خراج عقیدت – مسجد البرکات کے اولین مؤذن حافظ صابر رضا برکاتی
"ایک عہد، ایک آواز، ایک روشن چراغ خاموش ہو گیا".


عقیل خان بیاولی جلگاؤں
تاریخی بستی مہرون جہاں شاہی جامع مسجدِ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے کی ،ساتھ ہی قطبِ خاندیش حضرت اسمعیل شاہ قادریؒ کا فیضان چار سو پھیلا ہوا ہے،اسی مقدس خاک میں گزشتہ دو ڈھائی دہائیوں سے سنیت کی پاسبانی کرنے والا ایک عظیم چراغ، حافظ صابر رضا برکاتی، دردناک حادثے کے باعث محض ٣٠-٣٢ سال کی عمر میں ہی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا۔یہ صرف ایک فرد کی رخصتی نہیں… یہ ایک خاندانِ علم کی اجتماعی شہادت ہے۔
موصوف کے ساتھ ان کی نورِ نظر بیٹی عالیہ (عمر 12) اور بھانجی بنت عظیم خان (عمر 14) بھی ہائی ٹینشن برقی تاروں کے المناک حادثے میں شہید ہوگئیں۔ وہ مدرسہ ہٰذا میں زیر تربیت تھیں۔سنیت کی صدا اور علم کا روشن مینار بجھ گیا حافظ صابر رضا، نائب امام مسجد رضا و استاذ شعبۂ حفظ و قرأت، جنہوں نے رضا مسجد و مدرسہ حضرت عائشہ صدیقہؓ میں طالب علم کی حیثیت سے داخلہ لیا اور پھر اسی عظیم درسگاہ میں علم و عمل کے ایسے جوہر دکھائے کہ وہیں استاد مقرر ہوئے۔ ان کی شخصیت میں عجیب کشش تھی، خاموش مزاج، کم گفتار، مگر علم و سنیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش۔ان کا اخلاق، صبر، سنجیدگی اور اخلاص اُن کے نام کی طرح جگمگاتا ہوا تھا۔ مسجد البرکات، جہاں ان کی اذان روحوں میں
اترتی تھی محلہ میں مسجد البرکات کے قیام سے ان سے میرا قرب مزید بڑھا۔ سنگِ بنیاد سے لے کر تعمیر و افتتاح تک آپ نے دل و جان سے محنت کی۔ اور پھر یہی وہ مقام تھا جہاں آپ کو اولین مؤذن و نائب امام ہونے کا شرف ملا۔ اگرچہ مدت مختصر تھی، مگر ان کی خوش الحان اذان نے محلہ والوں کے دلوں میں خاص جگہ بنا لی۔ ان کی آواز محض اذان نہ تھی۔ یہ صداۓ سنیت تھی۔ ایک روحانی نغمہ جو دلوں کو جگایا کرتا تھا۔ علم و دعوت کے مسافر ۔ خدمت کے ہر میدان میں نمایاں،چندہ مہم، مدارس کی تعمیرات سالانہ کیلنڈر، قربانی کی کھالیں، اجتماعی قربانیاں ذکوات کا نظام
یہ سب ان کے لیے محض کام نہیں تھے، مشن تھے۔
قریہ قریہ گھوم کر وہ علمِ دین کے چراغ روشن کرنے کی تگ و دو کرتے۔
ایک باصفا، بے ریا، خالص مذہبی شخصیت جن کا سیاست سے دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔
سنیت کی خدمت ہی ان کی زندگانی تھی۔ حادثہ جس کا خوف پہلے ہی ان کے دل میں بیٹھ چکا تھا
گزشتہ کچھ ماہ سے وہ برقی تاروں کی خطرناکی سے پریشان تھے۔اہلِ محلہ اور متعلقہ ذمہ داروں کو بار بار اس خطرے کی نشان دہی کی، درخواست کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔ گویا انہیں آنے والے حادثے کا وجدان تھا۔ اور آج یہی تاریں ان کے لیے شہادت کا سبب بن گئیں۔ یہ حادثہ صرف ایک گھر کا صدمہ نہیں…
یہ پورے سنی سماج، مذہبی اداروں، اور علم و خدمت سے جڑے ہر دل کے لیے ایک ناقابلِ تلافی خسارہ ہے۔ عوامی محبت ان کے جنازے نے تاریخ رقم کردی۔باپ بیٹی علم برداروں کے ایک ساتھ اٹھ جانے کا غم اس قدر شدید تھا کہ پورا شہر اشک بار ہوگیا۔شدید سردی کے باوجود جلگاؤں ضلع اور بیرون ضلع سے کثیر تعداد میں علماء، مشائخ، عوام اور ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ ان کے جنازے کا منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ صابر رضا صرف ایک فرد نہیں تھے، ایک روشنی تھے… اور روشنی کو کوئی بھلا بھول سکتا ہے؟ پھر دوسرے دن تیسرا جنازہ اٹھا وہی دلخراش منظر ۔ دعا اور امیدہے کہ رب کریم مرحومین کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور اہلِ خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔
بطور خراجِ عقیدت
چراغِ علم گل ہوا تو دلوں میں دھواں اٹھا
یہ کیسی صبح آئی کہ مہرِ دیں ہی ڈوب گیا
سنیت کی بستیوں میں صدا گونجتی رہی
صابر کے بعد کوئی آواز ایسی نہ مل سکی




