جلگاؤں میں وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف تاریخی “جیل بھرو تحریک”. ہزاروں افراد کا پُرامن مگر جذباتی احتجاج، صدرِ جمہوریہ کو 5 نکاتی مطالبات نامہ پیش
2,000 رضاکاروں نے خودسپردگی کی، متعدد سیاسی و سماجی رہنماؤں کی کھلی حمایت — مفتی خالد کا اعلان: "یہ تحریک ایمان، دستور اور انصاف کے تحفظ کی جنگ ہے!"

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی):
وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے خلاف وقف بچاؤ کمیٹی کے زیرِ اہتمام آج 27 اکتوبر کو جلگاؤں شہر کے جی۔ایس۔ گراؤنڈ پر ایک تاریخی، پُرامن مگر ولولہ انگیز “جیل بھرو احتجاج” منعقد کیا گیا۔اس احتجاج میں جلگاؤں اور اطراف سے ہزاروں مرد و خواتین، علما، طلبہ اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ فضا "وقف ہماری امانت ہے
سرکاری جائیداد نہیں” جیسے نعروں سے گونج اٹھی۔ دو ہزار مظاہرین نے رضاکارانہ خودسپردگی کی۔احتجاج کے اختتام پر تقریباً 2000 مظاہرین نے رضاکارانہ طور پر خودسپردگی اختیار کی۔
پولیس نے انہیں علامتی طور پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ 150 کے تحت گرفتار کر کے دفعہ 151 کے تحت رہا کردیا۔بعد ازاں وفد نے ایڈیشنل کلکٹر ڈاکٹر شمیبہ پاٹل سے ملاقات کی اور صدرِ جمہوریہ کے نام ایک میمورنڈم ڈاکٹر شریمَنت ہرکر کے توسط سے پیش کی۔ اس احتجاج کو مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کا کھلا تعاون حاصل رہا۔
بہوجن کرانتی مورچہ کی سُمترا اہیرے،
نیشنلسٹ کانگریس (اجیت پوار گروپ) کی پرتی بھا تائی شندے
اور وَنجت آگھاڑی کی سمیبھہ پاٹل نے
احتجاجی مقام پر پہنچ کر شرکاء سے خطاب کیا، حمایت کا اعلان کیا اور وقف ایکٹ کی ترمیم کو آئین و انصاف کے منافی قرار دیا۔ کمیٹی کے 5 بنیادی مطالبات۔ ١.وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو فی الفور منسوخ کیا جائے۔٢. وقف املاک پر مرکزی حکومت کا کنٹرول ختم کیا جائے۔
٣ وقف بورڈ کو آزاد، شفاف اور برادری کے منتخب نمائندوں کے ذریعے چلایا جائے۔
٤. وقف املاک پر قبضے اور غیرقانونی منتقلی کی تحقیقات کر کے مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
٥. مساجد، مدارس اور مزارات کے ای۔رجسٹریشن کی مدت دو سال تک بڑھائی جائے۔
مفتی خالد کا خطاب —
“یہ قانون آئینِ ہند کی روح کے خلاف ہے” کمیٹی کے صدر مفتی خالد نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا: “یہ نیا قانون آئینِ ہند کے آرٹیکل 25، 26، 29 اور 30 کے تحت دی گئی مذہبی آزادیوں پر براہِ راست حملہ ہے۔یہ نہ صرف مسلمانوں کے دینی حقوق کو متاثر کرتا ہے بلکہ ملک میں بےچینی اور عدمِ تحفظ کی فضا پیدا کر رہا ہے۔”کمیٹی کے کوآرڈینیٹر فاروق شیخ نے کہا: “ہماری تحریک کسی حکومت یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ہمارے ایمان، آئین اور انصاف کی بقا کے لیے ہے۔

اگر یہ ظالمانہ قانون واپس نہیں لیا گیا تو یہ تحریک صرف مہاراشٹر نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل جائے گی۔ احتجاج کا آغاز حافظ صاحب کی قراءتِ قرآن سے ہوا۔قاری شفیق پٹیل نے نعت پیش کی، حذیفہ عتیق نے روح پرور ترانہ سنایا۔
نظامت حافظ عبدالرحیم نے کی،نعرے بازی انیس شاہ، عابد شیخ اور عارف دیشمکھ نے سنائے۔
آخر میں شکیل سر نے شکریہ ادا کیا اور مفتی خالد کی امامت میں اجتماعی دعا کے ساتھ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔صدرِ جمہوریہ کو پیش کیا گیا
میمورنڈم ۔آخر میں وقف بچاؤ کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ پانچ نکاتی قرار دادیں۔ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر شریمَنت ہرکر کے توسط سے صدرِ جمہوریہ ہند کو پیش کی گئیں۔قرارداد میں حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ: “ملک میں امن، اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے.وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو فوراً منسوخ کیا جائے۔” یہ احتجاج جلگاؤں کی تاریخ کا وہ باب ہے جہاں ایمان، دستور اور وقار کے تحفظ کے لیے عوام نے پُرامن مگر پُرجوش انداز میں اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کیا۔




