ایجوکشن

اردو گھر ناندیڑ انتظامیہ کی من مانی، اسکولوں کو ثقافتی پروگرام باہر منعقد کرنے پر مجبور

ناندیڑ (منور خان): مہاراشٹر کا پہلا اردو گھر جو ناندیڑ میں اردو زبان اور ثقافت کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا تھا، آج مقامی اردو اسکولوں کے لیے سہولت کے بجائے پریشانی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔ اسکول انتظامیہ نے الزام لگایا ہے کہ اردو گھر کے منیجر اور عملے کی من مانی کے باعث انہیں اپنے ثقافتی پروگرام دیگر سبھاگروں (ہالوں) میں منعقد کرنے پڑ رہے ہیں۔

یہ اردو گھر دیگلور ناکہ کے گنجان مسلم آبادی والے علاقے میں واقع ہے۔ اس ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اردو کے چاہنے والوں اور طلبہ کو ڈرامہ، غزل، مشاعرہ، تقریری مقابلے اور سالانہ ثقافتی پروگراموں کے لیے مناسب ہال دستیاب ہو سکے۔ لیکن اسکول ذمہ داران کے مطابق انہیں ہال دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور مختلف بہانے بنائے جاتے ہیں۔

اسکولوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اکثر یہ کہا جاتا ہے:“ہم اسکول پروگرام نہیں دیتے” یا “آپ کو الاٹمنٹ نہیں ہے، بعد میں خط (لیٹر) لے کر آئیں” جیسے جملوں کے ذریعے درخواستوں کو ٹال دیا جاتا ہے۔

دور دراز ہالوں میں پروگرام، اخراجات میں اضافہ : اردو اسکولوں کو اپنے پروگرام منعقد کرنے کے لیے 5 تا 6 کلومیٹر دور دیگر ہال بک کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف اسکولوں کے اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ والدین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے پروگرام دیکھنے کے لیے آٹو رکشا کا کرایہ ہی تقریباً 500 روپے تک ہو جاتا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے لیے بڑا بوجھ ہے۔

طلبہ کی سرگرمیاں متاثر :اساتذہ کے مطابق ثقافتی پروگرام طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں، مگر ہال کی عدم دستیابی کے باعث کئی اسکول پروگرام محدود کر رہے ہیں جبکہ کچھ اسکولوں کو مجبوراً مہنگے فنکشن ہالوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔

اسکولوں میں ناراضگی، انتظامیہ سے مطالبہ : اس معاملے پر اسکولوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ تعلیمی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اردو گھر انتظامیہ کے رویّے کا جائزہ لیا جائے اور ایسا نظام بنایا جائے کہ مستقبل میں اردو گھر ثقافتی پروگراموں کے لیے ہمیشہ دستیاب رہے۔

عوام کا کہنا ہے کہ اگر مقامی اسکولوں کو ہی سہولت نہ ملے تو ادارے کے قیام کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر ہال کا درست استعمال ہو تو سرکاری آمدنی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!