دریافت 2026اردو زبان، تخلیق اور صلاحیتوں کا روشن جشن — کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

ممبئی (پریس ریلیز) : جب تخلیق کو پلیٹ فارم ملے، خوابوں کو آواز نصیب ہو اور زبان کو نئی نسل کا سہارا حاصل ہو—تو ایسے لمحے جنم لیتے ہیں جو صرف تقریبات نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک یادگار لمحہ دریافت 2026 – ریاستی سطح کا انٹر اسکول اردو ڈرامہ مقابلہ اور بچوں کےجشن کی صورت میں 20 جنوری 2026، بروز منگل، بھارتیہ ودیا بھون، ممبئی میں دیکھنے کو ملا، جو غیر معمولی کامیابی، شاندار نظم و ضبط اور تخلیقی جوش کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

یہ عظیم الشان ادبی و ثقافتی میلہ ووگ تھیٹر اور بھارتیہ ودیا بھون کے اشتراک سے منعقد ہوا، جہاں ممبئی، مضافات اور مہاراشٹر کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے درجنوں اسکولوں کے طلبہ و اساتذہ نے اردو زبان و ادب کے رنگ بکھیر دیے۔ پورا ماحول اردو کی خوشبو، فن کی روشنی اور بچوں کے حوصلوں سے معطر نظر آیا۔ یہ تقریب اردو زبان و تہذیب کا ایک بامقصد اور فکر انگیز مظہر ثابت ہوئی، جہاں بچوں اور نوجوانوں کو اپنی تخلیقی، فکری اور فنی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک بااعتماد اور معیاری پلیٹ فارم میسر آیا۔اس باوقار تقریب کی صدارت انجمن کے نائب صدر ڈاکٹر شیخ عبدا للہ نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی میں رؤف پٹھان،حامد اقبال صدیقی، شعیب ہاشمی، اعجاز منظور، انتخاب منظور، اویس شیخ،
سمیر بک والا، ناصر علی، فرید خان، ایم مبین، عرفان برڈی اور اعجاز خانکی موجودگی نے پروگرام کو وقار اور معنویت عطا کی۔
معزز مہمانان کے فکر انگیز خطابات نے نہ صرف طلبہ کی حوصلہ افزائی کی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ اردو زبان آج بھی نئی نسل کے خوابوں میں سانس لیتی ہے۔ اس تخلیقی تحریک کے روحِ رواں جناب عدنان سرکھوت کی بصیرت مند قیادت میں دریافت 2026 ایک اعلیٰ مثال بن کر سامنے آیا۔ پیشے سے انجینئر، مگر دل سے فنکارایک ایسے رہنما کی حیثیت سے جنہوں نے اردو تھیٹر کو محض اسٹیج تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بچوں کے خوابوں، سوچ اور شناخت کا حصہ بنا دیا۔ ان کی قیادت میں ووگ تھیٹر ایک ایسا معتبر پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں صلاحیتیں نکھرتی ہیں اور
حوصلے حقیقت کا شکل میں سامنے آتے ہیں۔دریافت 2026 کی سب سے نمایاں خوبی یہ رہی کہ یہ محض مقابلوں کا سلسلہ نہیں تھا بلکہ ایک فکری، تربیتی اور تخلیقی سفر تھا۔اس سال اردو ڈرامہ، بیت بازی، کوئز، کہانی نویسی، خطاطی، ڈرائنگ اور مونو ایکٹنگ جیسے متنوع مقابلوں نے بچوں کے ذہن، زبان اور فن کو ایک ساتھ جِلا بخشی۔ اسٹیج پر کبھی جذبات بولتے نظر آئے، کبھی اشعار میں فکر جھلکی، کبھی رنگوں نے سوچ کو شکل دی، تو کبھی ایک فنکار کی واحد آواز نے پورا ہال ساکت کر دیا۔طلبہ واساتذہ کے پُرجوش مظاہرے، اساتذہ کی رہنمائی اور ماہر و منصفانہ ججنگ نے اس پروگرام کو ایک اعلیٰ ادبی معیار عطا کیا۔
مختلف مقابلوں کی جانچ ادب اور تھیٹر سے جڑی معروف شخصیات نے انجام دی، جن میںیوگیش پگارے، وجاہت عبد الستار، رفیق گلاب، عبید اعظم اعظمی، قمر صدیقی، ذاکر خان، مبشر اکبر، سیماب انور، فرزانہ شاہد اور ثنا شیخ شامل تھے۔ان معزز ججز کی باریک بینی، تجربہ اور حوصلہ افزائی نے نہ صرف مقابلوں کو شفافیت عطا کیں بلکہ طلبہ کے اعتماد کو بڑھانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔اس شاندار پروگرام کے کامیاب انعقاد میں ٹیم ووگ کی محنت، نظم و ضبط اور باہمی ہم آہنگی نمایاں رہی۔ پسِ پردہ ہونے والی ہر کوشش، ہر منصوبہ بندی اور ہر قربانی نے دریافت 2026 کو ایک یادگار جشن میں تبدیل کر دیا۔ یہ ٹیم ووگ ہی تھی، جس نے اس مقابلے کو ایک کامیاب اور شاندار پروگرام میں تبدیل کر دیا۔
اختتامی تقریب اس وقت مزید یادگار بن گئی جب اردو زبان، ادب اور تھیٹر کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات کو خصوصی اعزازات سے نوازا گیا۔ ممتاز ادبی و ثقافتی خدمات کے اعتراف میں ضیاء الرحمن انصاری، جانب رجب جعفری اور جناب منظور عالم (شولاپور)کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا کیا گیا، جن کی حیات اور خدمات اردو کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔اسی طرح محترمہ زاہدہ حامد اقبال صدیقی کو اُن کی مثالی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انسپیریشن ایوارڈ عطا کیا گیا، جن کی جدوجہد نئی نسل کے لیے حوصلہ، رہنمائی اور تحریک کا سرچشمہ ہے۔ اختتامی تقریب میں مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ اور اداروں کو انعامات و اسناد سے نوازا گیا۔
نتائج حسبِ ذیل رہے:
دریافت – اسٹیٹ لیول انٹر اسکول اردو ڈرامہ مقابلے کے نتائج پہلابہترین ڈرامہ(قادر خان ٹرافی): صنوبر(انجمن اسلام بیگم شریفہ کا لسیکرگرلز انگلش اسکول، ممبئی )دوسرا بہترین ڈرامہ(حبیب تنویر ٹرافی): آئینہ ( انجمن اسلام الانہ انگلش ہائی اسکول – سی-ایس -ٹی، ممبئی)تیسرابہترین ڈرامہ( ساگر سرحدی ٹرافی):ارپیتا (انجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج – با ندرہ ، ممبئی ) چوتھا ترغیبی ڈرامہ( نادرہ ببّر ٹرافی): تین گھنٹے (رائل گرلز ہائی اسکول، میرا روڈ )پانچواں بہترین ڈرامہ( ووگ چوائس ٹرافی): مائی( زیڈ کیو انگلش میڈیم اسکول -بھیونڈی )کوئز مقابلے برائےاساتذہ : پہلا انعام: انجمن اسلام بیگم شریفہ کا لسیکرگرلز انگلش اسکول، ممبئی دوسرا انعام: انجمن اسلام الانہ انگلش ہائی اسکول – سی-ایس -ٹی، ممبئی تیسرا انعام :* انجمن نورالاسلام اردو ہائی اسکول ، ساکی ناکہ چوتھا انعام: صغرا بی اردو ہائی اسکولکوئز مقابلے برائےطلبہ : پہلا انعام: مدنی ہائی اسکول (جوگیشوری) دوسرا انعام: انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول۔
تیسرا انعام : انجمن نورالاسلام اردوہائی اسکول، ساکی ناکہ چوتھا انعام: رائل گرلز ہائی اسکول (میرا روڈ)بیت بازی مقابلے برائے طلبہ: پہلا انعام: رائل گرلز ہائی اسکول (میرا روڈ) دوسرا انعام: مدنی ہائی اسکول (جوگیشوری) تیسرا انعام : انجمن اسلام الانہ انگلش ہائی اسکول – سی-ایس -ٹی،ممبئی چوتھا انعام: انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکولبہترین بیت خواہ : دکا خنسہ عبدا لحمید (مدنی ہائی اسکول -جوگیشوری)بہترین بیت خواہ : ہاجرہ رئیس (رائل گرلز ہائی اسکول-میرا روڈ)کہانی نویسی مقابلہ(اُردو +انگریزی) جونیئر گروپ :پہلا انعام: ثناءخان (انجمن خیر الاسلام اردو گرلز ہائی اسکول – وکھرولی)دوسرا انعام: فاطمہ وسیم شیخ (ا نجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج -با ندرہ )تیسرا انعام :صدیقی ردا فاطمہ (رائل گرلز ہائی اسکول-میرا روڈ)سینئر گروپ :پہلا انعام: خان زینب خاتون جمال (مدنی ہائی اسکول -جوگیشوری)دوسرا انعام: خان فلک ابرا ر (رائل گرلز ہائی اسکول-میرا روڈ)تیسرا انعام: سولکر حفظہ اکبر (انجمن اسلام الانہ انگلش ہائی اسکول –
سی-ایس -ٹی،ممبئی)ٹیچرس گروپ :پہلا انعام: افشاں فیض ہیٹاوکر (انجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج -با ندرہ )دوسرا انعام: سمینہ سلیم خان (انجمن اسلام ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج -باندرہ )تیسرا انعام : انصاری تنویر بانو (انجمن نورالاسلام اردو ہائی اسکول، ساکی ناکہ )مونو ایکٹنگ مقابلہ:جونیئر گروپ :پہلا انعام: چودھری ہادیہ (انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول ) اور انشاء راشد (انجمن اسلام بیگم شریفہ کا لسیکرگرلز انگلش اسکول )دوسرا انعام: نوری آزاد خان (انجمن خیر الاسلام اردو گرلز ہائی اسکول- گھاٹکوپر )تیسرا انعام :الفیہ محبوب سید (رائل گرلز ہائی اسکول-میرا روڈ)ترغیبی انعام : شاہ کامران (انجمن اسلام الانہ انگلش ہائی اسکول – سی-ایس -ٹی،ممبئی)سینئر گروپ:پہلا انعام: صدیقی عائشہ (انجمن اسلام بیگم شریفہ کا لسیکرگرلز انگلش اسکول )دوسرا انعام: زویا محمد ابرار (رائل گرلز ہائی اسکول-میرا روڈ)تیسرا انعام : شیخ عنایہ زبیر (انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول )ترغیبی انعام : ہمدولےاقرا ((انجمن اسلام اے اے کھٹکھٹے ہائی اسکول ، واشی)ڈرائنگ مقابلہ:جونیئر گروپ:پہلا انعام:صفاعبدالمجاور (رائل گرلز ہائی اسکول، میرا روڈ )دوسرا
انعام: خان اصفیہ (انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول )تیسرا انعام :خان اقرا مہک (انجمن خیر الاسلام اردو گرلز ہائی اسکول- گھاٹکوپر )سینئرگروپ:پہلا انعام:سدرہ شفیق خان (رائل گرلز ہائی اسکول، میرا روڈ )دوسرا انعام: مولاپیہ صبا جنید (مدنی ہائی اسکول )تیسرا انعام : عائشہ صدیقہ محمد یارخان (انجمن نورالاسلا م اردو ہائی اسکول )خطاطی مقابلہ:پہلا انعام:سید عائشہ (پٹیل ہائی اسکول )دوسرا انعام: گورے ماریہ (ایس -ایم -وا-رئیس اردو ہائی اسکول )تیسرا انعام : پٹھان شفاء (پٹیل ہائی اسکول )پروگرام کے اختتام پر ووگ تھیٹر کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اردو زبان، تھیٹر اور تخلیقی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اسی لگن اور تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھا جائے گا۔دریافت 2026 ایک بار پھر اس حقیقت کا روشن ثبوت بنا کہ اردو زبان آج بھی زندہ، متحرک اور نئی نسل کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔ یہ ادبی و ثقافتی جشن اردو تہذیب کا ایک یادگار حوالہ بن کر دیر تک یاد رکھا جائے گا۔




