اسلامی
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر امین احسن اصلاحی کی جلگاؤں آمد ؛خطابِ عام میں ملکی و ملّی مسائل پر رہنمائی

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
ملک کے سیاسی و سماجی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایک طرف جمہوری اقدار کے تحفظ پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو دوسری طرف اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو اپنے وجود اور کردار کے بارے میں فکری الجھنوں کا سامنا ہے۔ ایسے نازک وقت میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرِ جماعت، جناب امین احسن اصلاحی 27 ستمبر بروز سنیچر جلگاؤں کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔مقامی جماعت اسلامی نے ان کی آمد پر مختلف پروگرام مرتب کیے ہیں، جن میں ارکان و رفقاء سے خصوصی نشست اور بعد نمازِ مغرب اقراء تھم کالج، مہرون کے وسیع میدان پر خطابِ عام شامل ہے۔ اس جلسے میں اصلاحی صاحب نہ صرف ملک و ملت کے درپیش مسائل پر روشنی ڈالیں گے بلکہ عالمی سیاست کے بدلتے منظرنامے میں
ہندوستانی مسلمانوں کے کردار اور ذمہ داریوں کا بھی تعین کریں گے۔
اراکینِ جماعت کے مطابق یہ خطاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کے اندر مسلم قیادت کو کمزور کرنے اور ان کے مسائل کو حاشیے پر ڈالنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ ایسے میں جماعت اسلامی کی یہ فکری و تنظیمی کاوش نہ صرف شعور بیدار کرنے کی کوشش ہے بلکہ عوام کو متبادل بیانیہ فراہم کرنے کی سمت ایک قدم بھی ہے۔خواتین کے لیے علیحدہ انتظام کیا گیا ہے تاکہ ہر طبقہ یکساں طور پر اس فکری رہنمائی سے استفادہ کر سکے۔ مقامی امیرِ جماعت ڈاکٹر شیخ عبداللہ نے جلگاؤں کے شہریوں سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع امت کے لیے اپنے مستقبل کے راستے متعین کرنے کا سنہری موقع ہے۔یقیناً یہ اجلاس محض ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ بدلتے حالات میں ایک سیاسی و سماجی پیغام بھی ہے، جو یہ باور کراتا ہے کہ ملت اپنی فکری و عملی بیداری کے ذریعے نہ صرف اپنے وجود کو محفوظ بنا سکتی ہے بلکہ ملک کی تعمیر میں مثبت کردار بھی ادا کر سکتی ہے۔




