
عقیل خان بیاولی جلگاؤں
معاشرہ آج جس خاموش مگر نہایت مہلک دشمن کے نرغے میں ہے، اس کا نام منشیات ہے۔ یہ وہ آہستہ چلنے والا زہر ہے جو بیک وقت انسان کے ایمان، عقل، صحت، معیشت اور سماجی رشتوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ منشیات صرف ایک فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان، محلے، شہر اور بالآخر قوم کی تباہی کا سبب بنتی ہے۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس لعنت کا سب سے آسان شکار بنتی جا رہی ہے، جہاں فیشن، دوستوں کا دباؤ، بے راہ روی اور وقتی لذت کا فریب ایک روشن مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو منشیات ہر اس شے میں شامل ہے جو عقل کو ماؤف کرے، اور عقل ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہے۔ جب عقل پر پردہ پڑ جائے تو نہ حلال و حرام کی تمیز باقی رہتی ہے، نہ صحیح و غلط کا شعور۔ یہی وجہ ہے کہ نشہ صرف جسمانی بیماری نہیں بلکہ روحانی زوال اور اخلاقی انحطاط کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔ ایسے نازک اور تشویشناک حالات میں دعوتِ اسلامی انڈیا کے فلاحی شعبہ غریب نواز ریلیف فاؤنڈیشن (GNRF) کی جانب سے قومی سطح پر جاری “Say No To Drugs” منشیات مخالف مہم یقیناً ایک
خوش آئند، بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ یہ محض ایک وقتی پروگرام نہیں بلکہ سماج کو جھنجھوڑنے والی وہ بیدار کن صدا ہے جو ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اگر آج ہم نے اصلاح کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو کل ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس مہم کے تحت منعقد ہونے والے بیداری پروگراموں میں منشیات کے تباہ کن اثرات کو مذہبی، سماجی، معاشی اور طبی تمام زاویوں سے جس سنجیدگی، سچائی اور مؤثر انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ لائقِ ستائش ہے۔ بڑی اسکرین پر دکھائے گئے مناظر اور مستند حقائق اس تلخ سچ کو بے نقاب کرتے ہیں کہ
نشہ صرف جگر، دماغ یا اعصاب کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ انسان کے کردار، رشتوں، روزگار اور مستقبل کو بھی نگل جاتا ہے۔طبی و نفسیاتی ماہرین کے مطابق منشیات ذہنی بیماریوں، خودکشی کے رجحانات، تشدد اور جرائم میں اضافے کا بڑا سبب ہیں، جبکہ معاشی اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک نشے کا عادی فرد نہ صرف خود بیکار ہو جاتا ہے بلکہ پورا خاندان مالی بدحالی قرض اور محتاجی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نشے کا ایک عادی فرد سماج کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ منشیات کی ابتدا اکثر تفریح، فیشن یا وقتی شوق کے نام پر ہوتی ہے، مگر اس کا انجام قبرستان، جیل خانہ، پاگل خانہ یا اخلاقی و روحانی تباہی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی۔
یہ امر بھی نہایت اطمینان بخش ہے کہ اس مہم میں سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ پولیس انتظامیہ کی فعال شرکت اس بات کی واضح علامت ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف کسی ایک ادارے یا طبقے کی نہیں بلکہ پورے سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب اصلاحی ادارے، علما کرام، سماجی ذمہ داران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں، تو اس ناسور کے جڑ سے خاتمے کی امید یقین میں بدل سکتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف جلسوں، تقاریر اور پروگراموں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں، مساجد اور دوستوں کے حلقوں میں بھی نشے کے خلاف مسلسل آواز بلند کریں۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی صحبت اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت کریں،اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ وقتی لذت کے بجائے صحت مند، باوقار اور روشن مستقبل کا انتخاب کریں۔ دعوتِ اسلامی کی “Say No To Drugs” جیسی مہمات دراصل ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ زندگی نشے میں نہیں، بلکہ صحت، ایمان، کردار، شعور اور خدمتِ خلق میں ہے۔ اگر ہم سب اجتماعی طور پر اس پیغام کو اپنا لیں تو یقیناً ایک پاکیزہ، محفوظ، خوشحال اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہۓ
نشہ کو نہ، ذندگی کو ہاں”
” NO DRUGS; YES LIFE”.




