“اقلیتی حقوق کے بغیر کوئی یومِ اقلیت نہیں” — ایکتا سنگھٹنا کا اعلان
"سچر و مشرا رپورٹس سردخانے کی نذر، 15 نکاتی پروگرام محض اعلانات؛ جلگاؤں میں احتجاجی مظاہرہ"

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی):
ایکتا سنگھٹنا تنظیم، جلگاؤں کی جانب سے ملک کے معزز وزیرِ اعظم اور مرکزی وزیرِ اقلیتی امور کے نام ایک سخت اور دوٹوک یادداشت ارسال کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی اقلیتی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کیے گئے ہیں۔ تنظیم نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ سچر کمیٹی (2006) اور جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن (2007) نے مسلم سماج کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کی تلخ حقیقت کو بے نقاب کیا تھا، مگر تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی سفارشات فائلوں میں دفن پڑی ہیں۔تنظیم کے مطابق وزیرِ اعظم کا 15 نکاتی اقلیتی فلاحی پروگرام زمینی سطح پر بے اثر ثابت ہوا ہے۔ تعلیم، روزگار، بینکاری، ترقیاتی منصوبوں اور خود روزگار کے میدان میں اقلیتوں کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ پا رہا۔
قومی و ریاستی اقلیتی کمیشنوں کو تعزیری اختیارات حاصل نہ ہونے کے باعث ناانصافیوں کا اندراج تو ہوتا ہے، مگر ان کا سدِّباب ممکن نہیں ہو پاتا۔ اسی سرکاری بے حسی، غیر سنجیدہ رویّے اور محض اعلانیہ وعدوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تنظیم نے 18 دسمبر 2025 کو منائے جانے والے “یومِ اقلیت” کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک حقوق ادھورے، انصاف ناپید اور دستور کی روح مجروح ہے، تب تک کسی جشن یا یومِ اقلیت منانے کا کوئی اخلاقی، آئینی اور جمہوری جواز نہیں۔
ضلع کلکٹر آفس کے باہر پُرامن مگر سخت احتجاج ۔یومِ اقلیت کی پیشگی شام ضلع کلکٹر دفتر کے باہر یکجہتی تنظیم کے مرد و خواتین کارکنان نے پُرامن مگر مؤثر احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔تنظیم کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا: “ہم بھی مکمل بھارتی شہری ہیں اور ہمیں دستورِ ہند کے تحت مساوی حقوق درکار ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ جاری ناانصافی اور منظم امتیاز فوری طور پر بند کیا جائے۔ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیشن اور وزیرِ اعظم کے 15 نکاتی پروگرام کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے، بصورتِ دیگر یومِ اقلیت کا بائیکاٹ جاری رہے گا۔”
تنظیم کے ٹھوس اور دستوری مطالبات ۔سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو قانونی طور پر لازمی اور قابلِ نفاذ بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم 15 نکاتی پروگرام کا ریاستی و ضلعی سطح پر آزاد آڈٹ کرایا جائے۔ اقلیتی اکثریتی علاقوں کے لیے خصوصی مرکزی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ قومی و ریاستی اقلیتی کمیشنوں کو تعزیری اور لازمی کارروائی کے اختیارات دیے جائیں۔
تعلیم، روزگار اور بینکاری سے متعلق اقلیتی ڈیٹا کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے۔اقلیتی اسکیموں کی رقوم کے انحراف اور غلط استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ میمورنڈم پیش۔ تنظیم کی جانب سے غفران شیخ نے اسسٹنٹ کلکٹر شری وجے کمار ڈھگے کو باضابطہ یادداشت پیش کی۔
اس موقع پر عبدالمولانا رحیم پٹیل، مولانا قاسم ندوی، مولانا انور صیقلگر ، یوسف پٹھان، ایڈوکیٹ عامر شیخ، آویش شیخ، عارف دیشمکھ، انیس شاہ، چراغ الدین شیخ، سید عرفان، مولانا متین، وسیم شیخ، ذکی پٹیل سمیت بڑی تعداد میں مرد و خواتین کارکنان موجود تھے۔ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے اب بھی ٹھوس، وقت بند اور نتیجہ خیز اقدامات نہیں کیے تو یکجہتی تنظیم دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست گیر اور ملک گیر شدید جمہوری تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی۔




