“ایمانداری کی جیت؛ پاچورا کے دو چراغوں نے اقدار کو پھر زندہ کر دکھایا!”
"اینگلو اردو ہائی اسکول کے طلبہ نے گم شدہ موبائل واپس کر کے مثال قائم کردی".

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
پاچورا شہر کی پرسکون دوپہر، تاریخ 08 دسمبر 2025… کھانے کے وقفے کے بعد اینگلو اُردو ہائی اسکول کے دو معصوم مگر باوقار طلبہ حذیف شیخ خلیل اور ارباز ذاکر منیار،اپنے معمول کے مطابق اسکول آرہے تھے کہ اچانک انہیں راستے میں ایک قیمتی موبائل فون ملا۔ مگر… کیا خوب تربیت پائی ہوئی تھی ان دو ننھے چراغوں نے!

جہاں اکثر بزرگ بھی آزمائش میں پڑ جائیں، وہاں ان دو طلبہ کے دلوں میں ایمانداری نے فوراً سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہونا قبول کر لیا۔
نہ لمحہ بھر کی لالچ،نہ کوئی تردد، نہ کوئی اندیشہ، فوراً ہی دونوں نے اس موبائل فون کو اپنے استاد جناب اظہر خان کے حوالے کر دیا۔ اس وقت صدرمدرس شعیب احمد اور دیگر معزز اساتذہ اسٹاف روم میں موجود تھے۔ یہ منظر دیکھ کر ان کے چہروں پر خوشی، فخر اور روحانی سکون کی لہر دوڑ گئی۔ سب نے دل کی گہرائیوں سے بچوں کو مبارکباد دی۔ اسی دوران موبائل کا مالک بےچینی میں فون کرتا ہے…
اسٹاف روم سے اسے جواب ملتا ہے: “آپ کا موبائل مکمل طور پر محفوظ ہے، آئیے لے جائیے!” کیا روح پرور لمحہ تھا جب موبائل کا مالک اسکول پہنچا اور دو معصوم ہاتھوں نے مسکراتے ہوئے وہ فون اسے لوٹا دیا۔ دل پگھل گئے، آنکھیں نم ہوگئیں، اور فضا محبت، شکر اور خوشی سے بھر گئی۔ یہ دونوں طلبہ حذیف اور ارباز، صرف ایک موبائل فون واپس نہیں کر رہے تھے… بلکہ وہ پورے معاشرے کو ایک خاموش مگر گونج دار پیغام دے رہے تھے: “اقدار اب بھی زندہ ہیں…
ایمان داری آج بھی زندہ ہے!”اینگلو اردو ہائی اسکول کے یہ طلبہ اب صرف طلبہ نہیں رہے۔
یہ پورے اسکول، اپنے والدین، اپنے اساتذہ اور اپنے شہر پاچورا کا فخر بن چکے ہیں۔ ان کی ایمانداری، ذمہ داری اور اعلیٰ اخلاق آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔




