مضامین

اے بنت حوا تیرا زیور ہےحیاعنوان سے ہنگولی میں اجتماع عام کا کامیاب انعقاد

(صباء فردوس ہنگولی) الحمدللہ! گرلز اسلامک آرگنائزیشن، اور حلقہ خواتین جماعت اسلامی ہند ہنگولی کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا یومِ حیا کا پروگرام نہایت کامیابی، اور اثر انگیزی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں کم و بیش 400 خواتین و طالبات نے بھرپور اور پرجوش شرکت کی۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز اِرم بنتِ رحیم (ممبر GIO)کی تذکیر بالقرآن سے ہوا۔بعد ازاں صباء فردوس (صدر GIO، ہنگولی) نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ جس میں موجودہ فتنہ انگیز حالات میں حیا کی ضرورت، مغربی تہذیب کے فکری حملوں اور اسلامی اقدار کے تحفظ کی اہمیت کو واضح کیا گیا ساتھ ہی جماعتِ اسلامی ہند حلقہ خواتین اور گرلز اسلامک آرگنائزیشن کے مقصد، فکر اور جدوجہد کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا، تقاریر کے سلسلے میں سب سے پہلے محترمہ شبانہ باجی (ضلعـی ناظمہ، ہنگولی) نے استقبالِ رمضان کے موضوع پر مدلل خطاب فرمایا۔

آپ نے رمضان کو محض عبادات کا مہینہ نہیں بلکہ مکمل اصلاحِ نفس کا موقع قرار دیتے ہوئے خواتین کو عملی تیاری کی جانب متوجہ کیا۔اس کے بعد محترمہ کوثر صالحہ باجی (صدرِ معلمہ ام سلمہ للبنات هنگولی) نے حیا کے موضوع پر نہایت سنجیدہ اور اثرانگیز اظہارِ خیال کیا۔ آپ نے حیا کو عورت کی شناخت اور طاقت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ حیا ہی وہ حصار ہے جو عورت کو فکری و اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھتا ہے۔پروگرام کا ایک نہایت مؤثر، فکرانگیز اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا حصہ GIO ٹیم کی جانب سے پیش کیا گیا رول پلے تھا، جس میں موجودہ معاشرے میں محرم و نامحرم کی تمیز کے مٹتے ہوئے شعور، غیر شرعی محبت، آزادی کے نام پر پھیلائی جانے والی بے حیائی کو نہایت حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا۔

اس پیشکش کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ ہر مرحلے پر قرآنِ کریم کی آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سامنے رکھا گیا، پروگرام کا اختتامی خطاب معروف عالمہ، ماہرِ نفسیاتِ اطفال اور اسسٹنٹ نیشنل سیکریٹری، جماعتِ اسلامی ہند، محترمہ مبشّرہ فردوس باجی نے بعنوان”اے بنتِ حوا! تیرا زیور ہے حیا” پیش فرمایا۔آپ نے موجودہ سماجی حالات، بڑھتے ہوئے فتنوں اور دورِ حاضر کے فکری و اخلاقی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ خصوصی طور پر آپ نے ماؤں کی ذمہ داریوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت دراصل امت کی تعمیر ہے، اور باحیا، باکردار نسل کی پرورش ہی ایک مضبوط اور صالح معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔ محترمہ مبشّرہ فردوس باجی نے اپنی نہایت بصیرت افروز اور فکر کو جھنجھوڑ دینے والی تقریر میں عصرِ حاضر کے سنگین سماجی و اخلاقی مسائل کو نہایت مدلّل انداز میں پیش کیا۔

آپ نے اپنی گفتگو میں بالخصوص درج ذیل نکات کو واضح فرمایا: آپ نے تقریر کے آغاز میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ انسانی زندگی پر غیر معمولی اثر انداز ہو چکے ہیں، اور انسان لاشعوری طور پر انہی کے مطابق سوچنے اور جینے لگا ہے۔ آپ نے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ آج ملک کی تقریباً 59 فیصد آبادی ویلنٹائن ڈے جیسے غیر اسلامی و غیر اخلاقی تہوار مناتی ہے، جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مغربی تہذیب کس تیزی سے ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔
آپ نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ یہ رجحان صرف بڑوں تک محدود نہیں بلکہ نابالغ بچے، نوعمر لڑکیاں اور نوجوان نسل بھی اس بہاؤ میں بہتی چلی جا رہی ہے۔

آپ نے فرمایا کہ آج ایک عام انسان کا دن کا تقریباً 50 فیصد سے زائد وقت موبائل فون، سوشل میڈیا، ڈراموں، ریلس اور غیر ضروری آن لائن مواد میں ضائع ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں سنجیدگی، مطالعہ اور غور و فکر کی صلاحیت ماند پڑتی جا رہی ہے۔ دماغی صحت پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے واضح کیا کہ اسکرین کی کثرت سے دماغی تھکن، اضطراب، بے چینی، چڑچڑاپن اور عدمِ توازن جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، اور انسان حقیقی زندگی سے کٹتا چلا جا رہا ہے۔ آپ نے مثالوں کے ذریعے بتایا کہ ڈرامے، ویب سیریز اور فلمی مواد کس طرح حرام و حلال، حیا و بے حیائی اور جائز و ناجائز کے تصورات کو مسخ کر رہا ہے، اور برائی کو فیشن اور آزادی کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا ایپس کے حوالے سے آپ نے پرائیویسی کے شدید خطرات کی نشاندہی کی اور بتایا کہ کس طرح نجی معلومات اور جذبات کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ آپ نے زور دے کر فرمایا کہ یہ تمام خرابیاں محض ظاہری نہیں بلکہ درحقیقت روحانی زوال اور اخلاقی انحطاط کی علامت ہیں، جو پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہیں۔محترمہ مبشّرہ فردوس باجی نے اپنی تقریر میں تربیتِ اولاد اور اخلاقی بگاڑ کے نہایت اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے بچوں کو سات سال کی عمر سے نماز کی عادت ڈالنی چاہیے اور نو سال کی عمر میں پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنا سکھانا ہوگا، تاکہ بچے کم عمری ہی سے اللہ تعالیٰ سے جڑ جائیں۔ آپ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کا انسان اپنا مقصدِ حیات بھول چکا ہے، جس کی واضح مثالیں ہمارے معاشرے میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔

آپ نے نہایت دل سوز واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بعض لڑکیاں مسلسل ویب سیریز اور کورین ڈرامے دیکھتے دیکھتے ان کے ہیروز کی خیالی محبت میں اس قدر الجھ گئیں کہ حقیقت سے کٹ کر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو گئیں، حتیٰ کہ بعض واقعات میں عمارتوں کی چھتوں سے کود کر خودکشی جیسے سانحات پیش آئے۔
اسی تسلسل میں آپ نے فرمایا کہ آج پاکستانی ڈرامہ کلچر ہماری تہذیبی اور اخلاقی تباہی کا ایک بڑا ذریعہ بنتا جا رہا ہے، جہاں بے حیائی، غیر فطری تعلقات اور مغربی طرزِ زندگی کو معمول اور قابلِ تقلید بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔مزید برآں آپ نے اپنی کونسلنگ کے دوران پیش آنے والے حقیقی کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے حاضرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

آپ نے بتایا کہ مختلف تعلیمی اداروں کی اساتذہ رو رو کر آپ سے سوال کرتی ہیں کہ وہ روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے بچوں اور طالبات کو بے حیائی، بگاڑ اور تباہ کن رویّوں کی طرف بڑھتے دیکھ رہی ہیں، مگر اس سیلاب کو روکنے کے لیے خود کو بے بس محسوس کرتی ہیں۔
آپ نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف بڑے طلبہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں کم عمر بچے اور بچیاں بھی شامل ہو چکے ہیں، جو ذہنی و اخلاقی اعتبار سے ایسے راستوں پر قدم رکھ رہے ہیں جو ان کے مستقبل کو تاریک بنا سکتے ہیں۔ اسی ضمن میں آپ نے نہایت درد مندانہ انداز میں فرمایا کہ “جب تک ماؤں کی آنکھوں سے غفلت کی نیند نہ چھینی جائے، اور جب تک ماؤں کو ان کی اصل ذمہ داریوں کا احساس نہ دلایا جائے، اس وقت تک اولاد کی حقیقی تربیت ممکن نہیں۔” آپ نے اس بات پر زور دیا کہ ماں اگر بیدار، باخبر اور باشعور ہو جائے تو پورا گھر، بلکہ پوری نسل سنور سکتی ہے، اور یہی بیداری آج کے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔

ان مسائل حل کی جانب آتے ہوئے آپ نے واضح کیا کہ ان مسائل کا حقیقی علاج قرآنِ مجید کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ بالخصوص آپ نے سورۂ نور، سورۂ احزاب اور دیگر قرآنی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے حیا، پردہ اور پاکیزگی کے اسلامی تصور کو تفصیل سے بیان کیا۔
آپ نے اس بات پر زور دیا کہ ماں باپ، اساتذہ اور معاشرتی ذمہ دار افراد اگر اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہے تو آنے والی نسل فکری و اخلاقی بحران کا شکار ہو جائے گی۔

آخر میں آپ نے نہایت درد مندانہ انداز میں اس بات کی تلقین کی کہ اگر ہم اپنی نسل، معاشرے اور ایمان کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں شعوری تربیت، مضبوط دینی اقدار اور عملی نگرانی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن رکھا گیا، جس میں شریک خواتین خصوصاً ماؤں نے بھرپور شرکت کی اور اپنے سوالات کے اطمینان بخش جوابات حاصل کیے۔ قمر فاطمہ باجی رکن جماعت نے مہمانان اور سامعین کی شرکت پر اظہارِ تشکر پیش کیا ۔

آخر میں محترمہ شبانہ باجی کی پُراثر دعا کے ساتھ اس بامقصد، فکری اور اصلاحی محفل کا اختتام عمل میں آیا۔اس اجتماع عام کی نظامت کے فرائض فردوس صدف نے بحسن و خوبی انجام دیے.اس اجتماع عام کو کامیاب بنانے میں گرلز اسلامک ارگنائزیشن ہنگولی اور حلقہ خواتین جماعت اسلامی ہندہنگولی کی تمام طالبات و خواتین نے انتھک محنت کی اور اس اجتماع عام کو کامیاب بنایا۔ اس اجتماع عام کی سرپرستی ،نگرانی و رہنمائی محترم امیر مقامی پروفیسر اقبال جاوید نے کی۔ ان کے ساتھ تمام انتظامات کی ذمہ داری ایاز فاروقی،اور رکن جماعت محمود خان صاحب خالد پٹیل ،سید جمیل صاحب،سی ائی او کے طلباء حسنین زید، عمرین سوید، غلام مصطفی، عرفان پٹیل، شیخ شکیب، ارشد فاروقی نے عمدہ طریقے سے انجام دی۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!