مضامین

خطّۂ اسلام میں مزاحمت کا نیا باب استعمار کےاعترافِ شکست تک

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

اللّٰہ ربّ العزّت کا ارشادِ عالی شان ہے: "اور تم نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو” (آل عمران: 139)۔ یہ آیت مبارکہ تاریخ کے ہر دور میں اہلِ ایمان کے لیے نویدِ فتح اور امیدِ استقامت رہی ہے۔ جب ظلم و استکبار کی قوتیں خود کو ناقابلِ شکست سمجھ بیٹھتی ہیں، جب مسلمانوں کی طاقت کو کمزور گمان کیا جاتا ہے، تب ایمان، حوصلہ، غیرتِ دِینی اور عزمِ جہاد وہ حقیقی طاقتیں بنتی ہیں جو دنیا کے بڑے سے بڑے فرعونوں اور نمرودوں کو جھکنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

آج خطّۂ اسلام میں مزاحمت کی یہ قرآنی حقیقت ایک بار پھر روشن ہو چکی ہے۔ یہ دور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلبہ ٹیکنالوجی کا نہیں… توکّلِ علی اللّٰہ کا ہے!!! فیصلہ جنگی سامان نہیں… جذبۂ جہاد اور وقارِ ملّت کرتا ہے اور تاریخ کے دھارے اُنہی کے حق میں بدلتے ہیں جن کے دل میں ایمان کی حرارت زندہ ہو۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: "میری اُمّت کا ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا، غالب رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے” (صحیح مسلم)۔ آج یہی وعدۂ نبوی اپنی حقیقت کے ساتھ خطّے میں جلوہ گر ہے۔ ظلم کے حصار ٹوٹ رہے ہیں، استعمار کے توازن بکھر رہے ہیں اور ایک نئی حکمتِ عملی اب مشرق میں تحریر ہو رہی ہے۔ یہ صرف عسکری پیش رفت نہیں اُمّت کی بیداری، حمیتِ اسلامی کا احیاء، اور اس یقین کا اعلان ہے کہ طاقت کا سر چشمہ ایمان ہے۔

تل ابیب میں اسرائیلی ایرو اسپیس انڈسٹریز کے سربراہ بوز لیوی کے حالیہ بیانات صرف ایک تکنیکی یا عسکری تجزیہ نہیں بلکہ خطّے میں طاقت کے توازن کی گہرائیوں میں لرزش پیدا کرنے والا اعتراف ہیں۔ وہ اعتراف جسے دہائیوں تک اسرائیل اور اس کے عالمی حلیف چھپانے کی کوشش کرتے رہے کہ طاقت کا سر چشمہ محض جدید ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ فیصلہ سازی کی جرات، مقصد سے وفاداری اور اپنی سر زمین و اُمّت کے دفاع کا ناقابلِ شکست جذبہ ہے۔ لیوی نے واضح کیا کہ ایران کی اصل قوت اُس کے ہاں تیار ہونے والے میزائلوں کی تعداد نہیں، بلکہ اُن کے استعمال کے پسِ منظر میں موجود عزم اور دلیری ہے۔ یہ ایک ایسے اسرائیلی عہدے دار کا اعلانِ شکست ہے جو برسوں کی بالا دستی کے نشے میں کھویا ہوا تھا۔ اس کے اعتراف نے بتا دیا کہ وہ لمحہ آچکا ہے جب ڈیٹرنس کی روایتی مساوات ٹوٹ چکی ہے اور خطّے کی تاریخ نئے باب میں داخل ہو چکی ہے۔

ایران کے حالیہ حملے نے صرف عسکری نہیں بلکہ نفسیاتی محاذ پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسرائیلی فوج کو پہلی مرتبہ ایک Defense-Based State کی پوزیشن میں جانا پڑا یعنی حملہ کرنے کے بجائے خود کو بچانے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ صورتحال اسرائیل کے اس دیرینہ دعوے کی نفی ہے کہ وہ خطّے کی واحد ناقابلِ شکست طاقت ہے۔ پہلی بار اسرائیلی قیادت اور میڈیا نے اپنی غیر محفوظ کیفیت کا اعتراف کیا، جو اس کی نفسیاتی برتری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اس کے برعکس، مسلم دنیا خصوصاً مزاحمتی حلقوں میں اعتماد اور جرأت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ احساس مضبوط ہو رہا ہے کہ طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور اسرائیل کو اب چیلنج کرنے کی صلاحیت پہلے سے زیادہ موجود ہے۔

ماضی میں اسرائیل خطّے میں ہمیشہ پہل کرنے اور فیصلہ کن ضرب لگانے کی پوزیشن میں رہا ہے۔ لیکن ایران کی اس کارروائی نے پہلی بار اسرائیل کے مسلّط کردہ Deterrence (یعنی یک طرفہ روک اور دھمکی کے نظام) کو چیلنج کرتے ہوئے اسے مؤثر طور پر ختم کر دیا۔ اب خطّے میں طاقت اور فیصلہ سازی کا عمل یک طرفہ نہیں رہا بلکہ دو طرفہ ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ، امریکہ کو بھی دفاعی بیک اپ فراہم کرنے کے باوجود غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ واشنگٹن نے اسرائیل کی براہِ راست عسکری مدد کے باوجود ناکامی کا تجربہ کیا۔ یہ تبدیلی مستقبل کی علاقائی حکمتِ عملیوں کے لیے نہایت اہم نتائج کی حامل ہے۔

ایران نے پہلی بار کثیر جہتی حملوں (Multi-Domain Operations) کا مؤثر ماڈل پیش کیا، جس میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز کو بیک وقت لانچ کیا گیا۔ دنیا کے دفاعی ماہرین اس نئی حکمت عملی کو Hybrid Strike کا نام دے رہے ہیں۔ ایک ایسا طریقۂ جنگ جس نے اسرائیل کے مضبوط سمجھے جانے والے ملٹی لئیرڈ ڈیفنس سسٹم کو تاریخ میں پہلی بار ناقابلِ یقین چیلنج سے دوچار کر دیا۔ لیوی کے مطابق تل ابیب نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کوئی علاقائی طاقت ایک ہی وقت میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرونز اسرائیل کے دل پر برسائے گی اور پورے دفاعی نظام کو چیلنج کر دے گی۔ آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو جیسے کثیر پرتوں والے دفاعی نظام جو اسرائیل کے ناقابلِ شکست حصار سمجھے جاتے تھے اچانک اپنی کم مائیگی کے ساتھ کھڑے دکھائی دیے۔ یہ صرف عسکری ضرب نہیں تھی؛ یہ ایک نفسیاتی و تزویراتی پیش قدمی تھی جس نے واشنگٹن سے لے کر تل ابیب تک سوچ کے تمام زاویوں کو بدل دیا۔

اسرائیل کا ملٹی لئیرڈ ڈیفنس سسٹم تین اہم حصّوں پر مشتمل ہے:
آئرن ڈومز — کم اونچائی پر آنے والے راکٹ اور ڈرونز کے خلاف دفاع کے لیے
ڈیوڈ سلنگ — درمیانی فاصلے اور بلندی پر خطرات کی مزاحمت کے لیے
ایرو-3 — طویل فاصلے سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کی روک تھام کے لیے

ایران نے ایک ہی وقت میں ان تینوں پرتوں پر مسلسل اور ہم آہنگ میزائل، کروز اور ڈرون حملے کیے، جس سے دفاعی نظام کی گنجائش کم پڑ گئی اور وہ مؤثر ردّعمل دینے میں مشکلات کا شکار ہوا۔ عسکری اصطلاح میں اسے Saturation Attack کہا جاتا ہے یعنی دفاعی نظام کو اس کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت سے تجاوز کرتے ہوئے اوورلوڈ کر دینا۔

خطّے میں متحدہ مزاحمتی بلاک (Axis of Resistance) کی ہم آہنگی اور عسکری کوآرڈی نیشن مسلسل بڑھ رہی ہے، جو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا اسٹریٹجک چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ اس بلاک کے مختلف عناصر اپنی مخصوص جغرافیائی پوزیشن اور صلاحیتوں کے مطابق سرگرم ہیں:

ایران قیادت، اسٹریٹجک ٹیکنالوجی اور ڈیٹرنس کی اصل بنیاد۔
حزب اللّٰہ (لبنان) شمالی محاذ کو فعال رکھ کر اسرائیل کے دائمی خوف کو حقیقی بنائے رکھنا۔
حماس و جہادِ اسلامی (فلسطین) اندرونی محاذ پر مسلسل دباؤ اور قابض قوتوں کی مصروفیت۔
انصار اللّٰہ / حوثی (یمن) بحری ناکہ بندی کے ذریعے عالمی تجارت اور اسرائیلی سپلائی لائن پر ضرب۔
عراقی مزاحمتی گروپس خطّے میں امریکی تنصیبات اور مفادات کو دباؤ میں رکھ کر مداخلت محدود کرنا۔

ان تمام محاذوں کی یکجائی نے جغرافیہ کی حدیں بدل دی ہیں۔ اب میدانِ جنگ صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورا خطّہ ایک متصل اسٹریٹجک تھیٹر میں تبدیل ہو چکا ہے۔

دنیا کے عسکری ماہرین اس حقیقت پر متفق ہیں کہ "طاقت کا حقیقی پیمانہ اسلحے کی مقدار نہیں، بلکہ اسے بے خوفی کے ساتھ استعمال کرنے کا حوصلہ ہے”۔ ایران کے اس پورے پیمانے پر حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلم دنیا کی قوت صرف وسائل میں نہیں بلکہ ولولۂ جہاد و مزاحمت میں ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس سے عالمی طاقتیں خوف زدہ ہیں؛ کیونکہ یہ جذبہ جب بیدار ہو جائے تو کمزور سے کمزور بھی دنیا کی سب سے مضبوط طاقتوں کو جھکنے پر مجبور کرتا ہے۔

موجودہ دور میں عالمی سیاست ایک بڑی ساختی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مغرب کی قائم کردہ Uni-Polar World Order، جس میں امریکہ واحد فیصلہ کن طاقت تھا، اب اپنی گرفت برقرار رکھنے میں increasingly ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے برعکس، چین–روس–ایران اسٹریٹجک بلاک تیزی سے ایک متبادل عالمی ڈھانچے کی تشکیل کر رہا ہے، جو دنیا کو Multi-Polar System کی سمت لے جا رہا ہے یعنی فیصلہ سازی میں متعدد طاقت مراکز کا ظہور۔ اسی کے ساتھ، Global South کہلانے والے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں بھی سیاسی خود اعتمادی اور اقتصادی خود مختاری کے رحجانات مضبوط ہو رہے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف طاقت کے توازن کو ازسرِنو متعین کر رہی ہے بلکہ مستقبل کے عالمی نظام کے خدوخال بھی واضح کرنے لگی ہے۔

اسرائیل اس وقت داخلی انتشار کے دور سے گزر رہا ہے، جہاں سیاسی، معاشی اور عسکری سطح پر دباؤ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے:

سیاسی انتشار: وزیرِاعظم نتن یاہو کے خلاف عوامی احتجاج ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے حکومتی استحکام پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

معاشی دباؤ: غیر یقینی صورتحال اور مسلسل جنگی ماحول نے عالمی سرمایہ کاروں کی پسپائی اور مارکیٹ میں اعتماد کی کمی پیدا کر دی ہے۔

افرادی قوت کی کمی: طویل جنگ کے باعث ریزرو فوجیوں کی واپسی سے انکار اور فوجی مورال میں کمی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

نتیجتاً، مزاحمتی دباؤ نے اسرائیل کی اندرونی کمزوریوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور یہ داخلی بے چینی مستقبل میں اس کی عسکری صلاحیت اور فیصلہ سازی دونوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی دفاعی عہدیدار کا یہ اعتراف کہ ایران نے جنگ کا نیا میدان طے کر دیا ہے اس بات کا اشارہ ہے کہ آئندہ جنگیں وہ نہیں ہوں گی جن میں دشمن حملہ کرے اور مدافع صرف دفاعی ڈھالیں آزماتا رہے۔ اب جنگ کی بنیاد تسلسل، کثافت اور فیصلہ کن پہنچ ہے اور اس میدان میں ایران نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس سے وہ عالمی توازن بھی متزلزل ہوا ہے جس کے بارے میں مغرب یہ گمان کرتا تھا کہ "طاقت ہمیشہ ہمارے حق میں جھکی رہے گی”۔ لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ خطّۂ اسلام میں مزاحمت کی روح زندہ ہے… اور پہلے سے کہیں زیادہ متحرک۔

یہ واقعہ اہلِ ایمان کے لیے یقین کی تازہ کرن ہے کہ اگر مسلمان اپنی سر زمین کے دفاع کو ایمان کا حصّہ سمجھیں، حکمت و بصیرت کے ساتھ آگے بڑھیں، اور اللّٰہ پر کامل بھروسہ رکھیں… تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اُن کے عزم کا راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ صرف ایران کی کامیابی نہیں؛ یہ اسلامی حمیت کا احیاء ہے۔ یہ اُمّت کے لیے پیام ہے کہ اگر وہ متحد ہو جائے تو ڈیٹرنس نہیں… برتری اس کا مقدر ہوگی۔ اسرائیل کی عسکری قیادت کا یہ اعتراف تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ اس نے ثابت کر دیا کہ طاقت کے اصل مراکز بدل رہے ہیں اور مستقبل کی حکمتِ عملی اب مشرق میں لکھی جائے گی۔ اسلامی دنیا اگر اس موقع کو بصیرت اور اتحاد کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کرے تو ایک نیا اسٹریٹجک دور شروع ہو سکتا ہے جس میں غلبہ اُن ہاتھوں میں ہوگا جو آزادی و انصاف کے لیے لڑنا جانتے ہیں۔

آج ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی ہوگی کہ ہماری اصل قوت نہ میزائلوں میں ہے، نہ ہتھیاروں میں، نہ عسکری قوت میں… اصل طاقت اُس ربّ ذوالجلال کی نصرت میں ہے جو "اگر اللّٰہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا” (آل عمران: 160)۔ اُمّتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحہ محض ایک اسٹریٹجک تغیر نہیں بلکہ ایمان کا وہ پیغام ہے جس نے بدر کے میدان میں ایک مٹھی بھر جماعت کو دنیا کی سب سے مضبوط قوت پر فتح عطاء کی۔ یہ وہ یاد دہانی ہے کہ جب نیت پاک ہو، جب مقصد عظیم ہو، جب دلوں میں غیرتِ ایمانی ہو، تو پھر تاریخ خود نئے راستے تراش لیتی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں دعوتِ عمل دیتا ہے کہ ہم مزاحمت کو صرف ایک عسکری اصطلاح کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے ایمان کی بیداری، ملّت کے اتحاد، اور جہادِ فکر و کردار کے طور پر اپنائیں۔

اگر آج اُمّت نے اپنے باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا، اگر ہم اپنی شناخت اور مقصد کو پہچان لیں… تو پھر کوئی قوت ہمیں نہ دبا سکتی ہے اور نہ شکست دے سکتی ہے۔ یہ وقت ہے… اُمّت اپنی صفوں کو درست کرے، اپنی نسلوں کے دلوں میں عزّت و آزادی کی حرارت جگائے، اللّٰہ کی زمین پر اللّٰہ کا نظام قائم کرنے کے عہد کی تجدید کرے، کیونکہ غلبہ اہلِ ایمان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے "انجام ہمیشہ متقیوں ہی کے لیے کامیابی کا ہوتا ہے”۔ پس اے اُمّتِ محمدﷺ! اٹھ کھڑی ہو… کہ مستقبل تیرا ہے، بیدار ہو جا… کہ زمانہ بدل چکا ہے، اور یاد رکھ… مزاحمت کی راہ ہی میں عزّت ہے، اور ایمان کی حفاظت ہی میں فتح ہے۔ اللّٰہ ہمیں اپنی نصرت کے قابل بنائے، ہمیں متحد کرے، اور دنیا میں ظلم کے مقابل عدل و آزادی کا پرچم بلند کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین۔

✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!