مضامین

تفرقے کی آگ اور اتحاد کی ضرورت جب دل جدا ہوں توامت شکست کھاتی ہے

از قلم:- صباء فردوس (صدرِ جی آئی او ہنگولی)

تاریخ گواہ ہے کہ امتوں کے زوال کی سب سے بڑی وجہ دشمن کے حملے نہیں بلکہ باہمی اختلافات، نفرت اور تفرقہ ہوتا ہے۔ قومیں اس وقت تک زندہ اور سر بلند رہتی ہیں جب تک ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور ایثار کی کیفیت باقی رہتی ہے، لیکن جیسے ہی دل بغض، حسد اور کینہ سے بھر جاتے ہیں تو باہر کا دشمن زیادہ محنت کیے بغیر ان پر غالب آ جاتا ہے۔ یہی حال امتِ مسلمہ کا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے “خیرِ امت” کا لقب عطا کیا تھا، مگر آج وہ نفرت اور تقسیم کی آگ میں جھلستی نظر آتی ہے۔

قرآن حکیم نے صاف فرمایا ہے:
وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الأنفال: 46)
“آپس میں جھگڑو مت، ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم کمزور پڑ جاؤ گے۔”
یہ حکم اس لیے دیا گیا کہ امت کی اصل طاقت اس کا اتحاد اور بھائی چارہ ہے۔ لیکن جب یہی امت فرقوں، مسالک اور ذاتی مفادات میں بٹ جائے تو دشمن کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی حقیقت کو واضح فرمایا:
"لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا” (صحیح مسلم)
“آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، قطع تعلق نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔”
افسوس کہ آج یہ تعلیمات پسِ پشت ڈال دی گئی ہیں۔ معمولی فروعی اختلافات پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔ مساجد جو ہدایت اور رحمت کے مراکز تھیں، نفرت اور تقسیم کی علامت بن گئی ہیں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا ظرف ختم ہو گیا ہے، یہاں تک کہ بھائی بھائی کو دشمن سمجھنے لگتا ہے۔

علامہ اقبال نے امت کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا:
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
تاریخِ اسلام کے اوراق پلٹئے۔ اندلس میں مسلمان آٹھ صدیوں تک حکومت کرتے رہے، لیکن جب حکمرانوں نے باہمی لڑائی کو اپنا شیوہ بنا لیا اور ایک دوسرے کے خلاف عیسائی قوتوں سے مدد لینے لگے تو پوری تہذیب لمحوں میں بکھر گئی۔ بغداد کی بربادی بھی تاتاریوں کی تلوار سے کم اور مسلمانوں کی اندرونی سازشوں اور کشت و خون سے زیادہ ہوئی۔ یہ واقعات چیخ چیخ کر ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل خطرہ باہر سے نہیں، اندر سے ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری لڑائیاں “عقیدے” کی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر جھگڑے “مفاد” کے ہیں۔ اور ان کا سب سے بڑا خمیازہ عام مسلمان بھگتتا ہے۔ تاریخ کے بعد آج کا منظر نامہ بھی ہمارے سامنے ہے: کہیں مسلکی اختلاف پر قتل و غارت ہے، کہیں سیاسی مفاد کے لیے مذہب کو ہتھیار بنایا جاتا ہے، اور کہیں قومیت و زبان کے نام پر ایک دوسرے کو دشمن ٹھہرایا جاتا ہے۔
حالانکہ قرآن بار بار یاد دلاتا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (الحجرات: 10)
“مؤمن تو سب بھائی بھائی ہیں۔”
یہ آیت اگر ہمارے دلوں میں اتر جائے تو اختلاف کبھی بھی نفرت میں نہ بدلے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی فقہی اختلافات ہوئے، مگر انہوں نے کبھی ایک دوسرے کو برا بھلا نہیں کہا۔ حضرت امام شافعیؒ کا قول ہے:

“میری رائے درست ہے لیکن اس میں غلطی کا احتمال ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے لیکن اس میں درست ہونے کا امکان ہے۔”
یہی وہ وسعتِ قلبی ہے جو امت کو جوڑ سکتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مؤمنوں کی مثال ایک جسم سے دی:
"مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى”
“مؤمنوں کی مثال آپس کی محبت اور رحمت میں ایک جسم کی طرح ہے، کہ اگر جسم کا ایک عضو بیمار ہو جائے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔”

مگر ہم نے اس جسم کو خود ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ اگر ایک حصے میں ظلم ہو رہا ہے تو دوسرا حصہ تماشائی بنا رہتا ہے۔ فلسطین، کشمیر، شام اور دیگر خطوں میں امت کے زخم لہولہان ہیں، مگر ہم اپنی مسلکی اور جماعتی تقسیم میں الجھے ہوئے ہیں۔
اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم نفرت کے بجائے شعور پیدا کریں، اختلاف کو دشمنی نہیں بلکہ علم و خیر خواہی میں بدلیں، اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو ہماری بنیادیں اور کمزور ہوں گی اور دشمن کے لیے کام آسان تر ہو جائے گا۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!