مضامین

تفریح کا فلسفہ: مسرّت یا مصیبت

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسان کو جب اللّٰہ تعالیٰ نے زمین پر اتارا تو اس کے لیے بے شمار نعمتیں بکھیر دیں پہاڑوں کی بلندی، دریاؤں کی روانی، سمندروں کی گہرائی اور باغات کی شادابی تاکہ وہ ان سے لطف اندوز ہو، شکر بجا لائے اور اپنی روح و جسم کو تازگی دے۔ لیکن افسوس! انسان جب ان نعمتوں سے استفادہ میں حدودِ اعتدال پار کر لیتا ہے، تو یہی برکتیں وبال میں بدل جاتی ہیں۔ سیر و تفریح جو اصل میں قلبی سکون اور ذہنی آسودگی کا ذریعہ ہے، آج نفس پرستی، نمود و نمائش اور غیر ذمّہ دارانہ رویّوں کی نذر ہو کر نہ صرف فرد کی زندگی بلکہ پورے معاشرے اور ماحول پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ یہ مضمون انہی تلخ حقائق کا جائزہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح ہجوم کی بے مہاری، احتیاط سے غفلت، مال و دولت کا بے جا اسراف، قرضوں کا غیر ضروری بوجھ، اور دیگر معاشرتی برائیاں ہماری سیاحت اور تفریح کو بگاڑ کا شکار کر رہی ہیں۔

۱۔ سیر و تفریح کے مقامات پر لوگوں کا اژدھام

انسان کی فطرت میں یہ بات رچی بسی ہے کہ وہ حسنِ فطرت سے محبت کرے، بلندیوں کی ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرے، دریا کی روانی میں اپنی بے قراری کو بہا دے اور باغات کی خوشبو میں اپنی روح کو مہکائے۔ لیکن جب یہ طبعی میلان بے اعتدالی اور بے احتیاطی کی راہ پکڑ لیتا ہے، تو وہ مقامات جو سکون اور سکوت کے گہوارے تھے، ہجوم اور شور شرابے کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ سوچیے، ایک پُرسکون پہاڑی جھیل کا کنارہ ہے۔ پانی نیلا اور شفاف ہے، اردگرد سبزہ زار، پرندوں کی چہچہاہٹ، اور ہوا میں پھولوں کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ مگر چند لمحوں بعد وہاں گاڑیوں کا ریلا اترتا ہے، تیز موسیقی کی آواز گونجنے لگتی ہے، پلاسٹک کی بوتلیں پانی میں تیرنے لگتی ہیں، اور جھیل کا وہ حسین عکس ٹوٹے ہوئے آئینے کی مانند بکھر جاتا ہے۔ یہی حال ساحلِ سمندر کا ہے، جہاں کبھی لہروں کی مدھر سرگم سنائی دیتی تھی، آج وہاں گندگی، شور اور بے ترتیبی کا راج ہے۔

ماتھیران، مہابلیشور، اوٹی، شملہ، منالی جیسے سیاحتی مقامات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ جہاں برفباری کے موسم میں سیاحوں کا ہجوم اتنا بڑھ جاتا ہے کہ سڑکیں بند، ہوٹل بھرے اور قدرتی حسن دب کر رہ جاتا ہے۔ گنگا گھاٹ یا دریائے جہلم کے کنارے، جہاں کبھی سکون اور عبادت کی فضا ہوتی تھی، اب وہاں شور و غل، کچرے کے ڈھیر اور انسانی بے احتیاطی نے ماحول کا رنگ بدل دیا ہے۔ دنیا بھر میں پیرس کا ایفل ٹاور، استنبول کی آیا صوفیہ یا مکّہ مکرّمہ جیسے مقدّس و تاریخی مقامات پر بھی ہجوم اگر نظم و ضبط سے محروم ہو تو وہ برکت اور وقار کو کم کر دیتا ہے۔

یہ اژدھام صرف جمالیاتی حسن کو ہی نہیں چھینتا بلکہ ماحول کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ پودے کچلے جاتے ہیں، نایاب پرندے خوف زدہ ہو کر ہجرت کر جاتے ہیں، اور پانی کے چشمے آلودہ ہو جاتے ہیں۔ انسان خود اپنی لاپرواہی سے وہ چیز کھو دیتا ہے جسے دیکھنے آیا تھا۔ گویا ہم اپنے ہاتھوں قدرت کے حسین کینوس پر دھبے لگا دیتے ہیں۔ اسلام ہمیں نہ صرف نعمتوں سے فائدہ اٹھانے بلکہ ان کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے سفر اور قیام میں صفائی اور ترتیب کا خاص اہتمام فرمایا۔ اگر ہم سیر و تفریح کو بھی عبادت کی نیت سے، شکر گزاری کے جذبے اور ماحول کی امانت داری کے ساتھ اختیار کریں تو یہ مقامات ہمیشہ اپنی اصل خوبصورتی کے ساتھ باقی رہ سکتے ہیں۔

۲۔ لاپرواہی کے نتیجے میں جانوں کا نقصان

زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی عطاء کردہ سب سے قیمتی امانت ہے۔ اس کی حفاظت نہ صرف ایک ذاتی فریضہ ہے بلکہ شرعی اور اخلاقی ذمّہ داری بھی۔ مگر افسوس! تفریح کے نام پر لوگ اکثر اس امانت سے کھیل جاتے ہیں۔ لمحاتی جوش اور وقتی لطف کے پیچھے جان کی قیمت بھول جانا، وہ کوتاہی ہے جو ایک خوشگوار لمحے کو اندوہناک حادثے میں بدل دیتی ہے۔ سمندر کے کنارے ایک خاندان پکنک منا رہا ہے۔ ایک نوجوان، موجوں کو چیرنے کی للکار میں گہرے پانی میں اتر جاتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ زیرِ آب کی تیز لہریں اور کھائی نما گہرائیاں کس قدر خطرناک ہیں۔ چند لمحے کی مسکراہٹ ایک چیخ میں بدل جاتی ہے، اور ساحل پر موجود لوگ بے بسی سے منظر دیکھتے ہیں۔ یہی کہانی ہم اکثر ساحلِ مرینا (چنئی)، جُوہُو بیچ (ممبئی) اور گوا کے بیچز پر سنتے ہیں، جہاں حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی جان لیوا انجام پر منتج ہوتی ہے۔

پہاڑی تفریحی مقامات پر اکثر لوگ بغیر کسی رہنمائی کے خطرناک ڈھلوانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ برفباری کے دوران پھسلن کا اندازہ لگائے بغیر تصویریں لینے کی کوشش یا بغیر رسی اور حفاظتی سامان کے چٹان پر چڑھنا، کئی قیمتی جانوں کو نگل چکا ہے۔ مری، منالی اور نیپال کے ہمالیائی راستوں پر ہر سال ایسے سانحات پیش آتے ہیں۔ تفریحی مقامات تک پہنچنے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بھی بڑے حادثات کا سبب ہے۔ اوور اسپیڈنگ، ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال، یا خطرناک موڑ پر اوورٹیکنگ محض چند لمحے بچانے کے لیے کی جاتی ہے، مگر نتیجہ عمر بھر کے پچھتاوے کی صورت نکلتا ہے۔ شاہراہِ قراقرم اور شِملا کی گھماؤ دار سڑکیں ان واقعات کی گواہ ہیں۔

اسلام میں جان کی حفاظت کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
"وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا” (النساء: 29)۔ "اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بے شک اللّٰہ تم پر مہربان ہے”۔ رسول اکرمﷺ نے بھی بے احتیاطی کو منع فرمایا اور فرمایا: "لا ضرر ولا ضرار” — "نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ کسی کو نقصان دو”۔ زندگی ایک بار ملتی ہے، اور یہ اللّٰہ کی طرف سے عارضی امانت ہے۔ تفریح کے لمحات اگر جان کی قیمت پر ہوں تو وہ خوشی نہیں بلکہ حماقت ہے۔ ضروری ہے کہ ہم حفاظتی اصولوں کی پابندی کریں، اپنے ساتھ دوسروں کی سلامتی کا بھی خیال رکھیں، اور اس امانت کو وہی وقعت دیں جو خالق نے اسے دی ہے۔

۳۔ مال و زر کا بے جا اسراف — نفس پرستی کا آئینہ

مال اللّٰہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اور اس کا درست مصرف نہ صرف معاشی حکمت کا تقاضا ہے بلکہ شرعی ذمّہ داری بھی۔ تفریح اور سفر اگر عقل، اعتدال اور شکر گزاری کے ساتھ ہوں تو یہ زندگی میں تازگی، سکون اور توانائی بھرتے ہیں۔ مگر جب یہی عمل فضول خرچی، نمود و نمائش اور تکلف کی نذر ہو جائے تو یہ محض لذت نہیں بلکہ نفس پرستی کا آئینہ بن جاتا ہے۔

آج کے دور میں بعض لوگ تفریح کو ایک "مقابلہ نمائش” بنا دیتے ہیں۔ پانچ ستارہ ہوٹل میں قیام اس لیے کہ "تصویر خوبصورت آئے” اور سوشل میڈیا پر لائکس کی بارش ہو۔ ایک چھوٹے سفر کے لیے برانڈڈ سوٹ کیس، ڈیزائنر کپڑے اور مہنگے گیجٹس کا اہتمام، محض دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے۔ تفریحی مقام سے یادگار کے طور پر اتنی مہنگی اشیاء خریدنا جو الماری میں سالہا سال دھول کھاتی رہیں۔ یہ وہ رویے ہیں جو بظاہر خوشی اور کامیابی کا تاثر دیتے ہیں مگر حقیقت میں یہ "خالی پن” کی پردہ پوشی ہوتے ہیں۔

قرآنِ کریم صاف الفاظ میں فرماتا ہے: "إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ”۔ "بیشک فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں”۔ (الإسراء: 27)۔ اسی طرح ایک اور مقام پر حکم ہے: "كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ۔ کھاؤ، پیو مگر اسراف نہ کرو، بے شک اللّٰہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الأعراف: 31)۔ اسراف کے اثرات محض فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں پھیلتے ہیں۔ کم آمدنی والے طبقے میں حسد اور مایوسی جنم لیتی ہے۔ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنے کی دوڑ قرض کے بوجھ میں دھکیل دیتی ہے۔ قومی سطح پر وسائل کا غلط استعمال ترقی کی رفتار کو کم کر دیتا ہے۔

ایک خاندان اپنی شادی کی سالگرہ منانے کے لیے غیر ملکی ریزورٹ جاتا ہے، مگر اس سفر کی مالی قیمت اگلے کئی مہینوں کے بجٹ کو تباہ کر دیتی ہے۔ ایک دوستوں کا گروپ صرف ایک مہنگے کیفے میں کافی پینے کے لیے شہر کے دوسرے کونے تک سفر کرتا ہے، جب کہ قریب ہی ایک سادہ مگر معیاری جگہ دستیاب ہوتی ہے۔ تفریح اور سفر کا مقصد زندگی کو حسین بنانا ہے، نہ کہ جیب خالی کر کے وقتی تسکین حاصل کرنا۔ اگر ہم اپنی سیاحت اور خوشیوں کو شکر گزاری، سادگی اور اعتدال کے ساتھ گزاریں، تو یہ نہ صرف ہمارے دل کو سکون دیں گی بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثبت مثال بنیں گی۔

۴۔ قرضوں کے ذریعے خواہشات کی تکمیل — ایک خاموش تباہی

معاشرے کا ایک افسوسناک منظر یہ ہے کہ انسان اپنی اصل ضروریات اور محض عارضی خواہشات میں فرق کھو بیٹھا ہے۔ جہاں پہلے قرض لینا ایک غیر معمولی اور مجبوری کی حالت میں کیا جانے والا قدم سمجھا جاتا تھا، وہاں آج یہ ایک عام طرزِ زندگی بنتا جا رہا ہے۔ گویا قرض اب محض ایک سہولت نہیں بلکہ ’’چمک دمک کی دوڑ‘‘ میں شامل ہونے کا ٹکٹ بن گیا ہے۔ کئی لوگ اپنی استطاعت اور آمدنی کے پیمانے سے بہت آگے نکل کر صرف چند دن کی سیر و تفریح، کسی مہنگے شادیانے، یا ایک جدید ترین موبائل اور گاڑی کے حصول کے لیے بینکوں اور مالی اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں۔ چند لمحوں کی مسرت کے لیے مہینوں اور بعض اوقات سالوں کی قسطوں کا بوجھ سر پر لے لینا، اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے مستقبل کو زنجیروں میں جکڑ دینے کے مترادف ہے۔ نتیجہ یہ کہ قسطوں کی آخری تاریخیں دل پر بوجھ، ذہن پر دباؤ اور گھر میں کشیدگی کا سبب بن جاتی ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں قرض کو ایک بھاری امانت اور ذمّہ داری قرار دیا گیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: "مؤمن کی روح اس وقت تک معلق رہتی ہے جب تک اس کا قرض ادا نہ ہو جائے” (سنن ترمذی)۔ یہ کتنا سخت تنبیہی جملہ ہے کہ موت کے بعد بھی قرض کا حساب باقی رہتا ہے۔ مگر آج صورتحال یہ ہے کہ ہم قرض کو کھیل سمجھ بیٹھے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامؓ قرض لینے سے کس قدر گریزاں رہتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں بیت المال میں مال کی فراوانی تھی، مگر انہوں نے کبھی اپنی ذاتی آسائش کے لیے قرض نہ لیا۔ اس کے برعکس آج کا انسان، خواہ وہ متوسط طبقے کا ہو یا اعلیٰ طبقے کا، اکثر اوقات اس بات سے زیادہ فکر مند رہتا ہے کہ دوسروں کی نظر میں وہ کس درجے کا نظر آئے، نہ کہ یہ کہ اس کے مالی حالات کس حد تک متوازن ہیں۔

یہی رویہ رفتہ رفتہ ایک معاشرتی وبا میں بدل گیا ہے۔ بینکوں کی پرکشش آفرز، اقساط کی آسان شرائط اور اشتہارات کی چمک دمک نے لوگوں کے دل میں یہ سراب پیدا کر دیا ہے کہ قرض کے ذریعے ہر خواب فوراً پورا کیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سراب جلد ہی حقیقت کے کڑوے ذائقے میں بدل جاتا ہے وہ حقیقت جس میں تاخیر سے قسط دینے پر سود کا بوجھ، نوٹسز کی ہراسانی اور گھریلو تعلقات میں تلخی شامل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرض کو خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنانا گویا ایک ایسے گڑھے میں قدم رکھنا ہے جس میں ابتدا میں رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں، مگر اندر جا کر کانٹے ہی کانٹے ملتے ہیں۔ اسلام نے ہمیں میانہ روی، صبر اور قناعت کی تعلیم اسی لیے دی ہے تاکہ ہم محض ظاہری شان و شوکت کی خاطر اپنی زندگی کو مقروض غلامی میں نہ دھکیلیں۔

۵۔ مزید نقصانات اور اثرات — ایک گہرائی سے جائزہ

ان بے اعتدال رویوں کے ایسے پہلو بھی ہیں جو بظاہر معمولی لگتے ہیں مگر حقیقت میں معاشرتی اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا دیتے ہیں۔ یہ نقصانات کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ماحول اور آنے والی نسلوں پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں۔

● ماحولیاتی نقصان
تفریح کے نام پر جب انسان قدرت کے دامن میں قدم رکھتا ہے تو گویا اس کے پاس دو راستے ہوتے ہیں: یا تو وہ قدرتی حسن کو اپنی آنکھوں اور دل میں محفوظ کرے، یا پھر اپنی لاپرواہی سے اسے برباد کر دے۔ افسوس کہ اکثر لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پہاڑوں کی برف پوش وادیاں، جھیلوں کے کنارے اور ساحلی ریت یہ سب جگہیں پلاسٹک کی بوتلوں، کھانے کے ریپرز اور کوڑا کرکٹ سے اَٹی نظر آتی ہیں۔ یہ عمل نہ صرف جنگلی حیات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پورے ماحولیاتی توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔ ایک مشہور تحقیق کے مطابق پلاسٹک کے چھوٹے ذرات (microplastics) سمندری مچھلیوں کے جسم میں داخل ہو کر نہ صرف انہیں بلکہ بعد میں انسان کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ گویا تفریح کا لطف ختم ہوتے ہی اس کا زہر ماحول میں پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔

● وقت کا ضیاع
وقت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، مگر بے مقصد تفریحی منصوبے اس سرمائے کو ایسے ضائع کرتے ہیں جیسے پانی ریت میں گم ہو جائے۔ نہ کوئی علمی فائدہ، نہ جسمانی صحت میں بہتری، نہ ہی کوئی ایسا تجربہ جو زندگی کو سنوار سکے۔
یہ لمحاتی مشغلے ہمیں وقتی ہنسی تو دے دیتے ہیں مگر طویل المیعاد ترقی سے دور کر دیتے ہیں۔ جیسے ایک کسان اگر فصل بونے کے موسم میں کھیل تماشے میں لگ جائے تو بعد میں کھیت خالی رہ جاتے ہیں۔

● اخلاقی بگاڑ
مخلوط اور آزاد ماحول بظاہر "جدید طرزِ زندگی” کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر اکثر یہ حدود کے ٹوٹنے اور اخلاقی زوال کا دروازہ بن جاتا ہے۔ بے جا اختلاط، غیر ضروری میل جول اور بے پردگی نوجوان نسل کے ذہنوں میں حیا اور عزّتِ نفس کے تصورات کو کمزور کر دیتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی قوم میں عیش و عشرت کی محفلیں عام ہو گئیں اور حدود و ضوابط کمزور پڑ گئے تو ان کا انجام ہمیشہ زوال کی صورت میں نکلا خواہ وہ رومی سلطنت ہو یا اندلس کی رنگین راتیں۔

● سماجی تفاخر
مہنگی سیاحت، پرتعیش رہائش اور سوشل میڈیا پر ان کے مظاہرے ایک ایسا سماجی زہر ہیں جو آہستہ آہستہ معاشرے کے خلیوں میں سرایت کر جاتا ہے۔ جو لوگ یہ سب برداشت نہیں کر سکتے، ان کے دل میں محرومی اور حسد کی چنگاریاں سلگنے لگتی ہیں۔ یہ تفاخر نہ صرف طبقاتی خلیج کو بڑھاتا ہے بلکہ باہمی اعتماد اور محبت کو کمزور کر دیتا ہے۔ اسلام نے سادگی کو اس لیے پسند کیا ہے کہ وہ دلوں کو قریب لاتی ہے، جب کہ نمود و نمائش دلوں کو دور کر دیتی ہے۔

تفریح — برکت یا وبال؟

تفریح اور سیر و سیاحت اپنی اصل میں بُری چیز نہیں۔ یہ انسان کی فطری ضرورت ہے، جیسے بارش کے بعد زمین کے پیاسے ذرے پانی کو ترس رہے ہوں، ویسے ہی جسم و روح بھی تازگی اور سکون کے لمحات کے طلبگار ہوتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ نے خود اپنی زندگی میں صحابہؓ کو کھیل، سفر اور فطرت سے حظ اٹھانے کی اجازت دی، بشرط یہ کہ یہ سب میانہ روی اور پاکیزگی کے ساتھ ہو۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ کبھی تیر اندازی میں حصّہ لیتے، کبھی گھڑسواری میں مشغول ہوتے، اور کبھی فطرت کے دامن میں بیٹھ کر اللّٰہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے۔

لیکن جب یہی تفریح زندگی کا مقصد بن جائے، اور محض نفس کی عارضی تسکین یا معاشرتی نمائش کا آلہ بن کر رہ جائے، تو وہ چشمہ جو زندگی کو سیراب کرتا ہے، آہستہ آہستہ زہر آلود جھیل میں بدلنے لگتا ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: "وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا”۔ (کھاؤ، پیو مگر فضول خرچی نہ کرو) (الاعراف: 31)۔ یہی اصول تفریح پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر خوشی کا سامان ہماری جیب پر بوجھ ڈال دے، قرض میں جکڑ دے، یا ماحول اور اخلاق کو نقصان پہنچائے، تو وہ خوشی برکت نہیں بلکہ وبال بن جاتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ قدرت کے خوبصورت مقامات پر سیر کے لیے جاتے ہیں، مگر وہاں سے پلٹتے ہوئے اپنے پیچھے پلاسٹک، کوڑا کرکٹ اور آلودگی چھوڑ آتے ہیں۔ گویا خوشی کے چند لمحے زمین کے لیے صدیوں کا زخم بن جاتے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر پرتعیش سفروں اور مہنگی عیاشیوں کی نمائش سے معاشرتی حسد اور طبقاتی تفاوت کو ہوا ملتی ہے۔

صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم تفریح کو شکر گزاری، اعتدال اور ذمّہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ ایک عام پہاڑی سفر میں بھی دل کی خوشی مل سکتی ہے اگر ہم قدرت کی خوبصورتی کو سنبھال کر واپس آئیں، مقامی لوگوں کے ساتھ خیرسلوکی کریں، اور اپنے وسائل کے اندر رہ کر لطف اٹھائیں۔ یوں تفریح محض وقتی مسرت نہیں بلکہ ایک تعمیری تجربہ بن جاتی ہے ایسا تجربہ جو نہ صرف جسم و روح کو تازہ کرتا ہے بلکہ دل کو قناعت اور زبان کو شکر گزاری کا عادی بناتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتیں محض وقتی لذت کے لیے نہیں بلکہ شکر گزاری، اعتدال اور فلاحِ انسانیت کے لیے ہیں۔ سیر و تفریح کا مقصد روح کو تازگی دینا، طبیعت کو فرحت بخشنا اور قدرت کی عظمت کا مشاہدہ کرنا ہے، نہ کہ نفس کی خواہشات کی تکمیل اور دوسروں پر برتری جتانا۔

قرآن ہمیں خبردار کرتا ہے: "وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ” (الاعراف: 31) — "اسراف نہ کرو، بے شک اللّٰہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ اور رسول اکرمﷺ نے فرمایا: "لا ضرر ولا ضرار” — "نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ کسی کو نقصان دو”۔ لہٰذا اگر ہم اپنی تفریح کو ایمان کی روشنی میں، سماجی ذمّہ داری کے احساس اور ماحولیاتی امانت کے شعور کے ساتھ انجام دیں، تو یہ نہ صرف ہمارے لیے باعثِ سکون ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ان نعمتوں کو محفوظ رکھے گی۔ بصورتِ دیگر، ہماری بے احتیاطی اور اسراف انہی نعمتوں کو ہم سے چھین لے گا، اور پیچھے صرف حسرتیں اور بگاڑ چھوڑ جائے گا۔

(میری مؤرخہ 01؍ جولائی 2025ء کی تحریر بعنوان "سیر و تفریح یا خودکشی کی راہ؟ — بے احتیاطی، لاپرواہی اور جان لیوا رجحانات کا المیہ” اور مؤرخہ 26؍ جون 2025ء کی تحریر بعنوان "فارم ہاؤس کلچر — نمود و نمائش کا نیا فتنہ” بھی قارئین کی توجہ کے لائق ہیں۔ یہ دونوں مضامین موجودہ معاشرتی رویّوں اور تیزی سے بدلتے طرزِ زندگی کے اُن پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں جو خوشی اور آسائش کے نام پر ہمارے اخلاقی و سماجی وجود کو منفی سمتوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔)

✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!