بارش کے پانی کی وجہ سے جج صاحبہ ٹریکٹر پر سوار ہو کر عدالت پہنچیں
اَردھا پور عدالت میں جمعہ کا واقعہ، چار اور دو پہیہ گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں

اَردھا پور (اُدھو سروڑے): ضلع ناندیڑ میں جمعہ کی صبح زوردار بارش ہوئی جس کی وجہ سے سیلاب جیسی صورتِ حال پیدا ہوگئی۔ کئی سرکاری دفاتر بھی پانی سے گھِر گئے تھے، جس کی وجہ سے ملازمین کو وہاں تک پہنچنا مشکل ہوگیا۔ مگر اَردھا پور کی فرسٹ کلاس مجسٹریٹ محترمہ آر۔ بی۔ سورےکر نے ٹریکٹر پر بیٹھ کر عدالت پہنچ کر اپنی ڈیوٹی انجام دی۔
جمعہ کی رات سے مسلسل ہونے والی بارش نے ضلع بھر میں پانی ہی پانی کر دیا۔ صبح کے وقت لوگ گھروں سے نکل بھی نہیں پائے، جبکہ چار پہیہ گاڑیاں بھی پانی میں پھنس گئیں۔ نتیجتاً بہت سے لوگ سرکاری دفاتر تک پہنچنے سے قاصر رہے۔ اَردھا پور شہر میں بھی پانی جمع ہو گیا تھا۔
عدالت کی عمارت کے ناقص تعمیراتی کام، غیر ذمہ دار رویے اور لاپرواہی کی وجہ سے یہ عمارت مین روڈ سے اونچائی پر نہیں بنائی گئی، نہ ہی پانی نکاسی کا کوئی مستقل انتظام کیا گیا۔ اس غفلت کے باعث عدالت کی عمارت کے نیچے تقریباً پانچ سے چھ فٹ پانی بھر گیا۔ نتیجتاً وکلاء اور عملہ ڈوزر، ٹریکٹر اور ٹرک کی مدد سے عدالت پہنچے۔
اسی دوران جج صاحبہ آر۔ بی۔ سورےکر خود بھی ٹریکٹر پر بیٹھ کر عدالت آئیں اور اپنے فرائض انجام دیے۔ یہ خبر جیسے ہی ضلع و سیشن جج ناندیڑ کو ملی تو وہ فوراً وہاں پہنچے اور عدالت میں جمع پانی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر تعمیراتی محکمہ کے ملازمین، تحصیلدار، میونسپل کونسل کے سی ای او جگدیش دلوی، میونسپل نمائندے پروین دیشمکھ، وکلاء یونین اَردھا پور سمیت سبھی موجود تھے، مگر عدالت کی عمارت کے کنٹریکٹر موجود نہیں تھے۔
ضلع و سیشن جج نے سخت ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کیا جائے تاکہ آئندہ عدالت میں پانی جمع نہ ہو سکے۔




