✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ معاشروں کی بنیاد محبت، عدل، سکون اور امن پر قائم کی جاتی ہے۔ مگر جب یہی معاشرے اپنی آئندہ نسلوں کے لیے تشدّد، نفرت اور زہر گھولنے لگیں تو گویا وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی جڑیں کاٹتے ہیں۔ آج کے دور میں ہم اس تلخ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ بچّوں میں تشدّد کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
وہ بچّے جو کبھی کھیل کے میدانوں میں مسکرایا کرتے تھے، جن کے خواب تتلیوں اور پرندوں کی طرح رنگین ہوا کرتے تھے، اب ان کے ہاتھ ہتھیاروں سے آلودہ ہوتے جا رہے ہیں اور دل انتقام کی آگ سے بھرتے جا رہے ہیں۔ یہ منظر کسی کھلکھلاتے باغ میں اچانک اُگ آنے والے خار دار جھاڑ کی مانند ہے، جو نہ صرف خوبصورتی کو مسمار کرتا ہے بلکہ اس باغ کی فضا کو بھی خوفناک بنا دیتا ہے۔ وہی کلاس روم جس میں کبھی تختی پر خوشخطی کے نمونے بنتے تھے، جہاں استاد کی مسکراہٹ اور بچّوں کی قہقہے دار آوازیں گونجا کرتی تھیں، اب بعض جگہ خون سے رنگین ہو چکے ہیں۔ ہم نے واقعات دیکھے کہ ننھے طالب علم اپنے ہی ہم جماعت پر حملہ آور ہوئے۔ قلم جو سوچ کو روشن کرتا ہے، خنجر میں ڈھل گیا؛ اور بستہ جو علم کا خزانہ ہوتا ہے، موت کا پیغام بردار بن گیا۔ کیا یہ انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ نہیں؟
کھیل کا میدان، جہاں دوڑتے ہوئے قدموں سے زمین خوشبو دیتی تھی، اب وہاں غصّے اور نفرت کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ وہی بچّے جو ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ٹیم ورک کا سبق سیکھتے تھے، آج ایک دوسرے کو دشمن سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی دریا کے خشک ہونے کی مانند ہے، جس دھارے نے زمین کو زرخیز بنانا تھا، وہی دھارا اب پیاس اور ویرانی چھوڑ رہا ہے۔ بچّے تو سماج کا عکس ہوتے ہیں۔ اگر معاشرے میں برداشت اور رحم کی روشنی ہو تو بچّے بھی روشنی کے جگنو بن جاتے ہیں۔ مگر جب بڑے سیاست کے میدان میں مذہب کے نام پر نفرت کی فصیلیں کھڑی کرتے ہیں، جب رہنما اپنے مخالف کو کچلنے میں ہی کامیابی ڈھونڈتے ہیں، تو یہ سب کچھ بچّوں کی نگاہوں میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو ننھی کلیاں ہوا کے جھونکوں سے ہلکی ہلکی لرزتی تھیں، وہ اب طوفان بننے کو بے چین ہیں۔
دنیا کی مثالوں پر نگاہ ڈالیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ جہاں کہیں بچّوں کو تشدّد کا کھلونا دیا گیا، وہاں نسلیں برباد ہوئیں۔ افریقہ کے وہ خطّے یاد آتے ہیں جہاں "چائلڈ سولجرز” یعنی بچّہ سپاہی اپنے ہی گاؤں کو آگ لگاتے تھے۔ دنیا میں بسنے والے وہ معصوم ذہن بھی یاد آتے ہیں جو بارود کی بو سونگھتے ہوئے جوان ہوئے اور امن کا مطلب کبھی جان ہی نہ سکے۔ آج اگر ہمارے سماج میں بھی یہی رجحان پنپ رہا ہے تو یہ کوئی معمولی خطرہ نہیں، بلکہ آئندہ نسل کی بربادی کا اعلان ہے۔ یہ سب مثالیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ بچّوں میں بڑھتا ہوا تشدّد محض ایک وقتی انحراف نہیں بلکہ تہذیبی بحران کی علامت ہے۔ تتلیاں اور پرندے جن خوابوں میں بستے تھے، ان خوابوں پر بارود کے دھبّے لگ گئے ہیں۔ اگر ہم نے ابھی بھی اصلاح نہ کی تو وہ معصوم ہاتھ جو گڑیا سنبھالتے تھے، ہمیشہ کے لیے بندوق تھامنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہ محض خبروں کی سرخی نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے کہ نوخیز عمر کے بچّے اپنی ہی جماعت کے افراد پر قاتلانہ حملے کرنے لگے ہیں۔ وہ عمر، جس میں بچّے رنگوں سے کھیلتے ہیں، محبت کے گیت گاتے ہیں، اور دوستی کے سبق سیکھتے ہیں، وہاں خنجر اور بارود کی گونج سنائی دینا، دراصل ہماری اجتماعی تربیت کا المیہ ہے۔ وہی اسکول جہاں کبھی بچّے نظموں کی گونج میں اپنا مستقبل تراشتے تھے، اب وہاں کے در و دیوار خوف کی کہانی سنا رہے ہیں۔ چند ہی ماہ پہلے کی خبریں بتاتی ہیں کہ ایک نو عمر طالب علم نے اپنے ہم جماعت پر حملہ کر دیا، محض اس لیے کہ کسی بات پر انا مجروح ہوئی تھی۔ یہ واقعہ صرف ایک شخص کی غلطی نہیں بلکہ اُس ماحول کی آئینہ داری ہے جو ہر روز بچّوں کو زہر آلود فضا میں سانس لینے پر مجبور کر رہا ہے۔
یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ بچّہ اپنے والدین اور گھر کے ماحول سے پہلا سبق لیتا ہے۔ آج کے گھروں میں اگر مکالمہ اور پیار کی جگہ چیخ و پکار اور تشدّد نے لے لی ہے تو اسکول کے بچّے بھی اسی زبان میں گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ خبروں میں بارہا یہ سامنے آتا ہے کہ ایک کمسن لڑکے نے اپنے دوست پر محض موبائل یا کھیل کے تنازعے میں چاقو سے حملہ کر دیا۔ کیا یہ محض انفرادی غصّہ تھا یا پورے سماج کا عکس؟ حالاتِ حاضرہ اس حقیقت کو بھی واضح کرتے ہیں کہ سیاست دان جب مذہب اور قوم پرستی کے نام پر نفرت کی دیواریں کھڑی کرتے ہیں تو اس کی بازگشت بچّوں کے ذہنوں تک پہنچتی ہے۔ ابھی حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ نفرت انگیز تقریروں اور تعلیمی نصاب میں موجود تعصبات نے بچّوں کے رویّے کو کس قدر بدل دیا ہے۔ اسکول کے معصوم ذہن بھی "ہم” اور "وہ” کی لکیر کھینچنے لگتے ہیں۔ پھر ایک دن وہی لکیر خونی حملے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
دنیا کے دیگر خطّوں میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کے اسکولوں میں ہونے والی اسکول شوٹنگز ہمارے سامنے ہیں، جہاں ایک نو عمر طالب علم اپنے ہم جماعتوں پر اندھا دھند گولیاں برساتا ہے۔ اکثر یہ بچّے ذہنی دباؤ، سماجی تنہائی یا خاندانی مسائل کے شکار ہوتے ہیں۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں بندوق آئی کیسے؟ جواب پھر وہی ہے: سماج کا رویہ اور بڑوں کی پالیسی۔
اسی طرح ملک میں حالیہ برسوں میں کئی واقعات ہوئے کہ مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر بچّے ایک دوسرے کے خلاف نفرت پالتے اور تشدّد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ ایک اسکول میں ایک معصوم بچّے کو محض اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس کا مذہب دوسرا تھا۔ کیا یہ انفرادی حادثہ ہے یا ہماری اجتماعی ذہنیت کی تصویر؟ یہ حقیقت ہمیں علّامہ مُحمّد اقباؔلؒ کے اس شعر کی یاد دلاتی ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ
جب افراد بچّوں کی شکل میں بگڑنے لگیں تو پوری قوم کی تقدیر پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایک بچّے کا ہاتھ جب قلم کے بجائے ہتھیار پکڑتا ہے تو گویا پوری نسل اپنے مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ اپنی ہی جماعت پر قاتلانہ حملہ کرنے والے یہ بچّے ہمارے سماج کا نوحہ ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ اس پورے معاشرتی ڈھانچے کا المیہ ہے جو محبت کے سبق دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے حالاتِ حاضرہ کی ان مثالوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے وقت میں اسکول تعلیمی ادارے نہیں رہیں گے، بلکہ نفرت اور تشدّد کے اڈّے بن جائیں گے۔
یہ بگاڑ اچانک پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کی جڑیں ہمارے گھروں اور روزمرّہ کی زندگی میں پیوست ہیں۔ ہمارے سماج میں ایک عام تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم "اہنسا وادی” ہیں، عدمِ تشدّد کے پیروکار ہیں، اور امن و بھائی چارے کے علمبردار ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے یا محض ایک خوشنما نعرہ جو کانوں کو بھلا لگتا ہے لیکن زمینی سطح پر اس کی کوئی جڑ نہیں؟ اگر ہم واقعی اہنسا کے پیروکار ہوتے تو ہمارے گھر محبت کے گہوارے ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئے دن گھریلو تشدّد کی خبریں زبان زدِ عام ہیں۔ شوہر کا بیوی پر ہاتھ اُٹھانا، والدین کا بچّوں پر حد سے زیادہ سختی کرنا، یا بھائی بہنوں کے درمیان وراثت پر جھگڑا۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ "عدمِ تشدّد” ہمارے گھروں کے در و دیوار پر محض ایک خوشبو ہے جس کی اصل جڑیں سوکھ چکی ہیں۔ بچّے جب والدین کو معمولی بات پر غصّے اور مارپیٹ پر آمادہ دیکھتے ہیں تو وہ اہنسا کے نعرے پر کیسے یقین کریں؟
جب افراد بچّوں کی شکل میں بگڑنے لگیں تو پوری قوم کی تقدیر پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایک بچّے کا ہاتھ جب قلم کے بجائے ہتھیار پکڑتا ہے تو گویا پوری نسل اپنے مستقبل سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ اپنی ہی جماعت پر قاتلانہ حملہ کرنے والے یہ بچّے ہمارے سماج کا نوحہ ہیں۔ یہ صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ اس پورے معاشرتی ڈھانچے کا المیہ ہے جو محبت کے سبق دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اگر ہم نے حالاتِ حاضرہ کی ان مثالوں سے سبق نہ سیکھا تو آنے والے وقت میں اسکول تعلیمی ادارے نہیں رہیں گے، بلکہ نفرت اور تشدّد کے اڈّے بن جائیں گے۔
ہمارے سماج میں یہ ایک عام تاثر دیا جاتا ہے کہ ہم "اہنسا وادی” ہیں، عدمِ تشدّد کے پیروکار ہیں، اور امن و بھائی چارے کے علمبردار ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقت ہے یا محض ایک خوشنما نعرہ جو کانوں کو بھلا لگتا ہے لیکن زمینی سطح پر اس کی کوئی جڑ نہیں؟ اگر ہم واقعی اہنسا کے پیروکار ہوتے تو ہمارے گھر محبت کے گہوارے ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئے دن گھریلو تشدّد کی خبریں زبان زدِ عام ہیں۔ شوہر کا بیوی پر ہاتھ اُٹھانا، والدین کا بچوں پر حد سے زیادہ سختی کرنا، یا بھائی بہنوں کے درمیان وراثت پر جھگڑا۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ "عدمِ تشدّد” ہمارے گھروں کے در و دیوار پر محض ایک خوشبو ہے جس کی اصل جڑیں سوکھ چکی ہیں۔ بچّے جب والدین کو معمولی بات پر غصّے اور مارپیٹ پر آمادہ دیکھتے ہیں تو وہ اہنسا کے نعرے پر کیسے یقین کریں؟
تعلیم اگر تہذیب اور کردار سازی کا دوسرا نام ہے تو ہمارے تعلیمی ادارے امن کے قلعے ہونے چاہئیں تھے۔ لیکن عملاً ہم دیکھتے ہیں کہ اسکول اور کالج بھی جھگڑوں، لڑائیوں اور گینگ کلچر کا شکار ہو گئے ہیں۔ ایک طرف اسمبلی ہال میں "امن” کے نعرے لگائے جاتے ہیں، تو دوسری طرف وہی طلبہ معمولی بات پر ایک دوسرے کو لہولہان کر دیتے ہیں۔ یہ تضاد بچّوں کے ذہنوں میں یہ سوال چھوڑ دیتا ہے کہ آخر سچائی کس طرف ہے، نصابی کتابوں کے سبق میں یا روزمرہ کے رویّوں میں؟
سیاست اور مذہب، دونوں ہی انسانیت کو امن اور خیر کا پیغام دینے کے دعوے دار ہیں۔ مگر ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما زبان سے ایسی آگ اُگلتے ہیں کہ ماحول نفرت کی دھوئیں سے بھر جاتا ہے۔ جلسوں میں ایک دوسرے کو مٹانے کے نعرے، مذہبی منافرت پر مبنی تقریریں، اور مخالفین کو غدّار اور کافر ٹھہرانے کا رجحان، یہ سب اہنسا کے دعوے کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ یہی تضاد بچّوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بڑوں کی زبان پر امن اور بھائی چارہ ہے لیکن عمل میں نفرت اور تشدد۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ دوہرے معیار کا شکار ہو کر یا تو منافقت سیکھتے ہیں یا انتہاء پسندی۔
اہنسا کو اکثر گاندھی جی کی تحریک کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان کی فکر کے وارثین آج بھی اسی عدمِ تشدد پر عمل پیرا ہیں؟ حالیہ برسوں میں بھارت میں ہجومی تشدّد (mob lynching) کے واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں محض مذہب یا شناخت کی بنیاد پر معصوم لوگوں کو مار دیا گیا۔ یہ کیسا اہنسا ہے جو زبان پر تو ہے مگر عمل میں مفقود ہے؟ یہ تضاد ہمیں غالب کے ایک شعر کی یاد دلاتا ہے:
واعظ نہ خود پیئے نہ کسی کو پلا سکے
کیوں شیخ جی! حرام کو حلال کر دیا؟
یعنی زبان پر وعظ و نصیحت اور حقیقت میں عمل کا فقدان، معاشرے کو منافقت کی بھٹی میں جھونک دیتا ہے۔ اقبال نے بھی کہا تھا: "گفتار کا غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا”۔ یہی وصف ہمارے سماج پر صادق آتا ہے۔ یہ تضاد کہ ہم خود کو اہنسا وادی کہتے ہیں لیکن عملاً تشدّد پر اتر آتے ہیں، ہماری اجتماعی نفسیات کا سب سے بڑا زہر ہے۔ بچّے اس دوہرے معیار کو دیکھ کر نہ امن پر یقین رکھتے ہیں نہ تشدّد سے دور رہتے ہیں۔ ان کے سامنے جب "نعرہ” اور "حقیقت” میں اتنا فرق ہوتا ہے تو وہ انتہاء پسندی کی راہ کو ہی "سچائی” سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر ہمیں واقعی اہنساء وادی بننا ہے تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور سیاست کے میدانوں کو عملی طور پر محبت اور برداشت کی درسگاہیں بنانا ہوں گی۔ ورنہ یہ خوشنما نعرہ محض تاریخ کی کتابوں کا ایک باب بن کر رہ جائے گا۔
سیاست اگر خدمتِ خلق کا دوسرا نام ہے تو مذہب روحانی بالیدگی اور انسان دوستی کی اعلیٰ ترین صورت ہے۔ لیکن جب سیاست داں مذہب کو اپنی کرسی کا سہارا بنانے لگیں، اور مذہب کے نام پر تقسیم و انتشار کی سیاست کی جانے لگے تو معاشرے کی فضاء زہر آلود ہو جاتی ہے۔ اس زہر کا سب سے تیز اثر بچّوں پر پڑتا ہے۔ وہ جو معصوم دل رکھتے ہیں، آہستہ آہستہ تعصب، نفرت اور انتقام کے بیج اپنے اندر بو لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی نعروں کے زیرِ اثر کم سن ذہنوں میں دشمنی کے کانٹے پروان چڑھنے لگے ہیں۔
اگر اس رجحان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ محض انفرادی سانحات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ قومی و تہذیبی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔ وہ قومیں جن کے بچّے نفرت میں پرورش پاتے ہیں، وہ مستقبل میں امن کے قلعے تعمیر نہیں کر سکتیں۔ محبت سے محروم دل، صرف نفرت کی فصل اُگاتے ہیں۔ اور جب فصل نفرت کی ہو تو اس کا پھل بھی خونی ہی نکلتا ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے بچّوں کو صرف نصابی کتابیں نہ پڑھائیں بلکہ ان کے اندر برداشت، احترامِ انسانیت اور محبت کے چراغ روشن کریں۔ میڈیا اور سیاست کو نفرت کی آگ کو ہوا دینے کے بجائے محبت کے بیج بونے چاہئیں۔ والدین کو اپنے رویوں سے یہ دکھانا ہو گا کہ مسائل مکالمے اور حکمت سے حل ہوتے ہیں، تشدّد سے نہیں۔
تشدّد کے یہ بڑھتے سائے، بچّوں کی معصومیت پر قاتلانہ وار، مذہب کے نام پر سیاست کی سیاہیاں، اور "اہنسا” کے دعوؤں کے ساتھ تضاد سب مل کر اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ ہم تباہی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مگر اگر ہم چاہیں تو ابھی بھی راستہ بدلا جا سکتا ہے۔ سچائی، انصاف، محبت اور تعلیم ہی وہ چراغ ہیں جو نسلِ نو کے دل و دماغ کو روشنی عطاء کر سکتے ہیں۔

Masood M. Khan (Mumbai)