جامنیر: بیٹاود خورد میں انسانیت سوز ہجومی تشدد ایکتا تنظیم کا انصاف کے لیے پُرزور مطالبہ، مکوکا اور سازش کی دفعات نافذ کرنے، اور متاثرین کی مرضی سے خصوصی سرکاری وکیل کی تقرری کا مطالبہ
ایس آئی ٹی تحقیقات اور سازش کی دفعات شامل کی جائیں گی: پولیس سپرنٹنڈنٹ

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) جامنیر تعلقہ کے گاؤں بیٹاود خورد میں 11 اگست 2025 کو پیش آنے والے انسانیت سوز ہجومی تشدد (موب لنچنگ) کے معاملے میں مرکزی ملزم، جو سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے، کی عدم گرفتاری پر عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ جلگاؤں ضلع ایکتا تنظیم نے ضلع سرپرست وزیر گلاب راؤ پاٹل کو ایک تفصیلی عرضداشت پیش کرتے ہوئے مرکزی ملزم اور کیفے مالک کی فوری گرفتاری، مقدمے میں سازش کی دفعات شامل کرنے، اور شکایت کنندہ کی پسند کے مطابق خصوصی سرکاری وکیل کی تقرری کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر مہیشور ریڈی اور ضلع کلکٹر آیوش پرساد بھی موجود تھے۔ اس بہیمانہ واقعے میں متاثرہ نوجوان پر جان لیوا حملہ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
ایکتا تنظیم کے فاروق شیخ نے کہا کہ ملزم ایک منظم جرائم پیشہ گروہ کا حصہ ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ سنگین جرائم سے بھرا پڑا ہے۔ لہٰذا، مکوکا اور بی این ایس 61(2) کے تحت سخت قانونی کارروائی کیے بغیر انصاف ممکن نہیں۔ایکتا تنظیم کے اہم مطالبات:مرکزی ملزم اور کیفے مالک کی فوری گرفتاری تعزیراتِ ہند کی دفعہ 120-بی یعنی بی این ایس 61(2) کے تحت سازش کا مقدمہ درج کیا جائے۔مہاراشٹر منظم جرائم کنٹرول ایکٹ (مکوکا) کا فوری نفاذ۔معاملہ فوری طور پر ایس آئی ٹی کے حوالے کیا جائے
متاثرہ خاندان کو 25 لاکھ روپے معاوضہ اور ایک فرد کو سرکاری ملازمت فراہم کی جائے
گواہان کے تحفظ کے لیے "گواہ تحفظ اسکیم” کا فوری نفاذ
سی آر پی سی دفعہ 24(8) کے تحت متاثرہ کی پسند کےمطابق خصوصی سرکاری وکیل مقرر کیا جائے۔تنظیم نے اپنے بیان میں ٹھوس شواہد اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سیاسی مداخلت کے ذریعے ملزمان کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے، اس لیے غیر جانبدار اور سخت قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔اس موقع پر مفتی خالد، فاروق شیخ، حافظ رحیم پٹیل، متین پٹیل، انیس شاہ، انور صیقلگر، مظہر پٹھان، عارف دیشمکھ، عبدالعظیم شیخ، مولانا عمران، رزاق پٹیل، مولانا قاسم ندوی، خان شکیل، ارباز شیخ، عرفان شیخ، حسن سید، عمر پٹیل، نجم الدین شیخ، غفران شیخ سمیت تنظیم کے دیگر عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔ عرضداشت کی نقول معزز وزیر داخلہ، معزز وزیر آفات انتظام، معزز اقلیتی کمیشن، معزز انسانی حقوق کمیشن، پولیس ڈائریکٹر جنرل، خصوصی انسپکٹر جنرل پولیس، ضلع کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔یہ صرف ایک مقدمہ نہیں، بلکہ انصاف، انسانی وقار اور آئین کی بالادستی کی جنگ ہے، جس میں پورا معاشرہ متاثرہ خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔




