مضامین

حج و عمرہ کی رخصتی اظہارِ محبت یا ایذا رسانی؟

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

اسلام ایک عظیم دینِ فطرت ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں حسنِ توازن اور اعلیٰ اخلاق کا درس دیتا ہے۔ عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق سبھی میں اصل مقصود یہ ہے کہ انسان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا فروغ ہو۔ اللّٰہ ربّ العزت نے ہمیں صرف عبادت ہی کی تعلیم نہیں دی بلکہ اس کے آداب، اس کے اثرات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مثبت معاشرتی رویّوں کا بھی حکم دیا ہے۔ بندۂ مومن کا ہر قدم، ہر عمل، ہر اظہارِ محبت اور ہر خوشی دین کے وقار اور ایمان کے تقدس کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔

حج و عمرہ اسلام کی نہایت عظیم عبادات ہیں۔ یہ وہ سفر ہے جہاں انسان اپنے ربّ کے حضور اپنی بندگی کا اقرار کرتا ہے، گناہوں کی بخشش طلب کرتا ہے اور روحانی پاکیزگی سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یہ سفر اخلاص، سادگی، انکساری اور مکمل توجہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات ہم ان مقدّس عبادات کے آغاز ہی میں ایسی صورتِ حال پیدا کر دیتے ہیں جس سے دوسروں کو اذیت ہوتی ہے، اور دین کی اصل روح مجروح ہو جاتی ہے۔

آج جب اسٹیشنوں، بس اڈوں اور ہوائی اڈوں پر حج و عمرہ کے مسافروں کی رخصتی کے نام پر ہجوم و شور، راستوں کی تنگی، اور دوسروں کے لیے مشکلات کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے تو دل میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل شریعت کے مزاج سے ہم آہنگ ہے؟ کیا عبادت کے مقدّس سفر کی شروعات ایسے عمل سے ہونی چاہیے جس میں ریا، نمائش اور ایذا رسانی کا پہلو نمایاں ہو؟ کیا ہمارا یہ طرزِ عمل اسلام کے حسین اخلاق اور مسلمانوں کی اعلیٰ نمائندگی کرتا ہے؟

یہ مضمون انہی سوالات کے صداقت پر مبنی جواب کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ اس میں نہ فقط دینی رہنمائی پیش کی گئی ہے بلکہ ہماری اجتماعی زندگی میں ضروری اصلاح اور اسلامی آدابِ سفر کی یاد دہانی بھی شامل ہے۔ مقصد کسی کی تنقید یا ملامت نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی آدابِ سفر کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اسلام کا تقاضا یہی ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنیں، نہ کہ پریشانی و تکلیف کا سبب۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ چند گزارشات پیشِ خدمت ہیں۔

کل رات آکولہ سے ممبئی گھر واپسی پر جب میں ریلوے اسٹیشن پہنچا تو دیکھا کہ عمرہ کے زائرین کو رخصت کرنے کے لیے چھوٹے بچّوں، خواتین اور بزرگوں کی ایک بڑی تعداد پلیٹ فارم پر جمع تھی۔ ہجوم اس قدر تھا کہ آنے جانے والے مسافروں کو شدید دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ہماری ٹرین کا ڈبہ کافی دور تھا، چنانچہ اس بھیڑ سے گزرتے ہوئے طبیعت پہلے ہی بوجھل ہوگئی تھی۔ ڈبے میں پہنچ کر گفتگو کا رخ خود بخود اسی منظر کی طرف مڑ گیا۔ مسافروں کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ عمرہ کے قافلوں کو چھوڑنے آنے والوں کی وجہ سے عام لوگوں کو کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ تھی کہ اسی تناظر میں کچھ غیر مسلم مسافروں نے اسلام اور مسلمانوں پر بلاجواز تنقید کا موقع بھی غنیمت جانا۔ چونکہ ڈبہ اے سی فرسٹ کلاس تھا، اس لیے ہر بات نہایت صاف سنائی دے رہی تھی۔

ہم نے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہوئے اسلامی اور دینی نقطۂ نظر مؤدبانہ انداز میں پیش کیا۔ چند افراد نے بات کی تحسین کی، جب کہ کچھ نے اپنے تعصب کا اظہار کرتے ہوئے دل کی بھڑاس بھی نکال ڈالی۔ اسی دوران یہ سوال ابھرا کہ کیا اسٹیشنوں، بس اڈوں اور ہوائی اڈوں پر بڑی بھیڑ کے ساتھ کسی کے سفر پر رخصت کرنے کے لیے جمع ہونا درست ہے؟ سفر کے آغاز میں ہونے والی اس گرما گرم گفتگو نے مجھے سوچنے اور لکھنے پر مجبور کر دیا۔ اسلامی تعلیمات کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دین میں ہر وہ عمل پسندیدہ ہے جو خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنے، اور ہر وہ رویّہ ناپسندیدہ ہے جس سے کسی کو تکلیف پہنچے، یا معاشرے میں افراتفری، ریاکاری اور دوسروں کے حقوق کی پامالی کا سبب بنے۔

لہٰذا دینی نقطۂ نظر سے اگر کسی مسافر کو رخصت کرنے کے لیے اجتماع کا مقصد خالص محبت، خیرخواہی اور دعا ہو، اور اس سے دوسرے مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے، نیز اس میں دکھاوا، شہرت پسندی یا فخر شامل نہ ہو تو ایسا عمل مباح اور جائز ہے۔ تاہم اگر یہ اجتماعات غیر ضروری ہجوم، راستوں کی بندش اور دوسروں کے لیے اذیت کا سبب بنیں تو ایسی صورت میں ان سے اجتناب ہی بہتر ہے، کیونکہ اسلام تکلیف پہنچانے کو حتیٰ المقدور روکنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن جب راستے بند ہوں، دوسرے مسافروں کو دھکے لگیں، ٹرینیں یا بسیں لیٹ ہوں، سیکورٹی یا انتظامیہ کو دشواری ہو، غیر مسلموں کے سامنے نامناسب منظر پیش ہو، حج و عمرہ جیسے مقدّس سفر کو تماشہ بنا دیا جائے، تو پھر یہ رویہ غیر شرعی اور مکروہ و قابلِ ناپسندیدگی ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح البخاری)۔ اور ایک اور جگہ فرمایا: "راستوں سے تکلیف دہ چیز دور کرنا صدقہ ہے” (مسلم)۔ جب راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا ثواب ہے تو راستے میں رکاوٹ اور تکلیف کا سبب بننا گناہ ہوگا۔ حج و عمرہ کی اصل روح! عاجزی، سادگی، اخلاص اور دکھاوا سے پاک دل جب کہ یہ بھیڑ اکثر اوقات فخر و نمائش کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ صحابۂ کرامؓ اور سلفِ صالحین کا طرزِ عمل یہ تھا کہ نہ وہ قافلوں کی نمائش کرتے، نہ بے جا ہجوم جمع کرتے اور نہ ہی غیر ضروری تشہیر میں مبتلا ہوتے۔ وہ نہایت سادگی اور خاموشی کے ساتھ سفر پر روانہ ہوتے اور دعا و شکر کے ساتھ واپس لوٹتے۔ ان کے نزدیک حج کی عبادت کا اصل جوہر اخفیت یعنی سکون، انکساری اور اخلاص تھا، جسے وہ پوری سنجیدگی اور وقار کے ساتھ اختیار کرتے تھے۔

اسلام اپنے ماننے والوں کو یہ شرف عطاء کرتا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں، اپنے کردار کے ذریعے اللّٰہ کے دین کی نمائندگی کریں۔ مسلمان کا ہر عمل، ہر رویّہ اور ہر گفتگو دراصل اس ایمان کا تعارف ہوتی ہے جس کا وہ دعوے دار ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے مسلمانوں کو "اُمّتِ وسط” قرار دیا؛ ایسی امت جو عدل، اخلاق، توازن اور حسنِ کردار میں دنیا کے لیے نمونہ ہو۔ مسلمان کو صرف عبادت گزار ہی نہیں، بلکہ ایک باوقار اور مہذب انسان بننے کی تعلیم دی گئی ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے اپنی پوری زندگی یہ دکھایا کہ تبلیغ صرف زبان سے نہیں ہوتی، کردار سے ہوتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: "میری بعثت کا مقصد اخلاقِ حسنہ کی تکمیل ہے”۔

جب غیر مسلم ہماری دیانت، خوش خلقی، راست بازی اور انصاف پسندی کو دیکھتے ہیں تو وہ اسلام کی اصل روح سے متعارف ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے رویّوں سے تکبر، بے نظمی، شور و ہنگامہ، یا دوسروں کی حق تلفی ظاہر ہو تو ہم نادانستہ اسلام کی غلط تصویر پیش کرتے ہیں۔ یہ غلط نمائندگی صرف ہماری نہیں، بلکہ پورے دین کی بدنامی کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ ہماری موجودگی لوگوں کے لیے رحمت اور سکون کا ذریعہ بنے۔ سفر ہو یا تجارت، سماجی معاملات ہوں یا گفتگو ہر مقام پر وقار اور اخلاص نمایاں ہو۔ ہم تعصب اور نفرت کے ماحول میں بھی اعلیٰ ظرفی، حلم اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ مسلمان کا کردار اس کا سب سے بڑا تعارف ہے۔ جہاں اخلاق خاموش ہو جائے، وہاں کتنی ہی بلند آواز میں دعوت دی جائے، اثر باقی نہیں رہتا۔ ہم جتنا اپنے کردار کو درخشاں بنائیں گے، اتنا ہی اسلام کی روشنی دوسروں تک پہنچے گی۔ یہی دین کی اصل سفارت کاری ہے؛ اعمال کی زبانی دعوت۔

اسلام ہمیں ہر معاملے میں اعتدال، حکمت اور وقار کی تعلیم دیتا ہے۔ حج و عمرہ جیسی عظیم عبادت کی رخصتی کا موقع یقیناً خوشی، روحانیت اور امید کا لمحہ ہوتا ہے، لیکن اس خوشی کے اظہار کا بہترین طریقہ وہ ہے جس میں سادگی اور اخلاص نمایاں ہو۔ گھر یا مسجد میں مختصر دعا کی مجلس منعقد ہو جائے تو یہی سب سے زیادہ بہتر اور باوقار اندازِ رخصتی ہے۔ اس موقع پر صرف قریبی اعزاء کا ساتھ جانا کافی ہے، تاکہ سفر کرنے والے کی سہولت بھی رہے اور دوسروں کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو۔ اس کے برعکس، اسٹیشنوں، بس اڈوں یا ہوائی اڈوں پر بڑے گروہوں کی صورت میں جمع ہونا اکثر بے جا ہجوم اور شور و غل کا سبب بن جاتا ہے، جس سے دوسرے مسافروں اور عملے کو شدید تکلیف پہنچتی ہے۔ اسلام ایسے ہر عمل سے روکتا ہے جو دوسروں کے لیے اذیت اور بے ترتیبی کا سبب بنے، کیونکہ ایذا رسانی عبادت نہیں بلکہ گناہ ہے۔ عبادت کی ابتداء کسی کے حق تلف کرنے اور تکلیف دینے سے نہیں ہونی چاہیے۔

حج و عمرہ پر جانے والے کی رخصتی کے سلسلے میں اجتماع کے بارے میں شریعت کا اصول نہایت واضح اور جامع ہے۔ جس کام میں خیر اور سہولت ہو وہ پسندیدہ ہے، اور جو تکلیف و فساد کا ذریعہ ہو وہ ناپسندیدہ۔ اسی اصول کی روشنی میں صورتِ حال کے مطابق حکم یہ ہے!! اگر اجتماع میں نہ دکھاوا ہو، نہ راستہ بند ہو، نہ کسی مسافر یا عملے کو مشقت ہو، اور مقصد صرف محبت، دعا اور خیرخواہی ہو جائز (مباح) ہے۔ رسولﷺ نے بیمار کی عیادت اور سفر کے وقت دعا کی ترغیب دی، بشرطیکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ اگر اجتماع ریا، شور و غل، راستوں کی بندش، افراتفری یا دوسروں کی اذیت کا باعث ہو ناجائز و مکروہ ہے۔ نبیﷺ کا ارشاد: "لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ” یعنی نہ خود نقصان دو، نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ۔ (ابن ماجہ)

اسلام میں اجتماع یا خوشی کا اظہار منع نہیں، لیکن ایذا رسانی اور ریاکاری سے منع کیا گیا ہے۔ حج و عمرہ کی عظمت اخلاص، سادگی اور سکون میں ہے، نمود و نمائش میں نہیں۔ عبادت کی شروعات ہی ایسے عمل سے ہو جو دعا، احترام اور حسنِ اخلاق پر مبنی ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ رخصتی کی تقریب عبادت کے وقار سے ہم آہنگ ہو! نہ نمود و نمائش، نہ شور و ہنگامہ؛ بلکہ خشوع، دعا، محبت اور خیرخواہی۔ اگر ہم اس اصول کو ملحوظ رکھیں تو نہ صرف ہماری عبادات زیادہ قبولیت کے قابل بنیں گی بلکہ ہم معاشرے میں اسلام کی خوبصورت تصویر بھی پیش کریں گے۔

جس سفر کی ابتداء ہی دوسروں کے لیے اذیت اور بے چینی کا باعث ہو، اس سفر میں روحانی برکت اور قبولیت کی کیفیت برقرار رہنا مشکل ہو جاتی ہے۔ خصوصاً حج و عمرہ جیسے عظیم سفر، جو بندے کی زندگی میں ایمان اور بندگی کی ایک منفرد منزل ہوتے ہیں۔ ایسے سفر کا آغاز تکبر، نمود و نمائش یا ہجوم کے شوروغل سے نہیں، بلکہ سکون، دعا اور فروتنی سے ہونا چاہیے۔ حج اور عمرہ عبادتِ اخلاص ہیں، ایک ایسا سفر جہاں قدم قدم پر بندگی کا امتحان ہوتا ہے۔ وہاں نیت کا خالص ہونا سب سے بنیادی شرط ہے۔ اگر ہم رخصتی کے موقع پر لازمی شرعی آداب کو پسِ پشت ڈال کر دکھاوے اور شور و ہنگامے میں پڑ جائیں تو عبادت کی اصل روح کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسلام میں عبادت کا وقار یہ ہے کہ لوگ دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں، دکھاوے کے ساتھ نہیں۔ راستے کھلے رہیں، بند نہ ہوں۔ دلوں میں نرمیاں ہوں، تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ کوئی ہمیں دیکھ کر متاثر ہو، مشتعل نہ ہو۔ عبادت کا سفر صبر، تحمل، سادگی اور ترکِ نفس کا سفر ہے۔ جو قدم ہم حرم کی طرف بڑھاتے ہیں، وہی قدم ہماری نیت کی پاکیزگی اور ہمارے اخلاق کی علامت بن جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہماری ہر حرکت اس عظیم سفر کی روح کے مطابق ہو۔ آخر میں دعا ہے! اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین کی اصل حقیقت کو سمجھنے اور پوری سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

🗓 (26.11.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!