مضامین

حفاظتِ دختر بیٹیوں کے لیے نئی فصیلوں کی تعمیر

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

انسانی معاشروں کی بقاء، ان کی عزّت، ان کے اخلاق اور ان کے مستقبل کا دارومدار نسلوں کی حفاظت اور ان کی صحیح تربیت پر ہے۔ اور انہی نسلوں میں سب سے زیادہ قیمتی، سب سے زیادہ نازک، اور سب سے زیادہ ذمّہ داری مانگنے والی امانت بیٹیاں ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: "اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس قُصور میں مار ی گئی؟” (التکویر: 8-9)۔ یہ صرف جہلِ جاہلیت کے گڑے ہوئے گناہوں کا ذکر نہیں یہ ہر اس معاشرے پر حجت ہے جو اپنی بیٹیوں کو تحفّظ، احترام، محبت اور عزّت دینے میں ناکام ہو جائے۔ وہ قتل صرف خاک میں دفنانے کا نام نہیں؛ بیٹیوں کے اعتماد کو توڑ دینا بھی قتل ہے، ان کی معصومیت کو اندھی سڑکوں پر چھوڑ دینا بھی قتل ہے، انہیں تربیت، رہنمائی اور اخلاقی ڈھال سے محروم رکھنا بھی ایک خاموش لیکن خوفناک موت ہے۔

رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: "جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں ادب سکھایا، ان پر شفقت کی اور ان کی ذمّہ داری نبھائی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا” (مسلم)۔ یہ حدیث صرف فضیلت نہیں، ایک اعلان ہے کہ بیٹیوں کی حفاظت، تربیت اور نگہداشت ایک دینی فریضہ ہے، عبادت ہے، قربتِ الٰہی کا راستہ ہے، اور اس اُمّت کی غیرت و حمیت کا معیار ہے۔ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں فتنوں کی یلغار تیز تر ہے۔ وقت کی رفتار وہی ہے مگر اس کی دھڑکنیں بدل گئی ہیں۔ گھر محفوظ نہیں رہے، گلیاں بے حس ہو گئیں، محلے ذمّہ داری سے خالی ہو گئے، اور سوشل میڈیا نے پردے چاک کرنے والے ہزاروں دروازے کھول دیے ہیں۔ ایسے میں بیٹیوں کی حفاظت محض ایک سماجی تقاضا نہیں یہ ایک شرعی ذمّہ داری، ایک ایمانی امتحان اور ایک اجتماعی فرضِ کفایہ ہے۔

قرآن ہمیں متنبہ کرتا "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے…”۔ (التحریم: 6)۔ یہ آیت آج کے زمانے میں گویا ہمارے کانوں میں پکار رہی ہے۔ اپنی بیٹیوں کے قدموں کو سنبھالو، ان کے دلوں کو علم و اخلاق کی روشنی سے منور کرو، ان کی حفاظت کو صرف دروازوں اور تالوں تک محدود نہ رکھو، بلکہ ان کے کردار، سوچ، اعتماد اور بصیرت کے اطراف ایسی فصیل بنا دو جسے کوئی فریب، کوئی دھوکہ، کوئی اندھی محبت اور کوئی زہریلی چمک چیر نہ سکے۔

اُمّتِ مسلمہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بیٹیاں محفوظ رہیں، تو نسلیں محفوظ رہیں؛ جب بیٹیاں باحیاء، باشعور اور بااعتماد ہوئیں،
تو قومیں طاقت ور، باوقار اور فکری اعتبار سے روشن ہوئیں۔ اور جب بیٹیوں کی حفاظت میں غفلت ہوئی، تو قومیں زوال کی طرف ڈھلک گئیں۔ آج ہمارا زوال بھی ہماری آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے اور اس کے ہاتھوں میں وہی بیٹیاں ہیں جنہیں ہم نے دنیا کے تیز طوفان کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ یہ مضمون اسی درد کی صدا ہے، اسی زوال کا نوحہ بھی، اور اسی نئی بیداری کی دعوت بھی کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت سمجھ کر ان کی حفاظت، تربیت، رہنمائی اور اخلاقی حصار کے لیے نئے عزم اور نئے جذبے کے ساتھ کھڑے ہوں۔

یہ چند سطریں حقیقت میں ہمارے دورِ زوال کا نوحہ بھی ہیں اور ہماری اجتماعی بے حسی کی ایک تلخ شہادت بھی۔ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں بیٹیوں کی حفاظت کے نام پر صرف بیانات، افسوس اور رسمی تعزیتیں باقی رہ گئی ہیں، مگر عملی اقدام، اجتماعی غیرت اور مؤثر حکمتِ عملی عنقا ہوتی جارہی ہے۔ خطرے کی گھنٹیاں مدتوں سے بج رہی ہیں۔ زور سے، مسلسل، بے رحمی کے ساتھ، لیکن ہمارے دلوں اور سماجی ضمیروں پر جیسے کوئی پتھر رکھ دیا گیا ہو۔

دو معصوم لڑکیوں کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے، وہ محض چند سیکنڈ کا ایک کلپ نہیں؛
وہ ہمارے سماج کی روح پر پڑا تازہ زخم ہے۔
ایک ایسا آئینہ ہے جو ہمارے چہروں سے نقاب اتار دیتا ہے۔ ایک ایسی چبھن ہے جو پوچھتی ہے کہ آخر کس مرحلے پر ہم نے اپنی ذمّہ داریوں سے آنکھیں پھیر لیں؟ یہ ویڈیو ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ دو لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوا، بلکہ یہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہماری غفلت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ ہمارے گھروں، خاندانوں، بستیوں اور تعلیمی اداروں کے بیچ بڑھتی ہوئی اندھی کھائی کی خبر دیتی ہے۔ یہ اس ٹوٹے ہوئے رشتے کی گواہ ہے جسے کبھی ہم نے تربیت، نگرانی، شفقت اور اخلاقی رہنمائی کے مضبوط دھاگوں سے باندھا تھا۔

اصل مسئلہ یہ دو لڑکیاں نہیں… اصل مسئلہ وہ پوری نسل ہے جو ہماری نظریں چرا لینے سے، ہماری بے جا مصروفیات سے، اور ہمارے منتشر نظامِ تربیت سے گم ہوتی جارہی ہے۔ وہ نسل جو اس تیز رفتار ڈیجیٹل طوفان میں اپنی معصومیت، اعتماد اور حساسیت کھو رہی ہے۔ وہ نسل جس کے ہاتھوں سے ہم نے اسمارٹ فون تو پکڑا دیا، مگر ان ہاتھوں کو زندگی کی سمت دینے والی رہنمائی نہیں دی۔ جس کے لیے ہم نے آسائشیں تو جمع کیں، مگر حفاظت اور شعور کے قلعے تعمیر نہ کر سکے۔ یہ ویڈیو ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ اب خاموش رہنا جرم ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بیٹیوں کا تحفّظ صرف چوکیداروں یا پولیس کی ذمّہ داری نہیں، یہ ماں کی آنکھوں کا نور، باپ کے اعتماد، اساتذہ کی رہنمائی، معاشرے کے ماحول اور میڈیا کے اثرات سب کی مشترکہ امانت ہے۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کی نیند کو چیر کر اٹھ کھڑے ہوں۔ ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے وہی صفتِ مادری اختیار کریں جو کبھی قوموں کی بنیادیں مضبوط کرتی تھی۔ ہم اپنے بیٹوں کی تربیت میں وہی غیرت اور حساسیت پیدا کریں جو زمانوں سے معاشروں کو محفوظ بناتی آئی ہے۔ یہ ویڈیو ہمیں آخری بار خبردار کر رہی ہے کہ اگر ہم نے اب بھی غفلت کا دامن نہ چھوڑا تو آنے والی نسلیں صرف ہماری خاموشی کا ماتم کریں گی۔ یہ چند سطریں اسی ماتمی نوحے کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ نوحہ جسے روکنے کے لیے ہمیں اپنے گھروں سے، اپنی سوچوں سے، اپنی ترجیحات سے، ایک انقلابی تبدیلی شروع کرنا ہوگی۔

خاموشی اب جرم ہے! واقعی جرم!! وہ جرم جس میں ہر وہ شخص شریک ہے جو دیکھتا ہے، سمجھتا ہے، محسوس کرتا ہے… مگر بولنے، سنبھالنے اور روکنے کی ہمت نہیں کرتا۔ آج کے اس شور زدہ دور میں، جہاں آوازیں بہت ہیں مگر سچائی کم، جہاں روشنی بہت ہے مگر بصیرت کم، وہاں خاموش رہنا صرف بزدلی نہیں؛ یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر خود اپنے ہاتھوں سے تاریکی مسلّط کرنے کے مترادف ہے۔ جب بیٹیاں غیر محفوظ ہوں، جب ان کی معصومیت روز درندگی کے تھپیڑے کھائے، جب ان کے گرد فریب، دھوکے اور سوشل میڈیا کے اندھے طوفان اپنے پنجے گاڑتے جائیں تو پھر قوم کو صرف قوم نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ایک ماں بن جانا چاہیے۔

ماں کی طرح جاگنا پڑتا ہے، وہ جاگ جو راتوں کی نیند چھین لے، جو بچّوں کے خوابوں سے زیادہ ان کی سلامتی کے پہرے بٹھائے۔ ماں کی طرح سینہ سپر ہونا پڑتا ہے، وہ سینہ سپر ہونا جس میں خوف کے لیے جگہ نہ ہو، جو غلطی کی پہلی دستک پر دیوار بن کر کھڑا ہو جائے۔ ماں کی طرح حصار بننا پڑتا ہے۔ وہ حصار جو دنیا کی ہر چال، ہر دھوکے، ہر جعل ساز محبت کے سامنے ایک محفوظ دیوار کی طرح کھڑا رہے۔ یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں… یہ ایک اجتماعی مرثیہ ہے۔ ایک ایسا مرثیہ جو ہمارے اجتماعی نظامِ تربیت کی کمزوریوں پر پڑھا جا رہا ہے۔ یہ کسی ایک گھر، ایک خاندان، یا ایک لڑکی کی کہانی نہیں؛ یہ ہماری پوری سماجی ساخت کی لرزتی بنیادوں کا اعلان ہے۔

ہم نے اپنی بیٹیوں کو جذبات کی بے لگام آندھیوں، سوشل میڈیا کے چمکتے مگر زہریلے دھارے، اور فیک محبت کے پرفریب بازار کے سپرد کر دیا۔ وہ دنیا جہاں! میٹھی باتیں آہستہ آہستہ زہر بن جاتی ہیں، جھوٹے وعدے عمر بھر کے زخم چھوڑ جاتے ہیں، اور چند لمحوں کی مصنوعی خوشی پوری زندگی کی قیمت وصول کرتی ہے۔ ہم نے انہیں ٹیکنالوجی دے دی، لیکن شعور نہیں دیا۔ ہم نے انہیں آزادی دے دی، مگر حدود اور احتیاط کا شعور نہیں دیا۔ ہم نے ان کے ہاتھوں میں موبائل پکڑا دیا، مگر ان دلوں میں وہ مضبوطی نہیں اُتاری جو کبھی ماں باپ کے سائے سے خود مل جاتی تھی۔

یہ خاموشی صرف ایک غفلت نہیں! یہ ایک پوری نسل کے مستقبل سے غداری ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم اس بے حسی کی نیند کو چیر کر اٹھیں۔ اپنی بیٹیوں کے گرد محبت، اعتماد اور حکمت کا حصار دوبارہ تعمیر کریں۔ اپنی گفتگو، اپنی تربیت، اپنے گھر کے ماحول، اور اپنے معاشرتی رویوں کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اگر ہم نے اب بھی خاموشی نہ توڑی تو آنے والے کل میں یہی خاموشی ہماری بیٹیوں کے آنسوؤں کی صورت ہمیں زندہ دفن کر دے گی۔ یہ لمحہ فیصلہ کا ہے! یا ہم ماں بن کر جاگ جائیں، یا پھر اپنی غفلت کی آگ میں آہستہ آہستہ جلتے رہیں۔

اب زمانہ بدل چکا ہے، لہٰذا ذمّہ داریوں کی تعریف بھی نئی ہونی چاہیے۔ بیٹیوں کی حفاظت اب محض نصیحتوں سے نہیں ہوتی وہ دور گزر چکا جب ایک دو جملے یا چند سخت ہدایات سے بچیاں سنبھل جاتی تھیں۔ آج کی دنیا زیادہ پیچیدہ، زیادہ رنگین، اور کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ یہاں حفاظت کسی ایک لفظ، ایک تقریر یا ایک پابندی کا نام نہیں… بلکہ یہ عمل مانگتی ہے… وقت مانگتی ہے… محبت مانگتی ہے… رہنمائی مانگتی ہے…
احتیاط اور مسلسل نگرانی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہاں نگرانی کا مطلب جاسوسی یا بے جا پابندی نہیں، بلکہ وہ نگہداشت ہے جو دلوں کو قریب کرتی ہے، وہ موجودگی ہے جو اعتماد پیدا کرتی ہے، وہ شعور ہے جو غلط قدم کو بروقت روک لیتا ہے۔

آج ہر باپ کو اپنی بیٹی کا باپ ہی نہیں، بلکہ اس کا دوست بھی بننا ہوگا۔ وہ دوست جس کے سامنے بیٹی کو نہ شرم محسوس ہو،
نہ خوف، نہ یہ دھڑکا کہ "بابا ناراض ہوجائیں گے”۔ اسے ایسا سہارا چاہیے جو اس کے دل کے ہر بھید کو سن سکے، اس کی الجھنوں، اس کی خواہشوں اور اس کے وسوسوں کو سمجھ سکے۔ ہر ماں کو بھی اپنی بیٹی کے دل کے دروازے پر صرف دستک نہیں دینی
بلکہ اس دل کے اندر روشنی بن کر اترنا ہوگا۔
بیٹی ماں کا آئینہ ہوتی ہے اور آئینہ تبھی صاف رہتا ہے جب اس پر روزانہ محبت، گفتگو اور توجہ کا لمس رکھا جائے۔
ہر خاندان کو ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں بیٹیاں اعتماد سے بات کر سکیں، اپنے خوف بیان کر سکیں، اپنی کمزوریاں چھپا کر رکھنے پر مجبور نہ ہوں۔ ایسا گھر جو صرف چار دیواری نہ ہو، بلکہ ایک پناہ گاہ ہو جہاں بچیاں یہ محسوس کریں کہ اگر دنیا میں کوئی جگہ محفوظ ہے تو وہ ان کا اپنا گھر ہے، ان کے اپنے لوگ ہیں۔ یہ ذمّہ داری کی نئی تعریف ہے! وہ تعریف جو محض الفاظ نہیں، بلکہ عمل سے لکھی جاتی ہے۔ وہ عمل جو نسلوں کو محفوظ کرتا ہے، جو کرداروں کو مضبوط کرتا ہے، جو بیٹیوں کو صرف بچاتا نہیں… بلکہ انہیں باوقار، باحوصلہ اور بااعتماد انسان بناتا ہے۔ اگر ہم نے یہ نئی تعریف نہ اپنائی تو پرانی غفلتیں مستقبل کی دوبارہ لکھی گئی کہانیاں بن جائیں گی اور وقت کسی کی حماقت کو بار بار معاف نہیں کرتا۔
مسجد محض نماز کی جگہ نہیں یہ ایک اُمّت کے اخلاقی، فکری اور روحانی وجود کا دل ہے۔ اس کی محرابیں صرف اللّٰہ کی طرف متوجہ ہونے کی علامت نہیں، بلکہ وہ نسلوں کو راستہ دکھانے والی روشنی کی کرنیں بھی ہیں۔ مسجد وہ مقام ہے جہاں ایمان کی گرمی دلوں میں اترتی ہے، جہاں کردار کی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، اور جہاں انسانیت کی اصل عظمت سمجھ میں آتی ہے۔ اسی طرح محلہ صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں؛ یہ مشترکہ نگرانی، باہمی خیر خواہی، اور اجتماعی ذمّہ داری کا وہ دائرہ ہے جس کے مضبوط ہونے سے معاشرہ محفوظ ہوتا ہے اور جس کے ٹوٹنے سے بگاڑ تیزی سے پھیل جاتا ہے۔ محلہ اُس خاندان کی طرح ہے جس میں کمزور کا سہارا بننا فرض ہے، اور بے راہ روی کے دروازے پر روک تھام کرنا سب کا مشترکہ فریضہ۔
آج ضرورت ہے کہ مساجد اور محلوں کے کردار کو نئی معنویت دی جائے۔ ہر محلے میں ایسی مجالسِ خیر، تربیتی حلقے اور شعوری نشستیں ہونا چاہئیں جہاں بیٹوں اور بیٹیوں سے صرف نیکی کا درس نہ دیا جائے، بلکہ زندگی کے حقیقی خطرات سے بھی آگاہ کیا جائے۔ وہ خطرات جو سوشل میڈیا، جھوٹی محبت، جذباتی کمزوری اور اخلاقی انتشار کی صورت میں نوجوان نسل کو گھیر رہے ہیں۔ نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں کو یہ بتایا جائے کہ محبت کوئی اسکرین سے نکلنے والی روشنی نہیں، یہ کردار، ذمّہ داری اور اصول سے جنم لیتی ہے۔ سوشل میڈیا جذبات کا سودا کرتا ہے، لیکن زندگی عقل، تجربے اور اخلاق سے بنتی ہے۔ دھوکہ ہمیشہ خوفناک آنکھوں سے نہیں آتا، یہ اکثر سب سے میٹھی مسکراہٹ، سب سے خوبصورت الفاظ، اور سب سے نرم لہجے میں لپٹا ہوتا ہے۔ ہر رشتہ جو آسانی سے مل جائے، ضروری نہیں محفوظ بھی ہو؛ بسااوقات حقیقی نقصان وہیں سے آتا ہے جہاں اندازہ تک نہیں ہوتا۔
مساجد میں نوجوان بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے کردار سازی کے پروگرام ہونے چاہئیں۔ ایسے پروگرام جو انہیں یہ سمجھائیں کہ دین فقط عبادت کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع زندگی کا طریقہ ہے؛ کہ غیرت، حیاء، ایمان، اعتماد، اور عقل یہ سب ایک مومن کی پہلی ڈھالیں ہیں۔ محلوں میں بزرگ اور ذمّہ دار افراد نوجوان نسلوں کے لیے مشیر، رہنما اور خیرخواہ بن کر کھڑے ہوں جو ان کی بات بھی سنیں، ان کے سوالات بھی قبول کریں، اور مشکل وقت میں ان کے سامنے کھلی راہیں بھی رکھیں۔ اگر مسجد اپنی روشنی سے دلوں کو روشن کرے، اور محلہ اپنی ذمّہ داری سے گھروں کو محفوظ رکھے، تو پھر نہ صرف بچیاں… بلکہ پوری نسل ایک ایسی ڈھال میں آجائے گی جسے کوئی فریب، کوئی جھوٹ، کوئی ریا کاری آسانی سے چیر نہیں سکتی۔ یہ وہ کردار ہے جو اگر بحال ہوجائے تو نہ صرف واقعات رکیں گے بلکہ دل واپس امن، وقار اور اخلاق کی روشنی سے بھرنے لگیں گے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ چپکے سے ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ وقت کی رفتار وہی ہے مگر اس کی دھڑکنیں تیز ہو گئی ہیں۔ ایسے جیسے وہ ہمیں جھنجھوڑ کر کہنا چاہتا ہو کہ اب ایک لمحے کی غفلت بھی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں تاخیر خود ایک خطا، اور خاموشی خود ایک جرم بن چکی ہے۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے… اگر ہم آج بھی صرف گفتگو پر اکتفا کرتے رہے، اگر ہم نصیحتوں کے زیور سے عمل کی حقیقت کو محروم رکھتے رہے، اگر ہم اپنی بیٹیوں کو جذبات، خواہشات، دھوکوں اور سوشل میڈیا کی بے رحم دنیا کے حوالے تنہا چھوڑتے رہے تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔ وہ دیر جس کے بعد صرف ماتم بچتا ہے، صرف پچھتاوے کی گونج باقی رہ جاتی ہے، وہ دیر جس کی چوٹیں الفاظ سے نہیں بھرتیں بلکہ وقت بھی انہیں بھرنے سے قاصر رہتا ہے۔
یہ محض ایک فرد، ایک خاندان یا ایک شہر کا مسئلہ نہیں… یہ اجتماعی اذان ہے! جو پوری قوم کے کانوں میں بار بار دی جا رہی ہے کہ اٹھو، سنبھلو، بدل جاؤ۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ذمّہ داریوں کو نئی سنجیدگی سے سمجھیں، اپنی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دیں، اور اپنی بیٹیوں کے گرد خیال، محبت، حفاظتی آگہی اور اخلاقی تربیت کی وہ فصیل کھڑی کریں جس کے اندر وہ اعتماد، وقار اور سکون کے ساتھ سانس لے سکیں۔ یہ اجتماعی فریضہ ہے ایسا فریضہ جس سے کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
قوم کی بیٹیاں صرف ان کے والدین کی امانت نہیں؛ یہ ہر گھر کے دل کی دھڑکن ہیں، ہر گلی کی آنکھوں کا نور، ہر محلے کی عزّت اور ہر دل کی مشترکہ ذمّہ داری۔ انہیں بچانا… انہیں سنبھالنا… انہیں سمجھانا… انہیں محبت اور حکمت کے حصار میں رکھنا… یہ ہم سب کا فرض ہے۔ علماء کا بھی، اساتذہ کا بھی، والدین کا بھی، پڑوسیوں کا بھی، اور سماج کے ہر ذمّہ دار فرد کا بھی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں اُمّت کو ایک زندہ قوم کی طرح اٹھنا ہوگا۔ اپنے کردار سے، اپنی غیرت سے، اپنی بصیرت سے، تاکہ کوئی بیٹی آئندہ خاموشی اور غفلت کے اندھیروں میں نہ گرے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا تو کل ہمارے قدموں کے نیچے صرف خسارہ، صرف ندامت، اور صرف تاریخ کا بے رحم فیصلہ ہوگا۔ وقت کی دھڑکنیں تیز ہو چکی ہیں اور یہ دھڑکنیں ہم سے کہہ رہی ہیں: اب مزید انتظار نہیں، اب عمل ہی واحد راستہ ہے۔
یہ پکار صرف الفاظ نہیں، ایک عہد کا اعلان ہے۔ وقت ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں، اپنے دل و دماغ کو جھنجھوڑیں، اور اپنی ذمّہ داریوں کو وہ مقام دیں جس کے بغیر کوئی قوم سلامت نہیں رہ سکتی۔ اب وہ دور نہیں رہا کہ ہم اپنی بیٹیوں کی حفاظت کو صرف اللّٰہ کی امانت کہہ کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔ اللّٰہ کی امانت کا حق عمل سے ادا ہوتا ہے، محافظت سے، تربیت سے، بصیرت سے، اور مسلسل نگرانی سے۔
آئیے! ہم اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے لئے بیدار ہوں۔ وہ بیٹیاں جو ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہیں اور آنے والے کل کی معمار بھی۔ وہ بیٹیاں جن کی مسکراہٹ میں ایک گھر کی رونق، ایک خاندان کی حرارت، اور ایک ملت کی امید پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان کے قدموں میں ٹھوکر آئے، ان کے دل میں دھوکہ اترے، ان کی معصومیت پر کوئی سایہ پڑے، یہ نہ صرف ایک گھر کا سانحہ ہے بلکہ پوری قوم کا زخم ہے۔ ہمیں ایک ایسی بیداری کی ضرورت ہے جو نصیحت سے آگے بڑھے، تقریر سے آگے بڑھے، اور عمل کے روشن میدان میں اتر آئے۔ وہ بیداری جس میں گھر تربیت گاہ بنیں، مائیں رہنمائی کا مینار بنیں، باپ دوستی اور اعتماد کا سایہ بنیں، محلے حفاظتی حصار بنیں، اور مسجدیں اخلاقی روشنی کی مشعلیں بن جائیں۔
آئیے! ہم ایک ایسی قوم بنیں جو اپنی نسلوں کو محفوظ بھی کرتی ہے، باوقار بھی بناتی ہے، اور بااخلاق بھی پروان چڑھاتی ہے۔ وہ قوم جو حادثات کے بعد چیخنے کے بجائے
حادثات سے پہلے دیوار بن کر کھڑی ہوتی ہے۔
جو اپنی بیٹیوں کو صرف لباس کی حدود نہیں سکھاتی، بلکہ کردار، شعور، حیاء، احتیاط اور خود اعتمادی کی وہ ڈھال بھی فراہم کرتی ہے جس سے دنیا کے بڑے سے بڑا فریب بھی ٹکرا کر بکھر جائے۔ ہمیں وہ قوم بننا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے اندھیروں میں چراغ جلائے، جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے، اور جو اپنی بیٹیوں کو ایسا مستقبل دے جس میں خوف کم، عزّت زیادہ، اور اعتماد سب سے بڑھ کر ہو۔ آئیے! ہم واقعات کے بعد افسوس کرنے والی قوم نہ رہیں، بلکہ واقعات کو روک دینے والی زندہ، باشعور اور ذمّہ دار قوم بن جائیں۔ یہ وقت ہمارا امتحان بھی ہے، فرصت بھی… اور اختیار بھی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے ہم غفلت کے ساتھ رہیں یا حفاظت کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں۔
🗓 (22.11.2025)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!