معززین میں وائس پرنسپل ڈاکٹر ایس.این. ہلّالے،پروفیسر ڈاکٹر ایم. پی.مانکری،پروفیسر ڈاکٹر ایس. اے. مُولے،پروفیسر ڈاکٹر ایس.جی.انصاری،پروفیسر ڈاکٹر جی.جی.جیولیکر،ڈاکٹر بی۔ایس بھکترے، ڈاکٹر ایس۔ایم۔سوریہ ونشی اور کتب خانہ اَفسر ڈاکٹر ایل. بی. پینسلوار شریک تھے۔ پروگرام میں شریک پرنسپال اور جز وقتی لکچررس آفرین فاطمہ،قریشی جہاں آرا اورمعزز مہمانوں نے طلبہ کی بھرپور ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کے اس عظیم ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچانا نہایت ضروری ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!