مضامین

 خون میں لکھی گئی جنگ بندی

مسعود محبوب خان (ممبئی)
                    09422724040
جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہو چکے تھے، مگر افسوس کہ امن کی یہ دستاویز بھی بارود کی بو اور خون کی بُو میں تحلیل ہو گئی۔ گزشتہ روز بھی غزہ کی سر زمین پر آگ و آہن کی بارش ہوتی رہی۔ آسمان پر ڈرونز کی گونج، فضاء میں طیاروں کی چیخیں، اور زمین پر معصوم انسانوں کے بکھرے ہوئے وجود۔ یہ سب اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ طاقت کے نشے میں بدمست ریاست نے انسانیت کے تمام اصول روند ڈالے ہیں۔ غزہ کے ہسپتال ایک بار پھر چیخوں، سسکیوں اور بینوں سے بھر گئے۔ جنگ سے تباہ حال عمارتوں کے ملبے تلے سے نکالی گئی 57 لاشیں ان مراکزِ شفاء میں لائی گئیں جن کے در و دیوار خود مرہم کے محتاج ہیں۔ وہ ڈاکٹر، جو کبھی امید بانٹا کرتے تھے، اب موت کے کاغذوں پر نام لکھنے والے کاتب بن گئے ہیں۔
دوسری طرف، القدّس میں مسجدِ اقصیٰ جس کی عظمت اور حرمت اہلِ ایمان کے دلوں میں خون کی طرح گردش کرتی ہے، ایک بار پھر صہیونی دراندازی کا نشانہ بنی۔ انتہاء پسند یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کے لوہے کے حصار میں گھس کر اس مقدّس مقام کی بے حرمتی کی۔ وہ گنبدِ صخرہ کے سامنے تلمودی رسومات ادا کر رہے تھے، گویا صدیوں کی تاریخ اور لاکھوں شہداء کے لہو کو مٹا دینا چاہتے ہوں۔ مسجد کے در و دیوار کے اردگرد فوجی وردیوں کی ایک دیوار قائم تھی، جو عبادت نہیں بلکہ جارحیت کی حفاظت کر رہی تھی۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ مظلوم کی سانسیں بھی گن کر لی جا رہی ہیں، اور ظالم کو مذہب کے نام پر استثناء حاصل ہے۔ جن ہاتھوں پر بچّوں کا خون ہے، وہی ہاتھ تسبیح کے دانے گننے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
حماس کے ایک عہدیدار نے تاسف بھرے لہجے میں کہا: "ٹرمپ اور ثالثوں نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ جنگ ختم ہو گئی ہے، مگر میدانِ جنگ ابھی تک زندہ ہے، توپیں ابھی تک گونج رہی ہیں، اور معاہدے اب بھی خون سے دستخط کیے جا رہے ہیں”۔ یہ منظر دراصل اُس عہدِ ظلم کی عکاسی کرتا ہے جس میں امن بھی سیاست کا ہتھیار بن چکا ہے۔ جہاں سفارت کاری ایک فریب ہے، اور "جنگ بندی” محض ایک وقفہ تاکہ دشمن اگلے وار کے لیے سانس لے سکے۔ غزہ آج بھی جل رہا ہے، مگر اس کی راکھ سے اُٹھنے والی صدائیں بتا رہی ہیں کہ ظلم کی عمارت ہمیشہ کے لیے کھڑی نہیں رہ سکتی۔ ایک دن آئے گا جب یہی خاک، شہیدوں کے لہو سے سرخ ہو کر، آزادی کے پھول اگائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے ایک بار پھر حماس کو دھمکی دیتے ہوئے "سیدھا کرنے” کی زبان استعمال کی، دراصل اُس عالمی سیاسی تکبّر کی تازہ مثال ہے جو انصاف اور انسانیت کے اصولوں سے عاری ہو چکا ہے۔ ٹروتھ سوشل پر شائع ہونے والے اُن کے الفاظ محض ایک بیان نہیں، بلکہ طاقت کے گھمنڈ میں ڈوبی ہوئی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک ایسی ذہنیت جو امن کو ہتھیار، اور معاہدے کو دباؤ کا آلہ سمجھتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے فخر سے اعلان کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے اُن کے "عظیم اتحادی ممالک” بڑی فوجی قوت کے ساتھ غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں، اگر حماس نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ممالک "پر جوش، مضبوط اور واضح انداز” میں اس کارروائی کے لیے آمادہ ہیں، گویا انسانیت کی بستیوں پر بم برسانا کوئی فخریہ کارنامہ ہو۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "میں نے انہیں کہا ہے، ابھی نہیں! ابھی بھی امید باقی ہے کہ حماس درست راستہ اختیار کرے گی، ورنہ اس کا خاتمہ تیز، شدید اور بیرحمانہ ہوگا”۔ یہ جملہ تاریخ کے صفحات میں محض ایک سیاسی تبصرہ نہیں بلکہ ایک تہدیدی اعلان کے طور پر ثبت ہوگا۔ ایسا اعلان جس کے پسِ منظر میں بچّوں کی چیخیں، ماؤں کی فریادیں، اور اجڑی ہوئی بستیوں کی خاموشی گونجتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید دنیا کی سیاست میں "امن” کا مفہوم بدل چکا ہے۔ اب امن کا مطلب جنگ سے وقفہ نہیں بلکہ طاقتور کی مرضی ہے۔ جہاں معاہدے کمزور قوموں کے گلے میں زنجیر کی طرح ڈالے جاتے ہیں، اور امن کی تعریف بندوق کے دہانے سے لکھی جاتی ہے۔
یہ وہی دنیا ہے جہاں غزہ کی زمین جل رہی ہے، مگر عالمی ضمیر سرد ہے۔ جہاں شہادت کو دہشت کہا جاتا ہے، اور جارحیت کو دفاع۔ جہاں کمزور کا خون ارزاں ہے اور طاقتور کا مفاد مقدّس۔ یہ عہدِ مظالم میں سیاست دان اپنی زبان سے وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو ماضی کے فرعون نے اپنی لاٹھی سے کیا تھا! طاقت کا تازیانہ، جس کا نشانہ ہمیشہ کمزور ہوتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ دھمکی دراصل اس عالمی دوغلے پن کی تجسیم ہے جو انصاف کے نام پر ظلم کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اُن کے "ابھی نہیں” کے پیچھے چھپا مطلب یہ ہے کہ جنگ ابھی ملتوی ہے، منسوخ نہیں۔ طاقتور قوموں کے ایوانوں میں شاید امن کی نہیں، اگلی جنگ کی تیاری ہو رہی ہے۔ مگر تاریخ کا ایک اصول اٹل ہے ظلم اگر ہزار برس بھی دوام پائے، انجام ہمیشہ عدل ہی کا ہوتا ہے۔ غزہ کی خاک میں دفن ہونے والا ہر بچّہ دراصل اس عہدِ ظالم کے خلاف ایک خاموش گواہ ہے۔ اور وقت آئے گا جب انہی بچّوں کی خاموشی صدائے احتجاج بن کر دنیا کے ایوانوں کو لرزا دے گی۔ یہی وقت کی منطق ہے، طاقت کی عارضی چمک بجھ جائے گی، مگر مظلوم کی آہ روشنی بن کر رہ جائے گی۔
امریکی صدر کے داماد جیرڈ کُشنر کا یہ بیان، دراصل اس تباہی کی ایک دھندلی جھلک ہے جس نے غزہ کی زمین کو انسانی المیوں کی قبرستان میں بدل دیا ہے۔ اس کے الفاظ "غزہ کا منظر ایسا ہے جیسے یہاں ایٹم بم گرا ہو” کسی مبالغے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک سنگین حقیقت کا اعتراف ہیں۔ وہ زمین جو کبھی اذانوں سے گونجتی تھی، اب ملبوں، خاکستر دیواروں اور لاشوں کی بدبو سے بھری ہے۔ کُشنر نے بتایا کہ جب انہوں نے اسرائیلی فوج سے دریافت کیا کہ یہ تباہ حال فلسطینی کہاں جا رہے ہیں؟ تو جواب ملا "وہ اپنے ٹوٹے ہوئے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں، اور بہت سے لوگ انہی ملبوں پر ٹینٹ لگا رہے ہیں”۔ یہ جملہ محض ایک اطلاع نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر ایک خنجر ہے۔ لوگ جن کے سر سے چھت چھن گئی، وہ اب ملبے پر خیمہ نصب کرکے خوابوں کی قبریں آباد کر رہے ہیں۔ جہاں کبھی ننھے بچّوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہاں اب آہ و زاری کے سوا کچھ باقی نہیں۔
یہ وہ شہر ہے جہاں دیواریں اب بھی کھڑی ہیں مگر گھروں کی روح مفقود ہے۔ جہاں ہر اینٹ اپنے بچھڑنے والے کا نام پکار رہی ہے، اور ہر گلی میں بکھری ہوئی یادیں خاموش احتجاج بن گئی ہیں۔ اسی دوران، امریکی نیوز اینکر نے سوال کیا "کیا یہ نسل کشی نہیں ہے؟”۔ یہ سوال ایک پوری انسانیت کی زبان بن گیا، مگر کُشنر کا جواب "نہیں، یہ نسل کشی نہیں ہے، لیکن بچّوں کا قتل عام ہوا ہے” خود اپنے اندر ایک اذیت ناک تضاد سموئے ہوئے ہے۔ اگر یہ نسل کشی نہیں، تو پھر کیا ہے؟ اگر معصوم بچّوں کا خون بہنا، اگر بستیاں اجڑ جانا، اگر پوری قوم کو بھوک، پیاس اور خوف میں جینا پڑے اگر یہ سب نسل کشی نہیں تو پھر نسل کشی کی تعریف کون کرے گا؟
یہ جواب صرف سیاسی احتیاط نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ یہ وہ طرزِ فکر ہے جو انسانی ہمدردی کو سفارتی مصلحتوں کے ترازو میں تولتی ہے، جہاں ایک بچّے کی موت کو "افسوس ناک” کہا جاتا ہے مگر اس کے قاتل کی حمایت کی جاتی ہے۔ غزہ کی تباہی پر دنیا کے بڑے ایوانوں میں خاموشی چھائی ہے، مگر اس خاموشی کے پس منظر میں معصوموں کی چیخیں گونجتی ہیں۔ وہ چیخیں جو اخباروں میں چھپتی نہیں، مگر آسمانوں پر درج ہو چکی ہیں۔ یہ جنگ اگر صرف ملبے کی نہیں، تو یاد رکھو یہ انسانیت کی بقاء کی جنگ ہے۔ غزہ کے بچّے جو بھوک اور خوف کے سائے میں سانس لے رہے ہیں، وہی کل کا اعلان ہیں کہ بموں سے زمین تباہ کی جا سکتی ہے، مگر امید کو کبھی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اور شاید یہی امید وہ واحد چراغ ہے جو اب بھی غزہ کے ملبوں کے درمیان جل رہا ہے لرزتا ہوا، مگر بجھا نہیں۔
غزہ پر مسلّط کی گئی یہ جنگ دراصل جنگ نہیں، ایک بے نام و بے ضمیر نسل کشی ہے، ایک ایسا المیہ جس میں انسانیت کی رُوح زخمی اور ضمیرِ عالم خاموش ہے۔ یہ کوئی دو افواج کا تصادم نہیں بلکہ طاقت اور مظلومیت کے درمیان جاری وہ یک طرفہ قتلِ عام ہے جس میں بم اور گولے ایک طرف ہیں، اور خالی ہاتھ، ننگے پاں بچّے، عورتیں اور بوڑھے دوسری طرف۔ جنگ بندی کا معاہدہ محض الفاظ کا ایک دھوکہ ثابت ہوا۔ ابھی سیاہی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ اسرائیلی طیاروں نے ایک بار پھر آسمان کو آگ کا دہکتا ہوا بستر بنا دیا۔ حماس کی پوزیشنز کے نام پر رہائشی علاقوں، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ہر دھماکے کے بعد زمین ہلتی ہے، مگر شاید ضمیر نہیں۔ ہر بار "دفاع” کے نام پر حملہ، اور ہر بار "امن” کے وعدے کے ساتھ خون کی نئی لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔
غزہ کی ناکہ بندی نے اس شہر کو ایک کھلی جیل میں بدل دیا ہے۔ ہزاروں ٹن خوراک، ادویات اور اشیائے ضروریہ سرحد پار ٹرکوں میں پڑی گل سڑ رہی ہیں، جیسے انسانیت کا ضمیر خود تعفن زدہ ہو گیا ہو۔ کنٹینروں میں بند غذائیں زندگی کی آس لئے کھڑی ہیں، مگر اجازت ناموں کی سیاست انہیں منزل تک پہنچنے نہیں دیتی۔ دوسری جانب، انہی سرحدوں کے اندر وہ بچّے موجود ہیں جن کے ہونٹوں پر خارش کی طرح پیاس جمی ہے، اور جن کے جسم بھوک کی شدّت سے سکڑ کر ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے ہیں۔ غزہ میں بھوک اب کوئی حالت نہیں، ایک مستقل وجود بن چکی ہے۔ یہاں مائیں اپنے نوزائیدہ بچّوں کے روتے چہرے دیکھ کر خود کو کوستی ہیں کہ ان کے پاس آنسو تو ہیں، مگر دودھ نہیں۔ بوڑھے باپ اپنے گھر کے سامنے خالی پیالہ رکھ کر سوچتے ہیں کہ کب سے زمین پر روٹی اور آسمان سے رحمت دونوں بند ہو گئی ہیں۔
یہ کیسی دنیا ہے کہ جہاں انسانیت کے علمبردار خاموش ہیں؟ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں فائلوں میں سسک رہی ہیں، عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں مصلحت کی راکھ جم چکی ہے، اور ذرائع ابلاغ کے لیے یہ سب محض ایک خبر کا حصّہ ہے — "Breaking News” کی ایک سرخی، جو چند لمحوں بعد کسی فیشن شو یا اسپورٹس رپورٹ میں دب جاتی ہے۔ یہ منظر دراصل ہمارے دور کے اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ ایک طرف بھوکے بچوں کے چہرے ہیں، دوسری طرف جنگی مشینری کی چمک۔ ایک طرف محصور انسان ہیں، دوسری طرف سیاسی بیانات کی مصنوعی ہمدردی۔ لیکن تاریخ یہ منظر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رہی ہے۔ یہ نسل کشی صرف فلسطینیوں کے خلاف نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب راکھ میں دبی ان سانسوں سے زندگی کے نغمے ابھریں گے، جب یہی غزہ، جو آج ملبہ ہے، آزادی اور وقار کی علامت بن کر اُبھرے گا۔ کیونکہ ظلم اگر صدیوں کا سفر بھی کرے، اُس کا انجام ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے، حق کی فتح اور باطل کی رسوائی۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!