جرائم

جامنیر میں وحشیانہ ہجومی تشدد ؛ پولیس بھرتی کا خواب دیکھنے والا نوجوان سلیمان رحیم خان موت کے گھاٹ،

"انصاف کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا'پولس اسٹیشن کا گھیراؤ

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی) ضلع جلگاؤں کے جامنیر تعلقہ کا چھوٹا بیٹاود گاؤں کا 21 سالہ سلیمان رحیم خان، جو پولیس فورس میں شمولیت کا خواب دیکھ رہا تھا، پیر 12 اگست کو ایک مشتعل ہجوم کے وحشیانہ تشدد کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے کو غم و غصے کی لپیٹ میں لے لیا،عوام میں چہ میگوئیاں ہے کہ یہ معاملہ لو جہاد کا ہے کیفے میں اس کے ساتھ ایک غیر لڑکی بھی تھی اس کے موبائل ہینڈ سیٹس میں اور دیگر غیر لڑکیوں کی تصویریں ہیں ۔مگر پولس نے اس پر کوی کمینٹس نہیں کیا ۔پولیس نے دشمنی کے شبے میں تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔واقعہ اس وقت پیش آیا جب سلیمان کھیت میں کام مکمل کرنے کے بعد جامنیر کے ایک سائبر کیفے میں پولیس بھرتی کا فارم بھر رہا تھا۔

چند افراد کے مطابق شبے کے بعد 10 تا 15 افراد پر مشتمل جھنڈ نے اس پر ٹوٹ کر وحشیانہ تشدد کیا۔ ملزمان پھر اسے کسی انجان مقام پر لے گۓ وہاں پانچ چھ گھنٹوں تک اس کی خوب پٹائ کی اس کے جسم کے ہر حصے پر زخم ہے اس کے پیر کے ناخن بھی نکال دیئے اتنا سب کرنے کے ساتھ ٩/١٠ لوگوں نے اسے ایک اکو گاڑی میں بیٹھا کر اس کے گھر پر فلمی انداز میں اسے پھینک دیا اس منظر کو دیکھ کر اس کی ماں باپ دادا و بہن نے احتجاج کیا تو انہیں بھی مارا بیٹا گیا اس منظر کو قصبہ کے تمام لوگوں نے دیکھا۔ شدید زخمی سلیمان نے گھر پہنچ کر اپنے والد اور دادا کو واقعے کی تفصیل سنائی، مگر کچھ دیر بعد بے ہوش ہو گیا۔

اسے جامنیر کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گیا۔ پولیس نے والد کی شکایت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے 15 ملزمان کی نشاندہی کی گئی۔ ضلع ایس پی مہیشور ریڈی کے مطابق تادم تحریر 4 گرفتاریاں ہو چکی ہیں اور باقی کی تلاش کے لیے 4 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مقدمہ دفعہ 103/1 اور 103/2 کے تحت درج ہے۔ماہرین کے مطابق، کسی پر بھی غیر قانونی تعلقات یا نابالغ کے ساتھ تعلق کا شبہ ہو تو کارروائی کا واحد قانونی راستہ پولیس اور عدالت ہے۔ ہجوم کا خود قانون ہاتھ میں لینا جرم ہے، جس کی سزا عمر قید یا سزائے موت تک ہو سکتی ہے۔ اس واقعے نے بھیڑ کے ہاتھوں قتل کے بڑھتے خطرے کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔سماجی رہنماء منیار برادری کے و ایکتا سنگٹھنا کے روح رواں فاروق نے کہا کہ سلیمان کا قتل صرف ایک جان کا نقصان نہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور قانون پر اعتماد کے قتل کے مترادف ہے۔ سلیمان کا جو بھی قصور ہو اسے سزا دینے کے لیے قانون و عدالت ہے۔

یہ واقع بیڑ کے سنتوش دیشمکھ کی نوعیت کا سا ہے لہٰذا ان پر بھی مکوکا قانون کے تحت کارروائی کی جائے ماندہ ملزمان کو فوراً گرفتار کیا جاۓ ۔ناسک ڈیویژن کے آئ جی دتاتریہ کراڑے رات سے جلگاؤں داخل ہو چکے ہیں قصبہ کا بھی انہوں نے دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا عوام سے امن وامان قائم‌ رکھنے کی اپیل کی مرحوم کے اہل خانہ و رشتے داروں نے جن الزامات کو درج کیا اور کاروائیوں کا مطالبہ کیا ہے ان کی تحقیقات کرکے قانونی کاروائی کی جاۓ گی کسی کو بھی بخشا نہیں جاۓ گا والدین و رشتے داروں کے مطالبہ کے مطابق جلگاؤں سول ہاسپٹل میں ان کیمرہ پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔

یہاں ہم تمام سے اپیل کرتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں پر خاص طور پر موبائل فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔ غلطیوں اور تنازعات کا حل قانون کے ذریعے نکالنا ہی تہذیب یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔سلیمان رحیم خان کا قتل انسانیت، انصاف اور معاشرتی رواداری کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ احتجاج اور مطالبات ضرور ہوں، مگر صبر، تحمل اور آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے، تاکہ مزید جانیں نہ جائیں اور قانون کی بالادستی قائم رہے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!