مضامین

ایپسٹین فائلزمعصومیت کا قتل، تہذیبی زوال اوراقامۂ عدل

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

ایپسٹین اسکینڈلز جیسے ہولناک تعفن زدہ اور دل دہلا دینے والے واقعات کے تناظر میں اسلام کا نقطۂ نظر محض ایک اخلاقی وعظ نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی اور قانونی تصور پیش کرتا ہے جس کی بنیاد تکریمِ انسانیت اور تحفّظِ مظلوم پر قائم ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کو اللّٰہ تعالیٰ کی مخلوق میں ایک خاص مقام عطاء کرتے ہوئے اعلان کیا: "وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ” یعنی ہر انسان، بلا تفریق، عزّت و حرمت کا حامل ہے۔ اس تکریم میں عمر، جنس، نسل یا سماجی حیثیت کی کوئی قید نہیں؛ بلکہ کمزور، یتیم اور بے سہارا افراد کو تو خصوصی تحفّظ اور رعایت کا حق دیا گیا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بچّوں کی حرمت اور حفاظت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ نبی اکرمﷺ کی سیرت میں بچّوں کے ساتھ شفقت، احترام اور محبت کا جو عملی نمونہ ملتا ہے، وہ انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ آپﷺ نے نہ صرف ان کے حقوق کی پاسداری کی، بلکہ معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ طاقت کا معیار دوسروں پر غلبہ نہیں بلکہ کمزوروں کے لیے ڈھال بننا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ شریعتِ اسلامی کے مقاصد (مقاصدِ شریعت) میں حفظُ النفس اور حفظُ النسل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جان، عزّت، نسل اور عفت کا تحفّظ ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔ کسی بھی کمسن فرد کے ساتھ جنسی یا جسمانی استحصال نہ صرف ایک سنگین جرم ہے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ایک عظیم گناہ اور معاشرتی فساد ہے۔ قرآن ایسے جرائم کو فساد فی الارض کے زمرے میں شمار کرتا ہے، اور فساد کے بارے میں اسلامی قانون کی سختی کسی سے مخفی نہیں۔

اسلامی نظامِ عدل کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہاں قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر ان کی اپنی بیٹی بھی جرم کی مرتکب ہو تو قانون کی گرفت سے مستثنیٰ نہ ہوگی۔ یہ اعلان دراصل اس بات کی بنیاد ہے کہ اثر و رسوخ، دولت یا سیاسی طاقت کسی کو انصاف سے بالا تر نہیں بنا سکتی۔ احتساب کی یہی غیر جانب دارانہ روح اسلامی معاشرت کا امتیاز ہے۔ اسی طرح اسلام متاثرین کی داد رسی اور ان کی عزتِ نفس کی بحالی کو بھی مرکزی اہمیت دیتا ہے۔ ظلم سہنے والے کی فریاد سننا اور اسے سہارا دینا محض قانونی تقاضا نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔ قرآن مظلوم کی دعا کو اللّٰہ کے ہاں مقبول قرار دیتا ہے، اور ظالم کے انجام سے خبردار کرتا ہے۔ اس تناظر میں ہر وہ نظام جو مظلوم کی آواز کو دبائے یا طاقتور مجرم کو تحفظ دے، اسلامی عدل کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا۔

چنانچہ ایسے واقعات صرف انفرادی بدکرداری نہیں بلکہ اجتماعی اخلاقی زوال کی علامت ہوتے ہیں۔ اسلام اس زوال کا علاج محض سزا میں نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، احتساب اور سماجی شعور کی بیداری میں دیکھتا ہے۔ عدل کا قیام، کمزوروں کا تحفظ اور طاقت کے ناجائز استعمال کی بیخ کنی یہی وہ اصول ہیں جو اسلامی نقطۂ نظر کو ایک ہمہ گیر اور انسان دوست ضابطہ بناتے ہیں۔ اس پس منظر میں جب ہم کسی بھی ایسے معاملے کا جائزہ لیتے ہیں جہاں معصوم جانیں استحصال کا شکار ہوئی ہوں، تو اسلامی تعلیمات ہمیں واضح سمت دکھاتی ہیں: نہ مصلحت، نہ مداہنت، نہ طاقت کا لحاظ بلکہ غیر مشروط اور بے لاگ عدل۔ کیونکہ عدل ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح تہذیب قائم رہ سکتی ہے، اور اسی کے بغیر انسانی وقار کا تحفّظ ممکن نہیں۔

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلوں کے کروڑوں صفحات، ہزاروں ویڈیوز اور تصاویر منظرِ عام پر لائے جانے کے بعد جو حقائق سامنے آئے ہیں، انہوں نے نہ صرف ایک فرد کے جرائم کو بے نقاب کیا ہے بلکہ اُس پیچیدہ اور منظم نظام کی پرتیں بھی کھول دی ہیں جس میں طاقت، سرمایہ اور سماجی رسوخ ایک دوسرے سے گتھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ معاملہ کسی ایک شخص کی اخلاقی گراوٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اُس اجتماعی ڈھانچے کی نشان دہی کرتا ہے جہاں احتساب کے ادارے کمزور پڑ جاتے ہیں اور اثر و نفوذ رکھنے والے عناصر قانون سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ حقیقت کہ بچّوں جیسے معصوم اور بے دفاع طبقے کو منظم انداز میں استحصال کا نشانہ بنایا گیا، انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہے۔ تاریخِ انسانی میں طاقت کا ناجائز استعمال کوئی نئی بات نہیں، مگر جب یہ طاقت کمسن جانوں کی حرمت کو پامال کرے تو مسئلہ صرف جرم کا نہیں رہتا، بلکہ تہذیبی زوال کی علامت بن جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی صحت کا معیار اس بات سے متعین ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد خصوصاً بچّوں کو کس حد تک تحفّظ فراہم کرتا ہے۔ اگر یہی طبقہ محفوظ نہ رہے تو ترقی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔

اس معاملے کی سنگینی اس پہلو سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس میں بااثر شخصیات، مالیاتی طاقت کے مراکز اور سماجی حلقوں کی ممکنہ شمولیت کی بات سامنے آتی ہے۔ جب انصاف کے تقاضے سیاسی یا معاشی مفادات کی نذر ہونے لگیں تو قانون کی عمل داری محض ایک رسمی اصطلاح بن کر رہ جاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ریاستی اداروں کی شفافیت، عدالتی خود مختاری اور آزاد صحافت کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ اگر سچائی کو دبایا جائے، ناموں کو مخفی رکھا جائے یا تحقیقات کو محدود کر دیا جائے تو یہ نہ صرف متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک خطرناک مثال بھی قائم کرے گی۔

اخلاقی اور فکری سطح پر یہ معاملہ جدید تہذیب کے اُس تضاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے جہاں ایک طرف انسانی حقوق، آزادی اور مساوات کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، اور دوسری طرف طاقت کے ایوانوں میں انسانی حرمت کی سنگین پامالی وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اس تضاد کا سنجیدہ تجزیہ ضروری ہے۔ محض جذباتی ردِعمل یا وقتی غم و غصّہ کافی نہیں؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانونی ڈھانچوں کو مضبوط بنایا جائے، بچّوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر میکانزم تشکیل دیے جائیں، اور سماجی سطح پر ایسی آگاہی پیدا کی جائے جو کسی بھی قسم کے استحصال کے خلاف صفر برداشت (Zero Tolerance) کا رویہ اختیار کرے۔

مزید برآں، متاثرین کی بحالی، نفسیاتی معاونت اور سماجی قبولیت کو بھی مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔ اکثر ایسے واقعات میں اصل متاثرین خاموشی، خوف یا سماجی دباؤ کے باعث سامنے نہیں آ پاتے۔ ایک ذمّہ دار معاشرے کا تقاضا ہے کہ وہ انہیں انصاف کے حصول میں ہر ممکن سہارا فراہم کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ ان کی شناخت اور وقار محفوظ رہے۔

یہ معاملہ صرف ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ ایک تہذیبی امتحان ہے۔ اگر سچ پوری دیانت کے ساتھ سامنے آتا ہے، اگر کوئی نام محض اثر و رسوخ کی بنیاد پر محفوظ نہیں رہتا، اور اگر ہر مجرم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملتی ہے، تو یہ انصاف کی بالادستی کی علامت ہوگا۔ بصورتِ دیگر، یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بن کر رہے گا کہ طاقت اور دولت جب اخلاقی قدروں سے عاری ہو جائیں تو وہ معاشرے کی بنیادوں کو ہلا سکتی ہیں۔ ایسے جرائم میں مصلحت، مصالحت یا معافی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ یہاں صرف ایک اصول کارفرما ہونا چاہیے "عدل”۔ کیونکہ انصاف ہی وہ ستون ہے جس پر انسانی تہذیب کی بقاء اور وقار قائم رہ سکتا ہے۔

اسلامی و نظریاتی اعتبار سے اس پورے معاملے کا اختتام محض عدالتی فیصلے پر نہیں ہوتا، بلکہ ایک ہمہ گیر احتساب پر منتج ہوتا ہے۔ ایسا احتساب جو فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں کو اپنی گرفت میں لے۔ اسلام کا تصورِ عدل صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں بلکہ وہ دلوں کی اصلاح، نیتوں کی تطہیر اور اجتماعی نظام کی تطبیق تک پھیلا ہوا ہے۔ قرآن کا اصول ہے: "إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ” عدل محض اختیار نہیں، خدائی حکم ہے؛ اور اس حکم سے روگردانی دراصل ایک اخلاقی بغاوت ہے۔ ایسے جرائم، جن میں معصوم جانوں کی حرمت پامال ہو، اسلامی فکر میں صرف فوجداری مسئلہ نہیں بلکہ امانتِ الٰہی میں خیانت ہے۔ بچّے معاشرے کے سپرد کردہ امانت ہیں؛ ان کی عصمت، ان کی نفسیاتی سلامتی اور ان کا مستقبل، سب ایک مقدس ذمّہ داری ہے۔ جو نظام اس امانت کی حفاظت میں ناکام ہو جائے، وہ اپنی تہذیبی اساس کھو دیتا ہے۔ اسلام اسی لیے فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ نظام کی تطہیر پر زور دیتا ہے کیونکہ ظلم اکثر انفرادی خواہش سے نہیں بلکہ اجتماعی غفلت اور ادارہ جاتی کمزوری سے جنم لیتا ہے۔

اسلام اس حقیقت کو بھی واضح کرتا ہے کہ طاقت بذاتِ خود کوئی قدر نہیں؛ قدر اس کے استعمال میں ہے۔ اگر طاقت کمزور کے تحفّظ کے لیے نہ ہو تو وہ فتنہ بن جاتی ہے۔ اسی لیے اسلامی ریاست کے بنیادی فرائض میں اقامۂ عدل اور رفعِ ظلم کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اثر و رسوخ، دولت یا سیاسی مفاد اگر قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بن جائیں تو یہ صرف قانونی بحران نہیں بلکہ نظریاتی شکست ہے۔ اسلامی اصول کے مطابق حاکم اور محکوم، امیر اور غریب، سب ایک ہی میزان میں تولے جاتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدل صرف سزا کے نفاذ سے مکمل نہیں ہوتا۔ عدل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب مظلوم کی بحالی ہو، اس کا اعتماد لوٹے، اور معاشرہ اس کے زخموں پر مرہم رکھے۔ اسلامی معاشرت میں تکافل اور رحمت اسی لیے بنیادی اقدار ہیں۔ ظلم کے خلاف سختی اور مظلوم کے ساتھ نرمی یہ دونوں مل کر عدل کا متوازن چہرہ تشکیل دیتے ہیں۔

ایسے واقعات انسانیت کے لیے تنبیہ ہیں۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب کی اصل بنیاد عمارتوں، معیشت یا ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اخلاقی استحکام میں ہے۔ جب اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جائیں تو طاقت کا ارتکاز فساد کو جنم دیتا ہے۔ اسلام اس فساد کا علاج ایمان کی بیداری، قانون کی بالادستی اور اجتماعی ذمّہ داری کے شعور میں دیکھتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک محفوظ اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں عدل کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی نصب العین بنانا ہوگا۔ ہر وہ آواز جو مظلوم کے حق میں اٹھے، اسلامی تعلیمات کے مطابق عبادت کے درجے میں ہے؛ اور ہر وہ ہاتھ جو ظلم کو روکے، وہ خیرِ امت کی علامت ہے۔ یہی وہ نظریاتی پیغام ہے جو ایسے سانحات کے بعد ہمیں اختیار کرنا چاہیے کہ عدل سے کوئی بالا تر نہیں، اور انسانی حرمت ہر حال میں مقدم ہے۔ کیونکہ بالآخر، طاقت ماند پڑ جاتی ہے، دولت فنا ہو جاتی ہے، مگر عدل کا اصول باقی رہتا ہے اور اسی پر تہذیبوں کی بقاء کا دار و مدار ہے۔

🗓 (10.02.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!