اسلامی

الحمد اکیڈمی کی جانب سے منعقد کردہ نقوشِ حرمین نمائش علم، عقیدت اور تربیت کا حسین امتزاج

(سید آصف ندوی )
گزشتہ ہفتہ شہرِ ناندیڑ کے معروف تعلیمی ادارے الحمد اکیڈمی کی جانب سے نقوشِ حرمین کے عنوان سے ایک نہایت ہی روح پرور، ایمان افروز اور علمی نمائش منعقد کی گئی، جو اپنی نوعیت، اسلوب اور مقصد کے اعتبار سے بلاشبہ ایک منفرد، معیاری اور یادگار کاوش تھی۔ ایسی نمائشیں صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ دلوں میں عقیدت، ذہنوں میں شعور اور نسلِ نو کے اندر اپنی تہذیبی و دینی شناخت کا احساس بھی بیدار کرتی ہیں۔

اگرچہ یہ نمائش ایک ہفتہ قبل منعقد ہو چکی تھی، مگر پربھنی، دیگلور، اورنگ آباد کے اسفار اور دیگر مصروفیات کے باعث اس پر بروقت اظہارِ خیال ممکن نہ ہو سکا۔ آج جب اچانک موبائل میں اس نمائش کی چند تصاویر نظر سے گزریں تو دل نے گواہی دی کہ ایسی محنت، ایسا اخلاص اور ایسی تعلیمی بصیرت محض دیکھنے کی نہیں بلکہ قلم بند کیے جانے کی حق دار ہے۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ الحمد اکیڈمی ایک پرائمری سطح کا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں صرف ساتویں جماعت تک کے طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، اس کے باوجود چوتھی تا ساتویں جماعت کے طلبہ نے جس سنجیدگی، فہم اور سلیقے کے ساتھ اسلامی مقدس مقامات کے ماڈلز تیار کیے اور ان کی تاریخ و اہمیت کو پیش کیا، وہ بڑے بڑے اداروں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔

خانۂ کعبہ، صفا مروہ، مقامِ ابراہیم، مسجدِ حرام، مسجدِ نبوی ﷺ، مسجدِ عائشہ اور دیگر مقدس مقامات کے ماڈلز نہ صرف فنّی مہارت کا مظہر تھے بلکہ ان کے ساتھ طلبہ کی جانب سے ان مقامات کی بتدریج تاریخی ارتقا، مختلف ادوار کی تبدیلیاں اور موجودہ دور میں ہونے والی توسیع و ترقی کا بیان اس نمائش کو محض ایک تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل علمی و تربیتی تجربہ بنا رہا تھا۔
سب سے زیادہ مسرّت بخش پہلو یہ تھا کہ یہ پورا تعارفی و توضیحی عمل خود طلبہ انجام دے رہے تھے۔ ان کے اندازِ بیان میں اعتماد، زبان میں روانی اور معلومات میں ترتیب نمایاں تھی، جو اساتذہ کی محنت، رہنمائی اور مخلصانہ تربیت کا واضح ثبوت ہے۔ نمائش میں شریک اساتذہ، سرپرستوں اور دیگر حاضرین کے تاثرات نہایت مثبت، حوصلہ افزا اور مسرت آمیز تھے، اور ہر زبان پر اس کا اعتراف تھا کہ یہ کوشش واقعی منفرد اور معیار کے اعتبار سے اعلیٰ ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ الحمد اکیڈمی نے اس نمائش کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت صاف ہو، رہنمائی مخلص ہو اور تعلیم کو محض نصاب تک محدود نہ رکھا جائے تو کم عمر طلبہ بھی بڑے کام انجام دے سکتے ہیں۔ یہ کوشش نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ دیگر مدارس و تعلیمی اداروں کے لیے ایک روشن مثال بھی ہے۔
آخر میں میں دل کی گہرائیوں سے الحمد اکیڈمی کے ذمہ دارِ اعلیٰ جناب عبدالحق صاحب، تمام اساتذۂ کرام اور ان ننھے مگر باصلاحیت طلبہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو مزید ترقی، قبولیت اور دوام عطا فرمائے، اور اسے علم و عمل کا ایک مضبوط مرکز بنائے۔آمین یا رب العالمین۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!