مضامین

حیاء، حجاب اور اہلِ اقتدار حجاب پر ہاتھ، ضمیر پر ضرب

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

اسلام نے انسان کو محض ایک فرد نہیں بلکہ حرمت و تکریم کا حامل وجود قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم کا اعلان ہے، وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ۔
"ہم نے بنی آدم کو عزّت و کرامت عطاء کی ہے”۔ یہ کرامت رنگ، نسل، مذہب اور جنس کی تفریق سے بالاتر ہے، اور خاص طور پر وہ افراد جو سماج میں کمزور یا اقلیتی حیثیت رکھتے ہوں، ان کے وقار کے تحفّظ کی ذمّہ داری اہلِ اقتدار پر کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں حیاء کو ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے، اور عورت کے لباس خصوصاً حجاب کو محض ظاہری شعار نہیں بلکہ اس کی ذاتی، مذہبی اور اخلاقی شناخت سمجھا گیا ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے نہ صرف عورتوں کے احترام کو عملی نمونہ بنا کر پیش کیا بلکہ یہ اصول بھی قائم فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں جو زور آور ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھے۔ چنانچہ اقتدار، عہدہ یا منصب کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے کی نجی حدود یا مذہبی حساسیت کو نظر انداز کرے۔

اسلامی نقطۂ نظر سے ریاست اور حاکم محض انتظامی ذمّہ دار نہیں ہوتے، بلکہ وہ امانت دار ہوتے ہیں۔ قرآن حاکموں کو عدل، احتیاط اور جواب دہی کا پابند بناتا ہے:
إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلٰى أَهْلِهَا
جب اقتدار سے وابستہ کوئی طرزِ عمل کمزور طبقات کے وقار کو مجروح کرتا ہے تو وہ صرف سماجی مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ ایک اخلاقی و دینی آزمائش بن جاتا ہے۔ اسی تناظر میں، اگر کسی مسلم بیٹی یا خاتون کی مذہبی شناخت کے ساتھ سرِ عام بے احتیاطی برتی جائے تو یہ واقعہ محض ایک لمحاتی حرکت نہیں، بلکہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا ہمارے اجتماعی نظام میں انسانی حرمت، مذہبی احترام اور صنفی وقار واقعی محفوظ ہیں یا نہیں۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں زیرِ نظر مضمون محض احتجاج نہیں بلکہ اخلاقی بیداری اور دینی شعور کی اپیل کے طور پر سامنے آتا ہے۔

بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک سرکاری پروگرام کے دوران سرٹیفکیٹ دیتے وقت ایک مسلم میڈیکل طالبہ کے حجاب کو ہاتھ لگانا، خواہ وہ لمحاتی غفلت ہو یا غیر محتاط رویہ، محض ایک فرد کا ذاتی فعل نہیں رہتا، بلکہ ریاستی اقتدار، سماجی حساسیت اور اقلیتی وقار کے باہمی تعلق پر ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ اس واقعے کی ویڈیو کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عوامی شعور اب ایسے مناظر کو محض اتفاق سمجھ کر نظر انداز کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ واقعہ ہمیں اس تلخ حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کی معمولی سی لغزش بھی سماج میں دور رس اثرات مرتب کرتی ہے۔ جب ایک آئینی عہدے پر فائز شخص عوامی اسٹیج پر کسی مسلم خاتون کی مذہبی شناخت یعنی حجاب کے ساتھ بے احتیاطی برتتا ہے تو اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اقلیتوں کے جذبات اور وقار ریاستی ترجیحات میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہی وہ فضاء ہے جس میں تعصب کو بالواسطہ جواز اور شدّت پسندی کو اخلاقی سہارا ملتا ہے۔

یہی سبب ہے کہ شاعر کا شکوہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو بدنام ہو جاتے ہیں
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

محض ادبی اظہار نہیں رہتا، بلکہ ہمارے سماجی انصاف کے دوہرے معیار پر ایک بھرپور تبصرہ بن جاتا ہے۔ اگر اقتدار کے مراکز سے حساسیت، احتیاط اور جواب دہی کا فقدان ظاہر ہو تو پھر عام سماج میں نفرت اور انتہاء پسندی کے رجحانات کو روکنا محض وعظ و نصیحت سے ممکن نہیں رہتا۔ اس تناظر میں بہار کی عوام، خصوصاً سول سوسائٹی اور باشعور طبقات پر یہ اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے واقعات پر خاموش تماشائی نہ بنیں۔ احتجاج کا مطلب محض شور نہیں، بلکہ آئینی اقدار، انسانی وقار اور صنفی و مذہبی احترام کے حق میں اجتماعی ضمیر کی بیداری ہے۔ اگر اقتدار سے وابستہ افراد کے طرزِ عمل پر سوال نہیں اٹھایا گیا تو کل یہی بے حسی ایک مستقل روایت بن سکتی ہے اور اس کا خمیازہ پورا سماج بھگتے گا۔

نتیش کمار کا طالبہ کے حجاب کو کھینچنا نہ اخلاقی طور پر درست ہے، نہ قانونی طور پر قابلِ جواز خواہ اس کے پیچھے نیت کچھ بھی بتائی جائے۔ کسی بھی عورت کے لباس، جسم یا مذہبی شناخت کو بلا اجازت چھونا یا کھینچنا اس کی ذاتی آزادی کی خلاف ورزی ہے، اس کے وقار (Dignity) پر حملہ ہے اور خاص طور پر حجاب کے معاملے میں مذہبی حساسیت کو نظر انداز کرنا ہے۔ جب یہ عمل ایک آئینی عہدے پر فائز شخص سے سرِ عام ہو تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ریاست کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔ اس کا ہر عمل ایک مثال (precedent) بن جاتا ہے۔

دستورِ ہند کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کی ضمانت دیتا ہے، آرٹیکل 15 مذہب، جنس اور ذات کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جب کہ آرٹیکل 25 ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کے اظہار کی آزادی فراہم کرتا ہے۔ حجاب محض ایک ثقافتی علامت نہیں بلکہ بہت سی مسلم خواتین کے لیے ان کے مذہبی تشخص کا لازمی حصّہ ہے۔ چنانچہ کسی آئینی منصب دار کی جانب سے اس شناخت کے ساتھ بے احتیاطی، دستور کی روح کے بھی منافی دکھائی دیتی ہے۔ یوں یہ مسئلہ محض مذہبی حساسیت کا نہیں بلکہ آئینی اخلاقیات (Constitutional Morality) کا بھی امتحان بن جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی عورت کے وقار اور مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ Universal Declaration of Human Rights (UDHR) اور CEDAW جیسے معاہدات عورت کے جسم، لباس اور مذہبی انتخاب کو اس کی ذاتی آزادی قرار دیتے ہیں۔ جب کسی عورت کے لباس یا مذہبی شناخت کو سرِ عام موضوع بنایا جائے، خواہ ارادۃً یا غیر ارادی طور پر، تو یہ عمل اس کے ذاتی وقار کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ریاستی نمائندوں سے Gender Sensitivity Training اور Cultural Sensitivity کی توقع کی جاتی ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ اقلیتوں کے وقار سے جڑے معاملات میں خاموشی اکثر ظلم کی ہم نوا بن جاتی ہے۔ اگر ایسے واقعات کو معمولی لغزش کہہ کر نظر انداز کر دیا جائے تو رفتہ رفتہ یہی رویّہ سماجی بے حسی میں ڈھل جاتا ہے۔ پھر کل کو اس سے زیادہ سنگین ناانصافیاں بھی معمول بن جاتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں "امر بالمعروف و نہی عن المنکر” کو محض مذہبی فریضہ نہیں بلکہ سماجی اصلاح کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اصل سوال کسی ایک فرد یا واقعے کا نہیں، بلکہ اس اجتماعی شعور کا ہے جو ہم بطورِ سماج تشکیل دے رہے ہیں۔ کیا ہم اقتدار کو احتساب سے بالا سمجھتے ہیں یا اسے امانت مان کر اس پر اخلاقی معیار عائد کرتے ہیں؟ کیا عورت کی مذہبی شناخت واقعی ہمارے سماجی ڈھانچے میں محفوظ ہے یا وہ صرف دعوؤں تک محدود ہے؟ یہ سوالات اگر آج سنجیدگی سے نہ اٹھائے گئے تو کل یہ محض مسلم خواتین ہی نہیں بلکہ ہر کمزور طبقے کے وقار کا مسئلہ بن جائیں گے۔

اسلام کا پیغام محض عبادات تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسانی سماج میں عدل، وقار اور باہمی احترام کی ہمہ گیر بنیاد فراہم کرتا ہے۔ قرآن و سنّت کی روشنی میں یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ طاقت، منصب اور اختیار امتیاز نہیں بلکہ امتحان ہیں۔ جو جتنا صاحبِ اقتدار ہو، اس پر اتنی ہی زیادہ ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمزوروں، عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کا محافظ بنے نہ کہ ان کے زخموں میں اضافہ کرنے کا سبب۔ رسولِ اکرمﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص ذمّہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمّہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا”۔ یہ حدیث حکمرانوں، اہلِ اختیار اور عوام سب کے لیے آئینہ ہے۔ اگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد اپنے رویّوں میں احتیاط، حیاء اور احترامِ انسانیت کو فراموش کر دیں تو یہ محض اخلاقی لغزش نہیں رہتی، بلکہ ایک ایسی اجتماعی کوتاہی بن جاتی ہے جس کا وبال پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہاں یہ امر بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اسلام مظلوم کو صبر کی تلقین ضرور کرتا ہے، مگر ظلم پر خاموشی کو کبھی فضیلت قرار نہیں دیتا۔ حق کے لیے آواز بلند کرنا، وقار کے ساتھ احتجاج کرنا اور ناانصافی کے خلاف گواہی دینا یہ سب ایمان کی عملی صورتیں ہیں۔ البتہ یہ جدوجہد نفرت، انتقام یا فساد کے بجائے عدل، اصلاح اور انسانی بھلائی کے جذبے سے ہونی چاہیے۔ زیرِ نظر واقعہ ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم بطورِ سماج اپنا محاسبہ کریں: کیا ہم واقعی اس قرآنی اعلان پر ایمان رکھتے ہیں کہ بنی آدم سب کے سب قابلِ تکریم ہیں؟ کیا ہماری ریاستی و سماجی ساختیں عورت کے وقار، مذہبی شناخت اور انسانی حرمت کی محافظ ہیں؟ اور کیا ہم اہلِ اقتدار سے وہ اخلاقی معیار طلب کرتے ہیں جس کا تقاضا دین اور دستور دونوں کرتے ہیں؟

اگر ہم نے اس لمحے کو محض ایک خبر سمجھ کر فراموش کر دیا تو اندیشہ ہے کہ یہ بے حسی کل ایک معمول بن جائے گی۔ لیکن اگر ہم نے اسے تذکیر، اصلاح اور بیداری کا ذریعہ بنا لیا تو یہی واقعہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی زندگی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔
دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں حق کہنے، حق سننے اور حق پر قائم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے اور ہمارے معاشرے کو عدل، حیاء اور احترامِ انسانیت کا گہوارہ بنائے۔ (آمین)

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!