مہاراشٹرا

“اے اہلِ مہرون! تو کب تک یہ لاشیں ڈھوتا رہے گا ؟

"بجلی کمپنی کی غفلت، قیادت کی خاموشی اور عوام کا ابھرتا ہوا غصہ مسائل اپنی انتہا کو چھو گئے‌۔”

عقیل خان بیاولی، جلگاؤں:
مہرون کا قدیم اور گنجان علاقہ ابھی تین تین علمائے دین کی دلخراش تدفین کے غم سے سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسی بستی پر ٣٣ کے وی ہائی وولٹیج تاروں نے ایک بار پھر قیامت ڈھا دی قبروں کی مٹی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ پیر ٨, دسمبر کی رات اشوک کرانہ چوک رضا کالونی میں مرمت شدہ تار دوبارہ کٹ کر گر پڑا،اور اس بار موت بال بال بچی۔ واقعات کے مطابق بجلی کمپنی نے ٢ دنوں قبل عوامی دباؤ کے بعد اعلان کیا تھا کہ 8 دسمبر تک تمام ہائی وولٹیج تاروں کی مرمت، کوٹنگ اور درستگی مکمل کردی جائے گی۔ محکمہ کے ٹھیکہ دار و انجینئروں نے علاقہ مکینوں کے سامنے کلیئرنس دے کر یقین دہانی کروائی کہ اب مزید خطرہ نہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اسی رات ٩ سے ٩؛٣٠ بجے کے درمیان “مرمت شدہ” تار دوبارہ ٹوٹ کر ایک موٹر سائیکل پارک کرنے والے شخص شیخ سلیم اور اس کے دو کم سن بچوں پر گر گئی۔

اللہ کا خاص فضل نہ ہوتا تو ایک اور جنازہ تیار تھا۔ سولہ سالہ نوجوان عمیر شیخ سلیم شدید جھلس گیا جسے فوراً خانگی اسپتال منتقل کیا گیا۔ کیا یہ محکمۂ بجلی کی نااہلی ہے…؟ سوال یہ ہے کہ جس تار کو “مکمل درست” قرار دیا گیا، وہ چند گھنٹے بھی نہ چل سکی؟ کیا یہ تکنیکی ناکامی تھی یا غیر ذمہ دارانہ کام؟ عوام کا کہنا ہے کہ یہ واحد حادثہ نہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی ہائی وولٹیج تاریں اقصیٰ نگر ،تانبہ پور ،سالار نگر،رامیشور کالونی، قدیم مہرون میں گھروں کے اوپر، گلیوں اور چوراہوں کے بیچ لٹکتی ہوئی موت کا سایہ بنی ہوئی ہیں۔ بارش کے دنوں میں ان تاروں کی گرج چمک کھڑکیوں تک پہنچتی ہے۔ مہرون کے شہریان گلیاں کیا، اپنے گھروں میں بھی خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔۔ قیادت کہاں ہے؟ خاموشی کیوں ہے؟

اہم سوال قیادت پر بھی اٹھ رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہر نیا حادثہ کچھ دن کی نعرے بازی، میمورنڈم اور وعدوں کے بعد پھر خاموشی میں دفن ہوجاتا ہے۔ 2017 کے حادثات سے اب تک محکمۂ بجلی نے سٹیک وعدے ضرور کیے، لیکن زمینی سطح پر بہت کم تبدیلی آئی۔ علاقے کے لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ: "قیادت موجود ضرور ہے… مگر عملی طور پر نہ ہونے کے برابر!” مہرون: روزانہ کے خطرات میں جکڑا ہوا علاقہ بن گیا ۔ قومی شاہ راہ کے دونوں جانب گنجان آبادی، اسکول، اسپتال، کالجز، مدارس، مساجد سب ہائی وے کے پار۔ انڈر پاس کا شدید فقدان۔ گڈھوں سے بھری سڑکیں, رکشہ ڈرائیور بستی میں داخل ہونے سے کتراتے ہیں، یہ سب مل کر مہرون کی زندگی کو درد، خطرات اور بے بسی کا مجموعہ بنا رہے ہیں۔ عوام کا ابھرتا ہوا اعلان: “اب عمل ضروری ہے!” حادثات کی طویل تاریخ اور بڑھتے ہوئے نقصانات کے بعد عوام میں اضطراب واضح ہے۔
بستی کا نوجوان، بزرگ، خواتین ،سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں:

“کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں؟ کب تک وعدوں پر چلتے رہیں؟”عوامی رائے یہ ہے کہ اب صرف ایک ہی راستہ بچا ہے: اتحاد!
اختلافات اپنی جگہ، مگر بستی کا اجتماعی مستقبل اس وقت اتحاد کا طلبگار ہے۔ مرکزی قیادت کا ہے۔ہائی وولٹیج تاریں ہٹوانا ہو، انڈر پاس کی تعمیر کروانی ہو، یا بنیادی حقوق اب وقت ہے کہ ایک متحد تحریک کے ذریعے آواز بلند کی جائے۔ مہرون جلگاؤں اس وقت فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ یا تو یہ سلسلہِ حادثات یوں ہی چلتا رہے گا… یا پھر عوام ایک ہوجائیں گے، اور وہ دن دور نہیں جب ان کے دستوری حقوق چھین کر نہیں حاصل کرکے ملیں گے۔ اب فیصلہ اہلِ مہرون جلگاؤں کے ہاتھ میں ہے۔مورخہ ٩ دسمبر کو ایکتا سنگھٹنا کے فاروق شیخ ایم آئی ایم کے سابق کارپوریٹر ریاض باغبان کانگریس کے سلیم انامدار،متین پٹیل ،ضیاء باغبان ، مشتاق بادلی والا وسیم ریاض وسیم چاند وغیرہ شامل تھے اس وفد نے بجلی کمپنی کے افسران سے ملاقات کی اس موقع پر فاروق شیخ و ریاض باغبان نے محکمۂ کو تین دن کا نوٹس دیا اور واضح طور پر مطالبات رکھے۔ان مطالبات کی حصول یابی کے لیے ہمیں اتحاد کی قوت درکار ہے ۔۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!