"تعلیم کا تقدس اور گلابی شرارا: کاجل نے درسگاہ کی روشنیوں کو ماند کر دیا”

: عقیل خان بیاولی، جلگاؤں
دورِ حاضر کا یہ برق رفتار، ملٹی میڈیا سے لبریز زمانہ ہے۔ لمحوں میں کوئی ویڈیو، کوئی تصویر، یا کوئی منظر انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی احساس اُس وقت ہوا جب دہلی کی ایک خاتون فزکس کی معلمہ کاجل دسانے کی ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔ وہ "گلابی شرارا” پہاڑی گیت پر ، اپنی شاگرداؤں کے ساتھ گیدرینگ کی تقریب میں رقص کر رہی تھیں۔

یہ محض ایک ویڈیو نہیں تھی، بلکہ درس و تدریس کے تقدس پر ایک سوالیہ نشان تھی۔مزہب
اسلام میں معلم کو وراثتِ انبیا کا درجہ دیا گیا ہے۔ ہندو دھرم میں گرو کو خالق کے برابر مقام حاصل ہے۔ یعنی، استاد محض علم نہیں دیتا بلکہ تخلیق کرتا ہے کردار کی، فکر کی، اور انسانیت کی تخلیق۔ اسی لئے قدیم ادوار میں والدین اپنے بچوں کو خانقاہوں، مدارس اور گروکلوں میں بھیج کر روحانی و اخلاقی تربیت کے سپرد کر دیتے تھے۔وہ زمانہ علم و ادب کے احترام کا زمانہ تھا۔ استاد کی جوتیاں سیدھی کرنا شاگرد کے لیے فخر کی بات تھی۔
استاد کی آواز سنتے ہی نیند اور آرام قربان ہو جاتے تھے۔ آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنا گستاخی سمجھا جاتا تھا۔اسی تقدس، ضبط اور روحانی ربط نے وہ نسلیں پیدا کیں جنہوں نے علم و فن، سائنس و روحانیت، تہذیب و اخلاق ، ہر میدان میں نقوش چھوڑے۔ مگر آج تعلیم کے نام پر تفریحی، پر مسرت تدریس کے نام پر نمائش، اور تربیت کے نام پر تماشہ فروغ پا رہا ہے۔ کلاس روم میں ڈانس ویڈیوز، تعلیمی میلوں میں ایکشن سانگز، اور
سوشل میڈیا پر ریلز کلچر ۔۔یہ سب علم کی روشنی کو دھندلا رہے ہیں۔ کاجل کا یہ عمل بظاہر اظہارِ رائے کی آزادی کے دائرے میں آ سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے:کیا درسگاہ وہ مقام ہے جہاں تعلیم کے تقدس کی جگہ تفریح لے لے؟ کیا وہ ادارے جہاں انسان تراشے جاتے ہیں، وہاں یہ طرزِ عمل روا رکھا جا سکتا ہے؟صفیّانِ علم و عرفان نے فرمایا تھا: "یہ درسگاہیں مقدس مقامات ہیں، ” یہاں کی خاک سے انسان بنائے جاتے ہیں۔”
افسوس! آج وہی استاد انسانوں کو خاک بنا رہے ہیں۔کاجل کے "گلابی شرارا” ڈانس نے محکمۂ تعلیم کی عظمت پر کالک مل دی۔اگر نئی نسل کے اساتذہ، طلباء کے قریب آنے کے لیے رقص و ریلیز کو ذریعہ تعلیم وسائل تعلیم سمجھنے لگیں، تو آنے والی نسلوں کو وہ کیا تعلیم دیں گے؟ یہ ایک بیدار طبقے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ہمیں یاد رکھنا ہوگا: آپ کے ویوز لاکھوں میں نہ بھی ہوں، مگر آپ اپنی تہذیب، ثقافت، اور وراثت کے حقیقی نمائندے ہیں۔ آپ کا عمل، آپ کی پہچان ہے۔ اور ایک استاد کی شان کبھی "کاجل” کے رنگ سے نہیں، بلکہ علم و وقار کی روشنی سے ہونی چاہیے۔




