“خونِ وفا – ایک بادشاہ، ایک سپاہی، ایک عہد”

📖 Episode 1: بادشاہ کا خواب
(پس منظر میں ہلکی تلواروں کی آواز، ہوا کا شور، دور اذان کی صدا…)
راوی (گہری آواز میں):
"تاریخ کے صفحے خون سے نہیں، وفا سے لکھے جاتے ہیں… اور جس بادشاہ کے دل میں ایمان کی روشنی ہو، اُس کی تلوار کبھی ظلم کے لیے نہیں چلتی۔”
سال 1672، دہلی کی فضا میں سردی کا جادو پھیلا ہوا تھا۔ لال قلعے کی دیواروں پر چاندنی چمک رہی تھی، اور بادشاہ سلطان زین العابدین اپنے محل کی بالکونی سے شہر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف چھپا تھا — جیسے وہ آنے والے طوفان کو محسوس کر رہا ہو۔
"وزیرِ اعظم فرید خان!” بادشاہ نے پکارا۔
"جی حضور!” وزیر فوراً حاضر ہوا۔
"مجھے آج خواب میں ایک لشکر دکھائی دیا ہے… جو ہمارے محل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نہ ان کے ہاتھوں میں علم تھا، نہ چہرے پہ ایمان۔ وہ آ رہے ہیں… ہمارے عہد کو ختم کرنے۔”
وزیر نے نظریں جھکا لیں۔ "جہاں پناہ، خواب کبھی کبھی اشارہ ہوتا ہے — لیکن خواب سے زیادہ خطرناک حقیقت ہے۔ دشمن ہمارے سرحدوں کے قریب پہنچ چکا ہے۔”
محل میں خاموشی چھا گئی۔ صرف چراغوں کی ٹمٹماتی روشنی باقی تھی۔
بادشاہ نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولا —
"اگر یہ میرا آخری جہاد ہے، تو قلم بھی اٹھاؤ… تاکہ تاریخ گواہ رہے کہ زین العابدین نے کبھی ظلم کے آگے سر نہیں جھکایا!”
راوی کی آواز:
"یوں ایک عہد کا آغاز ہوا… جس میں محبت بھی تھی، غداری بھی، اور ایک سپاہی کی خاموش وفا، جو تاریخ بدلنے والی تھی۔”
(پیچھے جنگی طبل کی آواز مدھم ہوتی ہے…)
—
✍️ تحریر: شیخ فردین




