مضامین

رمضانِ غزّہ ملبے تلے روشن ایمان اور اجتماعی استقامت

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

تاریخِ انسانی میں کچھ مہینے محض وقت کے پیمانے نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کے باطن کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ رمضان المبارک بھی ایسا ہی مہینہ ہے جو دلوں کی کیفیت، معاشروں کی اخلاقی ساخت اور امتوں کی اجتماعی روح کو نمایاں کر دیتا ہے۔ امن کے ایام میں یہ مہینہ روحانیت کی بہار لے کر آتا ہے، اور آزمائش کے دور میں یہ صبر و استقامت کا چراغ روشن کر دیتا ہے۔

جب دنیا کے کسی خطے میں جنگ کی آگ بھڑک رہی ہو، فضاء بارود سے بوجھل ہو اور زمین ملبے کا منظر پیش کر رہی ہو، تو وہاں رمضان کا ورود ایک غیر معمولی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ محض عبادات کا موسم نہیں رہتا بلکہ یہ اعلان بن جاتا ہے کہ ایمان کا رشتہ زمین و زمان کے حالات سے ماورا ہے۔ اسی تناظر میں غزّہ کی سر زمین پر رمضان کا آغاز ایک ایسی روحانی و اخلاقی داستان رقم کر رہا ہے جس میں درد بھی ہے اور وقار بھی، محرومی بھی ہے اور معنویت بھی، آزمائش بھی ہے اور عزمِ نو بھی۔ یہ تحریر اسی حقیقت کا بیان ہے کہ کس طرح جنگ اور تباہی کے سائے میں بھی رمضان اپنی اصل روح کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے اور کیسے ایک مظلوم مگر باوقار قوم اس مہینے کو عبادت سے بڑھ کر اجتماعی استقامت کی علامت بنا دیتی ہے۔

جنگ اور تباہی کے طویل اور صبر آزما سلسلے کے باوجود غزّہ کی سر زمین ایک بار پھر ماہِ رمضان کے نور سے منور ہوئی ہے۔ بارود کی بو، ملبے کے ڈھیر اور ویران گھروں کے سائے میں بھی جب ہلالِ رمضان طلوع ہوتا ہے تو یہ صرف ایک قمری مہینے کا آغاز نہیں ہوتا بلکہ ایمان کی تجدید، عزم کی بازیافت اور روحانی استقامت کا اعلان ہوتا ہے۔ فلسطین کی یہ زخمی پٹی "غزّہ” جس نے گزشتہ برسوں میں مسلسل محاصرے، بمباری اور انسانی المیوں کا سامنا کیا، آج بھی اپنے وجود کی بقاء سے بڑھ کر اپنے وقار کی حفاظت میں مصروف ہے۔ یہاں رمضان کا استقبال رسمی چراغاں سے نہیں بلکہ دلوں کی روشنی سے کیا جاتا ہے۔ بجلی کی غیر یقینی فراہمی، پانی اور خوراک کی قلت، اور گھروں کی تباہی کے باوجود سحر و افطار کی گھڑیاں ایک اجتماعی روحانی تجربہ بن جاتی ہیں۔

بہت سے خاندان ایسے ہیں جن کے گھر مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔ وہ خیموں، عارضی پناہ گاہوں یا کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ان کے چہروں پر مایوسی کا سایہ مستقل نہیں ٹھہرتا۔ افطار کے وقت جب چند کھجوریں، تھوڑا سا پانی یا سادہ سا کھانا دسترخوان پر آتا ہے تو وہ اسے نعمت سمجھ کر شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ شکرگزاری محض لفظی نہیں بلکہ عملی ہے۔ وہ اپنی تھوڑی سی روزی کو بھی دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ افطار کے مناظر دل کو چھو لینے والے ہوتے ہیں۔ کہیں مساجد کے صحن میں، جو بمباری سے جزوی طور پر متاثر ہو چکی ہیں، لوگ صفیں باندھ کر بیٹھے ہیں۔ کہیں کھلے میدان میں اجتماعی دسترخوان بچھا ہے۔ کوئی اپنے حصّے کی روٹی دو حصّوں میں تقسیم کر رہا ہے، کوئی پانی کی بوتل آگے بڑھا رہا ہے۔ وسائل محدود ہیں، مگر دلوں کی کشادگی بے مثال ہے۔

غزّہ کے باسیوں کے لیے یہ رمضان صرف روزے رکھنے اور عبادات بجا لانے کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ ان کے اجتماعی شعور اور مزاحمتی عزم کی علامت ہے۔ تراویح کی نمازیں اگرچہ بعض مقامات پر کھلے آسمان تلے ادا کی جا رہی ہیں، مگر ان صفوں میں جو خشوع اور یکسوئی دکھائی دیتی ہے وہ کسی پُرسکون شہر کی آرام دہ مسجدوں سے کم نہیں۔ قرآن کی تلاوت یہاں محض روحانی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ امید کی بازیافت کا وسیلہ بھی ہے۔ جب آیاتِ صبر، وعدۂ نصرت اور عدلِ الٰہی کی بشارتیں پڑھی جاتی ہیں تو سامعین کے دلوں میں یہ یقین تازہ ہو جاتا ہے کہ ظلم کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، فجر کا سورج ضرور طلوع ہوتا ہے۔

اس رمضان میں بہت سی نشستیں ایسی ہیں جن میں کوئی کرسی خالی ہے، کوئی چہرہ مفقود ہے۔ شہداء کی یادیں افطار کے دسترخوان پر بھی موجود رہتی ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں کو یاد کرتی ہیں، بچّے اپنے باپ کی کمی محسوس کرتے ہیں، مگر یہ غم انہیں توڑتا نہیں بلکہ ایک خاموش عزم میں ڈھل جاتا ہے۔ غزّہ کی مائیں اپنے بچّوں کو صرف بھوک برداشت کرنا نہیں سکھاتیں بلکہ عزّت کے ساتھ جینا بھی سکھاتی ہیں۔ وہ انہیں بتاتی ہیں کہ رمضان صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کمزوری نہیں بلکہ قوت کا نام ہے۔ یہی تربیت آئندہ نسلوں کے اندر استقامت کی وہ چنگاری روشن رکھتی ہے جو کسی بھی جبر کے سامنے بجھ نہیں سکتی۔

رمضان کی راتوں میں جب اجتماعی دعاؤں کا اہتمام ہوتا ہے تو فضاء ایک خاص کیفیت سے بھر جاتی ہے۔ کھلے میدانوں میں، ٹوٹے ہوئے گھروں کے قریب یا عارضی پناہ گاہوں میں لوگ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں۔ ان دعاؤں میں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری اُمت اور انسانیت کے لیے خیر و سلامتی کی التجا شامل ہوتی ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ غزّہ کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں غزّہ کے باسی اپنی ثابت قدمی سے ایک اخلاقی مثال قائم کر رہے ہیں۔
اگر ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے تو غزّہ کے پاس کھونے کو بہت کچھ ہے اور پانے کو کم۔ مگر باطنی نگاہ سے دیکھا جائے تو یہاں ایک ایسی قوت موجود ہے جسے بموں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا! ایمان، امید اور اجتماعی یکجہتی کی قوت۔ یہ رمضان اس بات کا اعلان ہے کہ ملبہ مکانوں کو ڈھا سکتا ہے، مگر عزم کو نہیں؛ دیواریں گر سکتی ہیں، مگر وقار نہیں؛ وسائل ختم ہو سکتے ہیں، مگر روحانی سرمایہ باقی رہتا ہے۔ غزّہ کے باسیوں نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ ماہِ صیام صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے وجود کی معنویت کو دریافت کرنے، باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے اور ظلم کے مقابلے میں اخلاقی برتری قائم رکھنے کا نام ہے۔ یوں تباہی کے ملبے اور یادوں کے سائے میں بھی رمضان کا آغاز امید کی ایک نئی صبح کے ساتھ ہوتا ہے۔ ایسی صبح جو یہ یقین دلاتی ہے کہ آزمائشیں جتنی بھی سخت ہوں، ایمان کی روشنی انہیں چیر کر اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
غزّہ کی سرزمین پر طلوع ہونے والا یہ رمضان محض ایک خطے کی داستان نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک پکار ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کا چراغ اگر دلوں میں روشن ہو تو اندھیری راتیں بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔ ملبے کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی دیواریں اور ویران گلیاں اس حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتیں کہ روح کی قوت مادّی طاقت سے کہیں زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ یہ منظر ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے: کیا ہم نے رمضان کو صرف رسم و رواج تک محدود کر دیا ہے، یا ہم اس کے پیغامِ صبر، ایثار اور اجتماعی ذمّہ داری کو اپنی زندگیوں میں جگہ دے رہے ہیں؟ غزّہ کے باسیوں نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ رمضان محض عبادت کا موسم نہیں بلکہ کردار سازی کا عہد ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کم وسائل میں بھی سخاوت ممکن ہے، شدید آزمائش میں بھی وقار باقی رکھا جا سکتا ہے، اور اجتماعی دکھ کو اجتماعی قوت میں بدلا جا سکتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کے اس پیغام کو اپنے معاشروں میں زندہ کریں۔ ہم اپنے دلوں میں ہمدردی کی وہ کیفیت پیدا کریں جو ہمیں دوسروں کے درد کا احساس دلائے۔ ہم اپنے گھروں، مساجد اور معاشرتی اداروں کو ایسے مراکز بنائیں جہاں اخوت، عدل اور خیر خواہی کی روح پروان چڑھے۔ اگر غزّہ کے ملبے تلے ایمان کی روشنی باقی رہ سکتی ہے تو ہمارے پُرامن شہروں میں وہ کیوں مدھم ہو؟ اگر وہاں کے بچّے محرومی کے باوجود امید کا دامن تھامے رکھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہ اپنے وسائل اور مواقع کو امت کی بھلائی کے لیے استعمال کریں؟
رمضان ہمیں یہ یقین عطاء کرتا ہے کہ تاریخ کا دھارا ہمیشہ طاقت کے زور سے نہیں بدلتا، بلکہ اخلاقی استقامت سے بدلتا ہے۔ آج کا یہ مہینہ ہمیں دعوت دے رہا ہے کہ ہم اپنے اندر وہی صبر، وہی عزم اور وہی اجتماعی شعور پیدا کریں جو آزمائشوں کو بھی عبادت میں ڈھال دیتا ہے۔ یوں غزّہ کا رمضان ایک علامت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ علامت اس بات کی کہ ایمان اگر زندہ ہو تو تباہی بھی تعمیر کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ آئیں، اس رمضان کو صرف گزاریں نہیں بلکہ اسے اپنی زندگیوں کا رخ متعین کرنے دیں؛ اسے اپنے کردار، اپنے معاشرے اور اپنی اجتماعی ذمّہ داری کی بنیاد بنائیں۔ کیونکہ جب دلوں میں ایمان کی روشنی جاگتی ہے تو ملبہ راستہ نہیں روکتا وہی ملبہ تاریخ کی نئی تعمیر کی بنیاد بن جاتا ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!