اہلیہ نگر میں کانگریس ضلع صدر سچن گُجر کا اغوا اور تشدد — انتخابی موسم میں خطرناک سیاسی ہلچل
سی سی ٹی وی میں پوری واردات ریکارڈ، چار مشتبہ افراد حراست میں — ضلع میں کشیدگی، سیاست میں بھونچال


احمد نگر ،26؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ) احمد نگر ضلع کے شری رام پور میں آج صبح ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ اہلیہ نگر میں کانگریس کے ضلعی صدر سچن گُجر کے اغوا اور ان پر کیے گئے تشدد نے پورے ضلع ہی نہیں بلکہ ریاستی سیاست میں بھی شدید ہلچل مچا دی ہے، جبکہ مقامی خود حکمرانی کے اداروں کے انتخابات کی گہماگہمی کے دوران پیش آنے والے اس واقعے نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے۔ جمعرات کی صبح سچن گُجر معمول کے مطابق واک کے لیے گھر سے نکلے تھے کہ شری رام پور علاقے میں ایک سفید کار میں
سوار چند افراد نے انہیں راستے میں روک کر زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں پوری واردات واضح طور پر ریکارڈ ہوئی ہے جس میں ملزمان کی حرکات صاف نظر آتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملزمان نے گاڑی میں لے جا کر سچن گُجر پر بے رحمانہ تشدد کیا، ان کا موبائل فون توڑ دیا تاکہ وہ کسی سے رابطہ نہ کر سکیں، اور پھر شہر سے دور ایک ویران مقام پر انہیں زخمی حالت میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ کچھ دیر بعد مقامی شہریوں نے سچن گُجر کو سڑک کنارے دیکھا، مدد کی اور متعلقہ افراد کو اطلاع دی، جس کے بعد انہیں
فوری اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس واردات نے ضلع میں خوف اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے اور کانگریس کارکنان سراپا احتجاج ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ اس حملے کے پیچھے کچھ ہندوتوا تنظیموں سے وابستہ افراد کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے، اگرچہ پولیس نے تاحال اس الزام کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اس واقعے کے بعد ضلع میں سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کانگریس کے شری رام پور کے ایم ایل اے ہمنت اوگلے، زخمی سچن گُجر اور بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان پولیس اسٹیشن پہنچے اور باضابطہ شکایت درج کرائی۔ کانگریس کے
ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے اس سانحے کو ’’جمہوریت پر حملہ‘‘ قرار دیا اور فوری طور پر شری رام پور روانہ ہو گئے۔ اسی دوران سینیئر رہنما وجے ودتیوار نے حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی اور کہا کہ انتخابی موسم میں مخالفین پر حملے انتہائی تشویشناک ہیں، نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن سیاسی رہنما پر حملہ ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا، پولیس اور محکمہ? داخلہ مکمل ناکام ہو چکے ہیں، لہٰذا ملزمان کی فوری گرفتاری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات ضروری ہیں۔ پولیس نے معاملے کی حساسیت دیکھتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے۔ تازہ ترین

اطلاعات کے مطابق چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ جاری ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش مزید آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ہر زاویے سے جانچ کی جا رہی ہے اور یہ بھی تحقیق کا حصہ ہے کہ آیا واقعہ سیاسی دشمنی یا منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ شہر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور انتخابی ماحول کے پیشِ نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ سچن گُجر پر حملے کے بعد ضلع بھر میں عدمِ تحفظ کا احساس گہرا ہو چکا ہے اور سیاسی
حلقوں میں اس بات پر بحث تیز ہے کہ حملے کا اصل محرک کیا تھا اور کیا یہ انتخابی سرگرمیوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش تھی۔ اہلیہ نگر جیسے حساس ضلع میں انتخابی موسم کے دوران ایک پارٹی کے ضلعی صدر کا اغوا اور تشدد ریاست کی سیاست میں بھونچال پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ جب تک ملزمان گرفتار نہیں ہوتے اور پوری سچائی سامنے نہیں آتی، وہ چین سے نہیں بیٹھے گی جبکہ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ معاملہ ہرگز دبایا نہیں جائے گا اور جلد حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے۔ یہ واقعہ نہ صرف انتخابی ماحول کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتا ہے بلکہ ریاست میں قانون و انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔




