دل کی تطہیر اورآخری عشرۂ رمضان


✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلام انسان کی ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ اس کی باطنی دنیا کی اصلاح کو بھی غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنّتِ رسولﷺ کی تعلیمات بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ انسان کی اصل کامیابی صرف اس کے ظاہری اعمال میں نہیں بلکہ اس کے دل کی کیفیت میں پوشیدہ ہے۔ دل ہی وہ مرکز ہے جہاں ایمان کی روشنی بھی جنم لیتی ہے اور جہاں غفلت کی تاریکی بھی جگہ بنا سکتی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں دل کی اصلاح، اس کی پاکیزگی اور اس کی بیداری کو روحانی زندگی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
رمضان المبارک اسی روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ انسان کو محض روزے رکھنے اور عبادات کی ظاہری ادائیگی تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے اپنے اندر جھانکنے، اپنی کمزوریوں کو پہچاننے اور اپنے ربّ سے تعلق کو تازہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ رمضان کا ہر دن اور ہر رات انسان کو یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی کا اصل مقصد اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کا حصول اور ایک پاکیزہ کردار کی تشکیل ہے۔ لیکن جب یہ مبارک مہینہ اپنے اختتامی مرحلے یعنی آخری عشرے میں داخل ہوتا ہے تو اس کی روحانی فضا اور بھی زیادہ گہری اور بامعنی ہو جاتی ہے۔
رمضان کا آخری عشرہ دراصل اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بندۂ مؤمن کے لیے ایک خاص دعوت ہے کہ وہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرے اور اپنے دل کی دنیا کو سنوارنے کی کوشش کرے۔ انہی مبارک راتوں میں وہ عظیم رات بھی آتی ہے جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے اور جسے قرآن نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہ رات دراصل انسان کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ اپنے ربّ کے حضور عاجزی کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگے، اپنی روح کو پاک کرے اور اپنی زندگی کے سفر کو ایک نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھائے۔
آج کا انسان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں مادی ترقی اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے، لیکن اس کے باوجود دلوں میں بے چینی، اضطراب اور روحانی خلا بڑھتا جا رہا ہے۔ تیز رفتار زندگی، معلومات کی یلغار اور مسلسل مصروفیت نے انسان کو بظاہر بہت کچھ دے دیا ہے، مگر اس کے دل کی سکون اور طمانیت کو کم کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں رمضان المبارک اور خصوصاً اس کا آخری عشرہ انسان کے لیے ایک روحانی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں وہ دنیا کے شور سے نکل کر اپنے ربّ کے قریب آ سکتا ہے۔
اسی تناظر میں رمضان کے آخری عشرے کا پیغام ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ جس طرح ہم اپنی روزمرّہ زندگی میں مختلف آلات اور اسکرینوں کو صاف رکھتے ہیں تاکہ تصویر واضح نظر آئے، اسی طرح ہمیں اپنے دل کی اسکرین کو بھی صاف رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب دل صاف ہوتا ہے تو ایمان کی روشنی اس میں پوری طرح جھلکتی ہے اور انسان کو زندگی کا صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے زیرِ نظر مضمون "دل کی تطہیر اور آخری عشرۂ رمضان” رمضان المبارک کے آخری عشرے کی روحانی حکمت، اس کے اخلاقی اثرات اور انسان کی باطنی اصلاح کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم اس مبارک زمانے سے حقیقی فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی زندگی کو ایمان، سکون اور معنویت کی روشنی سے منور کر سکیں۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ درحقیقت روحانی بیداری اور باطنی تجدید کا زمانہ ہے۔ یہ وہ مبارک ایام ہیں جن میں انسان اپنے باطن کی دنیا کا جائزہ لیتا ہے، اپنی کوتاہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور اپنے دل و دماغ کو ایک نئی روشنی سے آشنا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر جدید دور کی زبان میں کہا جائے تو یہ دن انسان کے لیے اپنے "دل کی اسکرین” کو صاف کرنے کا بہترین موقع ہیں۔ جس طرح موبائل یا کمپیوٹر کی اسکرین پر گرد و غبار یا غیر ضروری فائلیں جمع ہو جائیں تو تصویر دھندلی ہو جاتی ہے، اسی طرح انسان کے دل پر بھی گناہوں، غفلتوں اور دنیاوی مشاغل کی تہیں جم جاتی ہیں، جس سے حق کی روشنی مدھم پڑ جاتی ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے دل کی آلودگی اور اس کی صفائی کو نہایت بلیغ انداز میں بیان فرمایا ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے، پھر اگر وہ توبہ کرے اور استغفار کرے تو دل صاف ہو جاتا ہے، اور اگر گناہوں میں اضافہ کرے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے”۔ یہی وہ کیفیت ہے جسے قرآن نے "رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم” (المطففین: 14) سے تعبیر کیا ہے۔ یہ حوالہ آپ کے "دل کی اسکرین پر گرد و غبار” والے استعارے کو اور مضبوط بنا دے گا۔ اسلامی تعلیمات میں دل کو انسانی شخصیت کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ انسان کے جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔ اس حقیقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان کی فکری، اخلاقی اور روحانی زندگی کا اصل سرچشمہ دل ہی ہے۔ لہٰذا جب دل کی اسکرین صاف ہو جاتی ہے تو انسان کے اعمال، افکار اور رویے بھی روشن اور متوازن ہو جاتے ہیں۔
قرآنِ مجید نے دل کی پاکیزگی کو انسانی فلاح کا بنیادی معیار قرار دیا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے: "یَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ • إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ” (الشعراء: 88-89)۔ یعنی قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد، سوائے اس کے جو اللّٰہ کے حضور پاکیزہ دل لے کر آئے گا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا گیا: "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (الرعد: 28)۔ یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دل کی اصل تسکین اور اس کی صفائی اللّٰہ کی یاد میں ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ اسی تطہیرِ قلب کا عملی کورس ہے۔ ان ایام میں اعتکاف، قیام اللیل، تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا اور استغفار کی کثرت انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ مسجد کا سکوت، سحر کی خاموشی اور تہجد کی ساعتیں انسان کے دل کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا کے شور سے نکل کر اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہو سکے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے ماضی کا محاسبہ کرتا ہے اور اپنے مستقبل کے لیے ایک نیا عہد باندھتا ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللّٰہﷺ رمضان کے آخری عشرے کو غیر معمولی اہمیت دیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں: "جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسول اللّٰہﷺ اپنی کمر کس لیتے، راتوں کو عبادت میں بیدار رہتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے”۔ (صحیح بخاری)۔ یہ روایت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آخری عشرہ صرف انفرادی عبادت کا نہیں بلکہ پورے گھر اور معاشرے کی روحانی بیداری کا زمانہ ہے۔ اعتکاف دراصل انسان کو دنیا کے ہجوم سے نکال کر چند دنوں کے لیے اللّٰہ کے گھر میں ٹھہرا دینے کا نام ہے۔ اس کا مقصد صرف مسجد میں قیام نہیں بلکہ روح کی تربیت اور نفس کی اصلاح ہے۔ علماء کے نزدیک اعتکاف انسان کو تین بڑی نعمتیں عطاء کرتا ہے:
• یکسوئی اور خلوت۔
• مسلسل عبادت کا ماحول۔
• اپنے نفس کا محاسبہ۔
یہ تینوں چیزیں دل کی صفائی کے لیے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
اس عشرے کی سب سے بڑی فضیلت شبِ قدر ہے، جسے قرآن نے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے۔ یہ رات دراصل انسانی زندگی کے رخ کو بدل دینے والی رات ہے۔ اس میں کی جانے والی عبادت نہ صرف گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتی ہے بلکہ انسان کے دل میں ایمان کی وہ تازگی پیدا کرتی ہے جو اسے آئندہ زندگی میں نیکی اور خیر کی راہوں پر استقامت عطاء کرتی ہے۔ گویا یہ رات ایک ایسی روحانی "ری سیٹ” ہے جس کے بعد انسان نئی توانائی اور نئی بصیرت کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کر سکتا ہے۔ آج کا انسان ایک ایسے زمانے میں جی رہا ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے مگر دلوں میں سکون کی کمی ہے۔ سوشل میڈیا، تیز رفتار زندگی اور مسلسل مصروفیت نے انسان کو بظاہر دنیا سے جوڑ دیا ہے مگر اپنے باطن سے دور کر دیا ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ اس فاصلہ کو کم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دل کی اصل روشنی اللّٰہ کی یاد میں ہے، اور حقیقی سکون اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنے ربّ سے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید نفسیات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کو ذہنی سکون کے لیے خاموشی، مراقبہ اور روحانی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت انسان کے ذہن کو تھکا دیتی ہے، جب کہ خاموش عبادت، غور و فکر اور دعا انسان کے ذہن کو دوبارہ متوازن بنا دیتے ہیں۔ رمضان کا آخری عشرہ دراصل اسی روحانی اور ذہنی توازن کی بحالی کا ایک الٰہی نظام ہے۔ دل کی اسکرین کو صاف کرنے کا مطلب صرف گناہوں سے توبہ کرنا ہی نہیں بلکہ اپنے اندر مثبت اقدار کو پیدا کرنا بھی ہے۔ حسد کی جگہ خیر خواہی، نفرت کی جگہ محبت، تکبر کی جگہ عاجزی اور بے حسی کی جگہ ہمدردی پیدا کرنا اسی تطہیر کا حصّہ ہے۔ جب دل ان صفات سے آراستہ ہوتا ہے تو انسان نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی رحمت بن جاتا ہے۔
رمضان کا آخری عشرہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی صرف ظاہری ترقی میں نہیں بلکہ باطنی پاکیزگی میں ہے۔ اگر انسان اپنے دل کی اسکرین کو صاف کر لے تو اسے حقیقت کا وہ واضح منظر دکھائی دیتا ہے جو اسے صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جس میں انسان اپنے ربّ کے قریب ہوتا ہے اور اپنی زندگی کو مقصد اور معنی سے بھر دیتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کے ان آخری لمحات کو محض ایک رسمی عبادت کے طور پر نہ گزاریں بلکہ انہیں اپنی زندگی کی روحانی تجدید کا موقع بنائیں۔ ہم اپنے دل کی اسکرین سے غفلت، کدورت اور گناہوں کی گرد کو صاف کریں، قرآن کی روشنی سے اسے منور کریں اور دعا کے آنسوؤں سے اسے شفاف بنائیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو رمضان کا اختتام دراصل ایک نئی اور روشن زندگی کا آغاز بن جائے گا۔ آخری عشرے میں دل کی اسکرین صاف کرنے کے چند طریقے:
• روزانہ قرآن کی باقاعدہ تلاوت
• کثرتِ استغفار
• تہجد اور دعا
• لوگوں کو معاف کرنا
• سوشل میڈیا اور غیر ضروری مصروفیات سے دوری
• صدقہ و خیرات
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




