اے زینہ الغول!

عقیل خان بیاولی جلگاؤں ۔
اے زینہ الغول!
تیرا ہر قول منظور ہے
تیری آواز میں چھپی
شہادت کی روشنی
تیری ہر بات، جیسے صدا دعا کی
جو شبِ ظلمات میں روشنی کی امید بن کر گونجتی ہے۔
تُو نے جو دعا مانگی تھی
وہ آج شہادت کی چادر میں لپٹی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔
یہ لمحہ، یہ وقت،
تیری قربانی کی روشنی سے منور ہے۔
تیری شہادت رنگ دے چکی ہے فطرت کے ہر رنگ کو۔
غزہ کی خاک سے اٹھے گی صدا،
ظلم کی دیواریں گر کر رہ جائیں گی۔
پھر لہراۓ گا سبز پرچم،
جہاں انسانیت اپنی عزت کی نئی فصل کو اجاگر کرے گی۔
یہ لمحہ، یہ گردابِ تاریخ،
تیری قربانی کی گونج سے بھر جائے گا۔
تو بے بس نہیں، زینہ الغول!
ناتواں نہیں، نہ شکستہ۔
یہ معصوم آنکھیں تجھے دیکھتی ہیں،
یہ ردا پوش ضعیف جسم تجھے سنبھالے ہوئے ہیں۔
ان کی آہ میں پوشیدہ ہے
وہ طاقت جو آسمانوں سے بھی آتی ہے،
یہ زبان ان کی نہیں، یہ زبان رب کی وحی ہے۔
سنبھل جا، اے بہادری کی مورت!
اب بھی وقت ہے، یہ مہلت رب کی عنایت ہے۔
یہ کرب و مصیبت کی رات بھی گزر جائے گی،
چمک اٹھے گا روشنی کا نیا سورج۔
زینہ الغول!
تیری قربانی کی آمین
رب کی بارگاہ میں بلند ہو چکی ہے۔
تیری روح کی قربانی نہ صرف زمین پر
بلکہ فلک پر بھی چراغ کی مانند روشن ہوگی۔
یہ نظم عقیل کی وہ پکار ہے
جو غزہ کی مظلومیت میں جذبۂ عشق، قربانی اور اُمید کی مشعل روشن کرتی ہے۔
آمین، آمین، آمین۔




