مہاراشٹرا

جلگاؤں پولیس کا سنگین جرم – جبری مذہب تبدیلی، دو شادیوں کا انکشاف، مطلقہ لڑکی کے ساتھ دھوکہ اور ظلم”

“اگر اس مقام پر کوئی مسلم نوجوان ہوتا تو نہ جانے اب تک کیا ہوتا؟

ہم قانون و آئین کے دائرے میں رہ کر جد وجہد کریں گے” – ایکتا تنظیم کا مؤقف۔

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جلگاؤں سٹی پولیس اسٹیشن میں معاملہ نمبر 351/2025 درج کیا گیا ہے، جس میں ملزم پولیس افسر نتن کملاکر سپکالے پر الزام ہے کہ اس نے کولکاتہ کی ایک مسلم خاتون کو زبردستی مذہب تبدیلی پر مجبور کیا، شادی کا جھانسہ دے کر مختلف ہوٹلوں میں اس کی مرضی کے خلاف ظلم و ستم ڈھائے۔ اپنی پہلی بیوی کے زندہ ہوتے ہوئے اس نے مندر میں دوسری شادی رچا کر دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا۔متاثرہ خاتون کو چھ ماہ تک ایف آئی آر درج کرانے کے لیے راویر، نصیرآباد اور ایم آئی ڈی سی تھانے کے چکر لگوانے کے بعد بالآخر 23 ستمبر 2025 کو جلگاؤں سٹی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔

حیرت انگیز طور پر ملزم پولیس اہلکار اب تک گرفتار نہیں کیا گیا، جس پر عدل و انصاف کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ملزم کے خلاف درج دفعات ابھی تک صرف بی این ایس کی دفعات 69، 318(2)، 115(2)، 352، 351(3) اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔ تاہم، جلگاؤں ضلع یکجہتی تنظیم نے ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ اور سٹی پولیس انسپکٹر کو ایک عرضداشت دیتے ہوئے آئی پی سی کی اضافی دفعات 81، 82، 83، 87، 196، 198 اور 201 شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ ملزم پولیس افسر نے دو شادی، جعل سازی، جھوٹے کاغذات تیار کرنے اور سرکاری ملازم ہونے کے باوجود قانون کی خلاف ورزی جیسے سنگین جرائم انجام دیے ہیں۔
آئینی حقوق کی پامالی۔ایکتا تنظیم کے رکن فاروق شیخ نے کہا کہ یہ واقعہ متاثرہ خاتون کی مذہبی آزادی، شخصی آزادی اور مساوات کے بنیادی حقوق پر حملہ ہے۔ پولیس محکمے نے چھ ماہ تک ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کر کے عدالتی و انتظامی ناکامی کو آشکار کیا ہے۔ایکتا تنظیم کے مطالبات۔

1. ملزم پولیس افسر کو فوری گرفتار کر کے معطل کیا جائے۔2. اضافی دفعات شامل کر کے تحقیقات کو مزید مضبوط بنایا جائے3. تحقیقات خاتون پولیس افسران کے حوالے کی جائیں اور متاثرہ کا بیان مترجم کی موجودگی میں لیا جائے۔4. متاثرہ کو جلگاؤں میں قیام کے دوران پولیس تحفظ فراہم کیا جائے۔5. ایف آئی آر میں تاخیر کے ذمے دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ایکتا تنظیم کا مؤقف ضلع جلگاؤایکتا تنظیم کے کنوینر فاروق شیخ نے کہا: “اگر یہ جرم کسی اقلیتی نوجوان نے کیا ہوتا تو بعض انتہا پسند تنظیمیں سماج میں آگ لگا دیتیں۔ لیکن ہم ایسا کرنے کے بجائے قانونی دائرے میں رہ کر انصاف کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہمیں انصاف چاہیے، تشدد نہیں۔

”اعلیٰ حکام کو شکایت پیش۔ایکتا تنظیم نے یہ شکایت پولیس انسپکٹر سٹی پولیس اسٹیشن جلگاؤں، ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ، پولیس ڈ آئی جی، پولیس ڈی جی، وزیر مملکت برائے داخلہ، خواتین کمیشن، ہیومن رائٹس کمیشن اور اقلیتی کمیشن کو ارسال کی ہے۔ اس کی نقول ضلع کی خواتین تنظیموں کو بھی دی گئی ہیں۔ اس موقع پر موجود افراد میں مفتی خالد، فاروق شیخ، حافظ رحیم پٹیل، مولانا غفران، انیس شاہ، متین پٹیل، ایڈوکیٹ اویس شیخ، رزاق پٹیل، قاسم عمر، محسن پٹیل وغیرہ شامل تھے۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!