بلدیہ انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال کی قانونی بنیاد پر سوال
وی وی پی اے ٹی کی دستیابی ناممکن، ریاستی الیکشن کمیشن کا مؤقف


ای وی ایم غیرقانونی ہے، طریق کار موجود نہیں: ایڈوکیٹ فردوس مرزا
ناگپور ،۲۰؍نومبر(محمد راغب دیشمکھ کی خصوصی رپورٹ)ناگپور بلدیہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے استعمال کی قانونی حیثیت اور ان کے ساتھ ووٹر ویری فائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل (VVPAT) کے لازمی نفاذ کے مطالبے کو لے کر ممبئی ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ میں ایک اہم سماعت ہوئی۔ عدالت نے ای وی ایم کے استعمال کی قانونی بنیاد پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے ریاستی الیکشن کمیشن سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے اور کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنا پورا مؤقف تحریری صورت میں کل تک پیش کرے۔یہ معاملہ اُس وقت ابھرا جب کانگریس کے قومی سکریٹری پرفُل گڑھے پاٹل نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ مقامی انتخابات میں شفافیت کے لیے VVPAT کو لازم قرار دیا جائے یا پھر انتخابات
بیلٹ پیپر سے کرائے جائیں۔ سماعت جسٹس انل کلّور اور جسٹس رجنیش ویاس کی بنچ کے سامنے ہوئی، جس میں دونوں فریقین نے جامع دلائل پیش کیے۔عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ایڈوکیٹ فردوس مرزا نے ایک تفصیلی اور مضبوط مؤقف رکھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مقامی خود مختار اداروں کے انتخابات کے متعلق جو قوانین اور قواعد نافذ ہیں، ان میں ای وی ایم کے استعمال سے متعلق کوئی واضح، مخصوص یا باقاعدہ ترمیم شدہ ضابطہ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی قواعد میں صرف بیلٹ پیپر کے استعمال کا طریقہ درج ہے۔
ای وی ایم کا نام اگر کسی قانون میں مذکور ہے بھی، تو وہ ایک عمومی ذکر کے طور پر ہے، نہ کہ اس کے استعمال کے طریق? کار یا قانونی جواز کے طور پر۔ جب تک قانون میں واضح طور پر ‘ای وی ایم کے استعمال کا طریقہ’ شامل نہ ہو، تب تک ای وی ایم کا استعمال قانوناً درست نہیں کہلا سکتا۔ایڈوکیٹ مرزا نے مزید کہا کہ بارہا وارڈ بندی کے قوانین میں تبدیلیاں ہوئیں، لیکن ای وی ایم کے استعمال کی بابت آج تک کوئی قانونی تحقیق، ترمیم یا طریق? کار شامل نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول، جب تک قانون مکمل طور پر واضح نہ ہو، تب تک ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کرانا آئین اور انتخابی شفافیت دونوں کے منافی ہے۔سماعت کے دوران ریاستی الیکشن کمیشن نے ایک مفصل حلف نامہ داخل کیا، جس میں کہا گیا کہ مقامی اداروں
کے قوانین میں VVPAT کا ذکر نہیں اور موجودہ حالات میں اس کا استعمال ’’نہ قانونی ہے اور نہ عملی‘‘۔ کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ مہاراشٹر کے مقامی انتخابات میں اکثر ایک وارڈ سے دو تا چار نمائندے منتخب کیے جاتے ہیں، جس کے لیے ملٹی پوسٹ ای وی ایم درکار ہوتی ہے، لیکن ملک میں ایسی EVM کے لیے کوئی منظور شدہ VVPAT موجود نہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بھی ایسی کوئی مشین تیار نہیں کی ہے۔کمیشن نے 2017 کے ناندیڑ-واگھالا کے پائلٹ پروجیکٹ کی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی VVPAT استعمال کرنے کی کوشش کے دوران شدید تکنیکی خرابیاں سامنے آئی تھیں اور اُس تجربے کے بعد اب تک ریاست کے پاس ایک بھی VVPAT میونسپل الیکشن کے لیے دستیاب نہیں۔ مزید

یہ کہ سپریم کورٹ نے ریاست کو حکم دیا ہے کہ تمام مقامی انتخابات 31 جنوری 2026 تک مکمل کیے جائیں، اس لیے اتنے کم عرصے میں لاکھوں VVPAT تیار کرنا ناممکن ہے۔جواب میں، ایڈوکیٹ فردوس مرزا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ تمام وجوہات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستی الیکشن کمیشن بغیر قانونی اختیار کے ای وی ایم استعمال کر رہا ہے، جب کہ قانون واضح طور پر صرف بیلٹ پیپر کے استعمال کا طریقہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا:”اگر VVPAT دستیاب نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ای وی ایم کو بغیر قانونی طریقہ کار کے استعمال میں لایا جائے۔ قانون
میں جب تک ای وی ایم کے استعمال کی مکمل وضاحت شامل نہیں کی جاتی، اُن کا استعمال انتخابی شفافیت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔”ایڈوکیٹ مرزا نے عدالت کو یاد دلایا کہ قانون میں ترمیم کے بغیر محض انتظامی حکم سے انتخابی طریقہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ موجودہ نظام میں ای وی ایم کی قانونی حیثیت کمزور، غیر واضح اور چیلنج کے قابل ہے۔سماعت کے اختتام پر عدالت نے ریاستی الیکشن کمیشن کو کہا کہ وہ تمام اعتراضات کا تفصیلی جواب داخل کرے۔




