ربّ بھولتا نہیں ظالم کے لیے عبرت، مظلوم کے لیے رحمت


۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
"وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيَّا”۔ اور تیرا ربّ ہرگز بھولنے والا نہیں۔ (سورۃ مریم: 64)۔ یہ محض ایک آیت نہیں، یہ کائنات کی نبض میں دھڑکتا ہوا ایک ابدی اعلان ہے۔ یہ آیت اُن روشن سچائیوں میں سے ہے جو انسان کے دل کی تہہ میں اتر کر امید کے چراغ جلاتی ہے، اور سرکش دلوں کے غرور کو چور چور کر دیتی ہے۔ امام شافعیؒ نے اس آیت کا کیا خوب نچوڑ بیان کیا ہے کہ: "یہ آیت ظالم کے دل میں تیر اور مظلوم کے دل پر مرہم ہے”۔ کیوں کہ ظلم کی راہ اختیار کرنے والا ہمیشہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے ہاتھوں کیا گیا جُرم زمانے کے دھول میں دب جائے گا، اس کی چالیں، سازشیں اور فریب کبھی کھلیں گے نہیں، اس کی کرسی، اس کا اقتدار اور اس کی طاقت ہمیشہ باقی رہے گی، اور حساب کا دن شاید کوئی کہانی ہو، کوئی تصور… حقیقت نہیں۔
لیکن یہ آیت اس فریبِ نفس پر بجلی بن کر گرتی ہے۔ یہ کہتی ہے: تم بھول جاؤ… دنیا بھول جائے… گواہ چلے جائیں… سچ چھپ جائے… عدالتیں خاموش ہو جائیں… اور تاریخ کے اوراق بدل دیے جائیں… لیکن ربّ العالمین نہیں بھولتا۔ وہ جو ایک پتا گرنے کی آہٹ سنتا ہے، وہ جو رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ جو دلوں کے اندر چھپے خیالات کی بھی زبان جانتا ہے، وہ کیسے بھول سکتا ہے؟ ظالم کے لیے یہ آیت انتظار کی تلوار ہے۔ وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے، مگر یہی وقت اُس کے خلاف دلیل بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللّٰہ کی عدالت میں تاخیر تو ہوتی ہے، مگر اندھی نہیں ہوتی۔
اور مظلوم… جس کی آنکھ خشک ہو گئی ہو،
جس کی آہ تھک چکی ہو، جس کا دروازہ ہر در سے بند ہو چکا ہو۔ یہ آیت اس کے دل پر شبنم کی ٹھنڈک بن کر اترتی ہے۔ یہ اسے کہتی ہے: خاموش رہو… رونے دو اپنے دل کو سجدوں میں… تمہاری آواز گئی نہیں ہے، عرش کے سننے والے نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ تمہارا ربّ ہرگز بھولنے والا نہیں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ عدل کا چراغ کبھی نہیں بجھتا۔ اگر زمین کی عدالتیں خاموش ہو جائیں، تو آسمان کی عدالتیں جاگ جاتی ہیں۔ ہر ظلم کا جواب لکھا جا چکا ہے۔ بس پردے اٹھنے کا وقت باقی ہے۔ یہ ہے اس آیت کی شان! مظلوم کے دل کا قرار، اور ظالم کے لیے زلزلہ۔
ظلم کی حقیقت اور عدلِ الٰہی کا وعدہ
ظلم صرف تلوار کا وار نہیں، یہ روح کا زخم بھی ہے۔ ظلم صرف کسی کو مارتے یا قید کرتے رہنے کا نام نہیں بلکہ حق چھین لینے کا ہر عمل ظلم ہے۔ عربی میں ظلم کا مفہوم ہے:
شیء کو اس کی اصل جگہ سے ہٹا دینا
یعنی کوئی چیز جہاں ہونی چاہئے، وہاں نہ ہو
یہی ظلم ہے۔ پس جب! کسی کا حق روکا جائے، کسی کی آواز دبائی جائے، کسی کی وراثت دبا لی جائے، کسی کی عزّت مجروح کی جائے، کسی کے جذبات کو روند دیا جائے، کسی پر جھوٹا الزام لگا دیا جائے، کسی کے حوصلے کو توڑ دیا جائے، تو یہ سب ظاہری اور باطنی ظلم کی شکلیں ہیں۔
ظلم اکثر مسکراہٹوں، گفتگوؤں اور تہذیب کے پردوں میں لپٹا ہوا آتا ہے کبھی دوستی کے لباس میں، کبھی خیرخواہی کے نام پر، کبھی اقتدار اور اختیار کے زور پر، اور کبھی صرف خاموشی کی شکل میں… کیونکہ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے، اور خاموش رہنا خود ایک ظلم بن جاتا ہے۔ دنیا کے قوانین بہت کچھ چھپا لیتے ہیں، گواہ بدل جاتے ہیں، کاغذ مٹ جاتے ہیں، فیصلے خرید لیے جاتے ہیں، اور تاریخ کا ورق بھی الٹ دیا جاتا ہے، مگر جس ذات نے ہر دھڑکن کو لکھا ہے، وہ کیسے بھول سکتی ہے؟ قرآن اعلان کرتا ہے: اور تیرا ربّ کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ (الکہف: 49)
یہ کائنات کے توازن کا سب سے بڑا اصول ہے:
اللّٰہ کے ہاں انصاف ہے، اور صرف انصاف۔ ظالم کے لیے یہ آیت ایک انتباہ ہے کہ اس کی ہر حرکت لکھی جا رہی ہے۔ اور مظلوم کے لیے یہ آیت ایک پناہ گاہ ہے کہ اس کا ہر آنسو محفوظ ہے۔ وہ آنسو جو گال سے ڈھلکنے سے پہلے دل میں لرزتا ہے، وہ بھی عرش پر درج ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم کبھی پائیدار نہیں رہتا۔ وہ چراغ جو جبر کی ہوا سے روشن ہو، آخرکار عدالتِ الٰہیہ کی آندھی سے بجھ جاتا ہے۔ اور جس صبر میں اللّٰہ کی رضا شامل ہو، وہ آخرکار فتح میں بدل جاتا ہے۔ پس یاد رکھئے! ظلم کی بنیاد کمزور ہے۔ اور عدل کی جڑیں آسمان تک گڑی ہیں۔ وقت البتہ اپنا دامن وسیع رکھتا ہے، اصل عدل وقت کے ساتھ نہیں بدلتا، وقت اس کے سامنے جھکتا ہے۔
ظالم کا گمان اور حقیقت کا پردہ
ظالم کی سوچ ایک آئینے جیسی ہوتی ہے جو صرف اپنی ہی تصویر دکھاتی ہے؛ وہ اپنے آپ کو مضبوط، غیر مغلوب اور یقین سے بھرا ہوا دیکھتا ہے۔ دولت اُس کے لیے ایک لافانی تخت بن گئی ہے، اختیارات کا جال اُس کی کمان ہے، اور قانون اُس کے ہاتھوں میں ایک اندھی قربانی کی طرح بے بس پڑا رہتا ہے۔ اسی غرور میں وہ سر اٹھا کر کہتا ہے: "کون دیکھ رہا ہے؟ کیا ہوگا؟” گویا دنیا کے سب دروازے اُس کے قابو میں ہیں اور تاریخ اس کے حکم پر لکھ دی جائے گی۔ لیکن حقیقت ایک ایسی روشنی ہے جو چھوٹی سی دراڑ سے بھی اندر داخل ہو کر بھید کھول دیتی ہے۔ ظلم کا نظام زمانی اور عارضی ہے: شب کی چالیں دن کے سامنے کمزور پڑ جاتی ہیں، نقاب جھڑتے ہیں، سازشیں کھلتی ہیں، اور وہ جو سمجھتے تھے کہ راز چھپے رہیں گے، اُن کے اعمال کا وزن پھر بھی اللّٰہ کے ترازو میں جھکتے ہیں۔ اور یہی وہ کڑا جواب ہے جو آسمان کی زبان میں کہا گیا: وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيَّا۔ یہ جملہ ظالم کی نیندیں بیدار کر دینے والا، اس کے دل میں خوف کا بیج بوتا ہے کیونکہ جہاں بھی چالیں چلیں، جہاں بھی طاقت ٹکتی ہے، وہاں ایک نگرانی ہے جو نہ آنکھوں سے، نہ کاغذ سے بلکہ ربّ کی علمِ غیب سے ہوتی ہے۔
تصور کریں! ظالم رات کے سناٹے میں اپنی فتوحات کی گنتی کرتا ہے؛ لیکن اسی رات میں اُس کا حساب بھی لکھا جا رہا ہوتا ہے۔ وہ جو محسوس کرتا ہے کہ وقت اس کے ہاتھ میں ہے، حقیقت میں وقت اس کے خلاف دلیل بن کر اکٹھا ہوتا ہے۔ اور جب وہ کہتا ہے "کون دیکھ رہا ہے؟” تو جواب صامت مگر فیصلہ کن ہے: وہ جو دیکھ رہا ہے، بھولنے والا نہیں۔ یہ تصور نہ صرف مظلوم کے لیے تسکین کا سبب ہے بلکہ ظالم کے لیے ایک قدمِ انحراف ہے۔ مظلوم کی آنکھوں میں جو امید دمکتی ہے وہ اس اعلان سے مضبوط ہوتی ہے کہ انصاف کی جھولی خالی نہیں رہے گی۔ اور ظالم کے سینے میں وہ سرگوشی گونجنے لگتی ہے کہ ہر عمل کا نتیجہ لکھا جا چکا ہے، ہر ظلم کا نشاندہی شدہ نشان موجود ہے، اور کوئی محاسبہ وقتی تاخیر کی بنا پر موقوف نہیں۔ نتیجہ یہ کہ ظالم کا غرور عارضی ہے، وُہم پر مبنی ہے؛ اور ربّ کا عزم ازلّی، ناقابلِ فراموش۔ یہ جملہ ایک زبردست نصیحت، ایک خوفِ وجد، اور مظلوم کے لیے اطمینانِ خاطر تینوں یکجا کر دیتا ہے۔
آہِ مظلوم کا راستہ سیدھا عرش تک
مظلوم کا ماتم زمین کا معاملہ ہے؛ اس کی آنکھوں سے جو آہیں نکلتی ہیں، وہ دنیا کی خاموش فضاؤں میں گونجتی ہیں۔ کبھی تو وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا سوز ہوا میں بکھر گیا، اس کی آواز کسی گوشِ غفلت پر پڑ گئی، اور انصاف کا دروازہ ہمیشہ کے لیے تالہ کھا گیا۔ مگر اس آئینے میں ایک نرم مگر سنگِ میل حقیقت بھی چمکتی ہے: ہر آنسو کا حساب ایک نگاہِ رحمت میں رکھا جاتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے خشک زمین پر ٹھنڈا پانی جلتی آگ کے لیے تسکین بن جاتا ہے۔ یہ آیت یہی تسکین دیتی ہے: تمہاری ہر آہ، ہر آنسو، ہر درد محفوظ ہے۔ وہ جو سنتا ہے، گنتا ہے، اور محفوظ کرتا ہے وہی "ربّ” ہے۔ اور رسولِ کریمﷺ نے اس کو اس قدر قریب بیان فرمایا کہ فرمایا: "مظلوم کی آہ اور اللّٰہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں” (بخاری)۔ یہ الفاظ ایک سادہ مگر دہلا دینے والی حقیقت کا اقرار ہیں: مظلوم کا ماتم زمینی ہے، مگر اس کا مقدمہ آسمانی عدالت میں پہلے ہی درج ہو چکا ہے۔
تصور کیجیے ایک بچّے کو پیاس و دردمندی میں جو پانی کی چھوٹی سی بوند دیکھ کر امید کی کرن پالیتا ہے، مظلوم کے لیے یہ آیت اسی طرح کی بوندِ رحمت ہے۔ جب وہ روتا ہے، تو ہر قطرہ عرش کی کتاب میں ایک نیا باب بنتا ہے؛ جب وہ سانس بھرتا ہے تو اس کی آواز عرش کے فاصلوں کو پار کر کے پہنچ جاتی ہے۔ یہاں کوئی وکیل درکار نہیں، کوئی ثبوتِ منظر یا شہادت کا انتظار نہیں کیونکہ دل کی صدائے مظلوم، براہِ راست اس ذات تک پہنچتی ہے جو ہر دل کی گہرائی جانتا ہے۔
یہ تسکین صبر کی دعوت بھی ہے! صبر وہ نہیں کہ انسان خود کو بے حس کر لے، بلکہ صبر وہ ہے جو ایمان کے ساتھ جڑا ہو یہ یقین کہ چھوٹی سی وقتی تلخی بھی ابدی نصیب میں بدل سکتی ہے۔ مظلوم کا ہر آنسو، جو فوراً دھری نہ جائے، ایک دن شفا بن کر اُبھرے گا؛ اور وہ انصاف جو زمین نے موخر کیا، آسمان نے پہلے ہی نوٹ کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ منظر دو طرح کی قوت بخشتا ہے: ایک، مظلوم کے دل کو سکونِ رضا سے ہمکنار کرتا ہے کہ میرا رونے کا حساب رکھا جا رہا ہے؛ دوسرا، ظالم کے لیے خوفِ ملامت پیدا کرتا ہے کہ ایک نگہبان ہے جو جھوٹ و جور کو فراموش نہیں کرتا۔ یہ خیال یاد رکھیے! جو ٹھنڈا پانی جلتے دل کو ٹھنڈک دیتا ہے، وہ مضمحل امید کا آغاز نہیں بلکہ حتمی انصاف کا پیش خیمہ ہے۔ مظلوم کو تسکین اس علم سے ملتی ہے کہ اس کی آہ فضاء میں ضائع نہیں ہوئی وہ محفوظ ہے، منظورِ النظر ہے، اور ایک دن ضرور جواب مانگا جائے گا۔
وقت مہلت ہے… معافی نہیں
دنیا کے بازار میں بعض لوگ خود کو فاتح سمجھ لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ جیت گئے، انہوں نے سب کچھ اپنے حق میں لکھوا لیا، وہ یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ کاغذ، قانون اور طاقت کے نام پر سچائی کو ہمیشہ کے لیے قید کیا جا سکتا ہے۔ لیکن آسمان کی عدالت کاغذ سے نہیں، دلوں کے بوجھ سے فیصلہ کرتی ہے۔
بہنوں کا حق کھا گئے!!! وراثت پر قبضہ کر کے، جس بہن نے بچپن میں ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھا تھا، جس نے ماں کے جانے کے بعد دروازے کی چوکھٹ پر آنسو بہا کر انہیں بھائی کہا تھا، اسی بہن کو محتاج بنا دیا۔ دنیا نے شاید نہ دیکھا ہو… محلے نے خاموشی اختیار کر لی ہو… اور کاغذوں نے انہیں بری ثابت کر دیا ہو… مگر پروردگار نے دیکھا۔
اور اس کی نظر بھولتی نہیں— وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيَّا۔
کمزوروں کو روند ڈالا!!! کوئی آواز نہ اٹھی،
کوئی بولنے والا نہ ملا، کوئی گواہ ساتھ کھڑا نہ ہوا… مگر جس دل سے سسکی نکلی تھی،
وہ سیدھی عرش کے دربار میں داخل ہوگئی۔
آہِ مظلوم کا راستہ کسی دروازے کا محتاج نہیں۔ اور جہاں یہ آہ جمع ہوتی ہے، وہاں فیصلے خاموش مگر ناقابلِ ٹلنے والے ہوتے ہیں۔
عزتوں پر تہمت لگائی!!! یہ جرم پتھر پھینکنے سے زیادہ سنگین ہے۔ کیونکہ پتھر زخم دیتا ہے، اور تہمت روح کو چھید دیتی ہے۔ ظالم نے سوچا: "ثبوت نہیں، گواہ نہیں، الزام ثابت نہیں ہوگا!”۔ لیکن اس نے بھول کیا دل کی گواہی وہ عدالت سن لیتی ہے، جس کے سامنے دل بھی بولتے ہیں، اور خاموشیاں بھی گواہ بن جاتی ہیں۔
زمین و جائیداد ہڑپ کی!!! نقشے بن گئے، نام چڑھ گئے، ریکارڈ محفوظ ہو گیا سب کچھ قانونی۔ مگر عرش کا قلم انسانی قلم سے زیادہ حساس ہے۔ وہ لکھتا ہے: "کس نیت سے لیا گیا؟ کس درد پر بغیر احساس کے قدم رکھا گیا؟” اور جب وہاں لکھ دیا جاتا ہے تو دنیا کی سب عدالتیں خاموش ہو جائیں، تب بھی انصاف مؤخر نہیں ہوتا۔ یاد رکھو… سچائی کی گونج خاموش نہیں ہوتی، اور ظلم کا سورج ہمیشہ غروب ہوتا ہے۔ وقت کبھی ظالم کے حق میں گواہی نہیں دیتا۔ وقت صرف اتنی مہلت دیتا ہے کہ انسان خود اپنے خلاف دلیل بن جائے۔ اور پھر… جو ایک آنسو تھا، وہ فیصلہ بن جاتا ہے۔
قانونِ الٰہی: مکافاتِ عمل
کائنات ایک عظیم توازن پر قائم ہے۔ یہ توازن صرف آسمانوں اور زمین کے درمیان نہیں،
بلکہ انسان کے اعمال اور اُن کے نتائج کے درمیان بھی ہے۔ یہی قانون مکافاتِ عمل ہے یعنی جو بُونا ہے، وہی کاٹنا ہے۔ وقت کے دامن میں کچھ بھی گم نہیں ہوتا۔ وہ چپ چاپ نہیں گزرتا، بلکہ محافظ کی طرح گواہیاں جمع کرتا ہوا چلتا ہے۔ دنیا کبھی کبھی تماشائی ہوتی ہے، لوگ خاموش رہ جاتے ہیں،
عدالتیں وقتی طور پر دب جاتی ہیں، اور طاقت اپنے زور سے سچائی کو پردوں میں چھپا لیتی ہے۔ مگر آسمان کی عدالت کبھی خاموش نہیں رہتی۔ وہاں گواہی نہ کاغذ پر ہوتی ہے نہ زبان پر وہاں دل بولتا ہے، نیت گواہ بنتی ہے اور آنکھوں کے اشارے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے شاعر نے کہا:
گندم از گندم بروید، جو ز جو
از مکافاتِ عمل غافل مشو
(گندم سے گندم نکلے گی، جو سے جو۔ جیسے بو گے، ویسا ہی پاؤ گے اس قانون سے کبھی غافل نہ ہونا۔)
یہ کوئی کہانی نہیں، یہ حقیقت کا ابدی اصول ہے۔ اور اسی اصول کو قرآن ایک آیت میں گویا آخری، فیصلہ کن شہادت کے ساتھ بیان کرتا ہے: "اور تیرا ربّ ہرگز بھولنے والا نہیں”۔ یہ جملہ زندگی کا یقین ہونا چاہیے۔
اگر آپ مظلوم ہیں… تو یہ آیت آپ کی جائے پناہ ہے۔ یہ آپ کی ٹھنڈی سانس ہے، یہ آپ کی رات کی تسکین ہے، یہ وہ ہاتھ ہے جو ٹوٹے دل کو تھام لیتا ہے۔ کچھ فیصلے زمین پر نہیں ہوتے وہ عرش پر ہو چکے ہوتے ہیں۔
بس ان کے ظہور کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ صبر کریں، صبر کرنا کمزور ہونا نہیں، صبر ایمان کی بلند ترین چوٹی ہے۔ آپ کا ہر آنسو تحفہ ہے، ضائع نہیں۔ اور اگر دل میں ذرہ برابر بھی ظلم موجود ہے… تو ڈریں! کیونکہ یہ آیت آخری وارننگ ہے۔ انسان چھپاتا ہے، قبر چھپا لیتی ہے، تاریخ بدل جاتی ہے، لیکن میزانِ الٰہی سب کچھ کھول دیتا ہے۔ وہ دن آئے گا، جب بویا ہوا بیج سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس لیے… اپنی زندگی کو اس ایک سطر کے یقین سے ناپیں: "تیرے ربّ نے کچھ نہیں بھولا”۔
نہ آنسو، نہ دِل کا بوجھ، نہ ظلم کا نشان، نہ صبر کا درجہ۔ یہی یقین دل کو روشنی دیتا ہے اور روح کو استقامت۔ اے ربّ العالمین! ہمارے دلوں کو ظلم سے پاک کر، ہمیں ظلم کے مقابل اُن لوگوں میں شامل کر، جو تیرے بھروسے پر ڈٹ جاتے ہیں اور جن کی فریادیں آسمان چیر دیتی ہیں۔ (آمین)
Masood M. Khan (Mumbai)
masood.media4040@gmail.com




