"اس وحشی کو شریعت کے مطابق سزائے موت دی جائے، بس کنڈکٹر پر بھی سخت کارروائی کا مطالبہ”

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن نے وزیر اعلیٰ کو ایک اہم محضر پیش کی ہے جس میں معاشرے کو جھنجھوڑ دینے والے دو سنگین معاملات پر فوری اور سخت کارروائی کے مطالبات کۓ گۓ ہیں۔فاؤنڈیشن نے اپنے مکتوب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے ترقی پسند مہاراشٹر ریاست میں خواتین اور نابالغ بچیوں پر ذیادتیاں، ظلم اور چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشرے بلکہ پورے صوبے کے لیے شرمناک ہے۔ ایسے گھناونے جرائم کرنے والے درندوں کے حوصلے دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج حالات یہ ہیں کہ مائیں بہنیں محفوظ نہیں رہیں اور مجرموں کو قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔
فاؤنڈیشن نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت ذیادتیوں کے مقدمات میں اسلامی شریعت کے مطابق مجرموں کو سزائے موت سنائے تو معاشرے میں ہیبت و خوف کا ماحول پیدا ہوگا اور آئندہ کوئی بھی درندہ ایسا غیر انسانی عمل کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ جہاں کہیں خواتین اور طالبات کا آنا جانا ہوتا ہے وہاں کام کرنے والوں کی پولیس کردار جانچ لازمی کی جائے۔ اسکول و کالج کی بسوں میں خاتون معاونہ (لیڈی اٹینڈنٹ) کی تقرری کی جائے اور ہر گاڑی میں جی پی ایس سسٹم نصب کرنا لازمی قرار دیا جائے۔اسی ضمن میں فاؤنڈیشن نے چوپڑا تعلقہ کے ایک واقعہ کو بھی جوڑا جس میں ایک بس کنڈکٹر نے محض پانچ سالہ طالب علم کو اس وجہ سے بارش کے دوران ویران جگہ پر اتار دیا کہ اس کا ماہانہ پاس ختم ہوگیا تھا۔ بچے کا گھر اس مقام سے تقریباً پانچ کلو میٹر دور تھا۔
اگر اس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آتا تو اس کی ذمہ داری کون لیتا؟ فاؤنڈیشن نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ کنڈکٹر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور آئندہ اس قسم کے غیر انسانی رویے کو روکنے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کو سخت ہدایات جاری کی جائیں۔یہ محضر سید نیاز علی بھیا فاؤنڈیشن کی جانب سے وزیر اعلیٰ کو ضلع کلیکٹر، جلگاؤں کے توسط سے پیش کی گئی۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے سید ایاز علی نیاز علی، حاجی شکور بادشاہ، شیخ جمیل، آصف شاہ، امان بلال، شیخ شفی، سید عرفان، کامل خان اور شیخ ارسلان وغیرہ موجود تھے۔




