دیگلور ناکہ میں ایس ڈی پی آئی کارکن محمد عبداللہ پر جان لیوا حملہ – چھ افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج
سیاسی رنجش یا ذاتی عداوت؟ زخمی سماجی کارکن کی حالت نازک - پولیس نے اسلحہ ایکٹ اور بی این ایس کی دفعات میں کیس درج کیا

ناندیڑ، 09 اکتوبر ناندیڑ شہر کے دیگلور ناکہ علاقے میں بدھ کی صبح اُس وقت سنسنی پھیل گئی جب سماجی و سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) کے کارکن محمد عبداللہ محمد امجد (عمر 34 سال) پر چند مقامی نوجوانوں نے مبینہ طور پر تلوار، ہاکی اور دھاتی ہتھیاروں سے جان لیوا حملہ کر دیا۔
واقعہ باغبان کالونی کے قریب اُس وقت پیش آیا جب عبداللہ، بلدیہ کے ملازمین کے ساتھ نالی کی صفائی کے کام میں مصروف تھے۔
زخمی عبداللہ نے **ضلع سرکاری اسپتال وشنو پوری، وارڈ نمبر 52 میں زیر علاج حالت میں پولیس کو تحریری بیان دیتے ہوئے بتایا کہ صبح تقریباً 11:30 بجے وہ اپنی گلی میں صفائی کا کام دیکھ رہے تھے کہ اچانک محبوب ٹیلر، یعقوب ٹیلر، سید نوید، فیاض خان، معراج خان، اور مقیت عرف سیم (تمام ساکنان باغبان گلی، دیگلور ناکہ) وہاں پہنچے۔
ان کے بقول محبوب کے ہاتھ میں تلوار، یعقوب کے ہاتھ میں ہاکی اسٹک اور نوید کے ہاتھ میں فائٹر (دھاتی چاقو نما ہتھیار) تھا۔
ان افراد نے انہیں روک کر کہا،
"یہ علاقہ شیر علی لیڈر کا ہے، تم یہاں کیوں کام کر رہے ہو؟ کیا نیا لیڈر بننے کا ارادہ ہے؟”
عبداللہ کے مطابق، یہ کہنے کے بعد ملزمان نے انہیں گالیاں دیتے ہوئے گھیر لیا۔ فیاض خان اور مقیت نے اُن کے دونوں ہاتھ پکڑے، جبکہ محبوب ٹیلر نے تلوار سے اُن کے بائیں کان پر وار کیا جس سے شدید زخم آئے اور خون بہنے لگا۔ اس کے بعد حملہ آوروں نے انہیں زمین پر گرا کر لاتوں، مکوں، ہاکی اور فائٹر سے مارا۔
یعقوب ٹیلر نے ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں پر حملے کیے، جبکہ نوید نے دھمکی دی:
> "ہم گولی نہیں، تلوار اور ہاکی سے جان لے لیں گے۔ ہمارے پیچھے شیر علی لیڈر ہے، کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا!”
محلے میں شور و غل سن کر لوگ باہر نکل آئے، جس پر حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی عبداللہ نے رومال سے کان پر خون روکا اور کسی طرح سڑک تک پہنچے، جہاں اُن کے دوست شفیق بھائی نے انہیں سنبھالا۔شفیق بھائی انہیں فوری طور پر اتوارہ پولیس اسٹیشن لے گئے، کل رات عبداللہ کی حالت بگڑنے پر ان کو سرکاری دواخانے سے یشوسائی ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے جہاں وہ زیر علاج ہیں ۔ان کے زخم گہرے بتائے جا رہے ہیں اور ان کو ہاتھ میں اپریشن کر کے راڈ ڈانا کی ضرورت ہے۔ کل ڈاکٹر ان کے ہاتھ کا اپریشن کرنے کی تیاری میں ہیں ۔ عبداللہ اس وقت زیر علاج ہیں
اتوارہ پولیس نے زخمی کے بیان کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔
پولیس کے مطابق، ملزمان پر اسلحہ ایکٹ 1959 کی دفعات 4 اور 25 کے تحت غیر قانونی طور پر خطرناک اسلحہ رکھنے اور استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، بھارتیہ نیائے سنہیتا (Bharatiya Nyaya Sanhita – BNS) 2023 کی مندرجہ ذیل دفعات کے تحت بھی کیس درج کیا گیا ہے:
دفعہ 115(2): غیر قانونی اجتماع یا ہنگامہ آرائی کی سازش
دفعہ 118(1) اور 118(2): دنگا فساد اور مہلک ہتھیاروں کا استعمال
دفعہ 351(2) اور 351(3):جان لیوا حملہ یا قتل کی کوشش
دفعہ 352: حملہ یا تشدد کی کوشش
دفعہ 189(2): سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی سے روکنا
دفعہ 190: سرکاری احکام کی خلاف ورزی
دفعہ 191(2) اور 191(3): عوام میں نفرت، دشمنی یا تشدد کو ہوا دینا
پولیس ذرائع کے مطابق، یہ دفعات انتہائی سنگین نوعیت کی ہیں، اور ملزمان کو طویل قید یا سخت سزا ہو سکتی ہے۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ حملے کے پیچھے سیاسی یا بلدیہ سطح کی رقابت ہو سکتی ہے، کیونکہ فریادی SDPI کے فعال رکن ہیں، اور علاقے میں صفائی و سماجی کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے میں "شیر علی لیڈر” نام کے شخص کا حوالہ ملنے کے بعد پولیس اب اس زاویے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا یہ حملہ کسی سیاسی اشارے یا حمایت کے تحت ہوا۔
واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے۔ SDPI کے کارکنوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب، کچھ شہری تنظیموں نے کہا ہے کہ "ایسے واقعات شہر کے امن و بھائی چارے کے لیے خطرہ ہیں، اور انتظامیہ کو غیر جانبداری سے کارروائی کرنی چاہیے۔”
اتوارہ پولیس اسٹیشن کے ایک افسر نے بتایا کہ "ہم نے ملزمان کے خلاف تعزیرات کے تحت سخت دفعات میں کیس درج کر لیا ہے۔ زخمی کا بیان قلم بند کیا جا چکا ہے، اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔ تفتیش جاری ہے۔”




