رمضان المبارک کے روزے اور خصوصی نسوانی مسائل۔۔۔
شیخ سلمیٰ عبد الشکور ،معاون معلمہ ، رقیہ بیگم اُردو جونیئر کالج لاتور ،

روزہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندے کی روحانی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔قرآن میں اللہ فرماتا ہے:”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔” (سورہ البقرہ، 183)روزہ نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی تربیت، صبر، قناعت اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔رمضان کے روزے کی خصوصی برکتیں، معافی اور نیکی میں اضافہ کے لیے مشہور ہیں۔
روزہ سے ہمیں اطاعت الٰہی، تزکیۂ نفس، اخوت اور ہمدردی کا سبق ملتا ہے۔ مثلًا روزہ دار اللہ تعالیٰ کے حکم سے حالتِ روزہ میں ایک خاص وقت پر کھانے پینے اور جائز خواہشات سے رک جاتا ہے۔ اپنی ایسی بنیادی ضروریات کو اطاعت الٰہی کی خاطر اپنے اوپر حرام کر لیتا ہے جن کو پورا کرنا دوسرے اوقات میں نہ صرف جائز بلکہ فرض ہوتا ہے۔ روزہ ہمارے اندر یہ بات راسخ کر دیتا ہے کہ اصل چیز اطاعتِ الٰہی ہے اور صرف حکم الٰہی ہی کسی چیز کے درست اور غلط ہونے کے لئے آخری سند ہے۔
*حالات روزہ میں انسولین کا انجکشن لگانا جائز ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ عمومی طور پر انجیکشن کی سوئی جوف یا دماغ تک نہیں پہنچائی جاتی اور جوف تک جانے کا کوئی عارضی راستہ بھی نہیں بنتا کہ جس کے ذریعے دوائی جوف تک پہنچ سکے لہذا یہ انجیکشن روزہ ٹوٹنے کا سبب نہیں مسامات کے ذریعے کسی چیز پر تیل لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا کہ تیل اگرچہ جسم کے اندر جاتا ہے لیکن مسامات کے ذریعے اور یہ روزے کے خلاف نہیں۔
فتوی فض الرسول میں ہے :تحصیل یہ ہے کہ انجکشن سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے رگ میں لگایا جائے چاہے گوشت میں
(فتویٰ فیض الرسول :کتاب الصوم ؛جلد ۱صفحہ ۵۱۴)
*رمضان میں ہی دہم اور دو ازدہم کے امتحانات آرہے ہیں امتحانات کا بہانہ کر کے طلبہ اور ان کے والدین روزہ چھڑوا دیتے ہیں ایسا بالکل نہ کریں۔ ہر عاقل وہ بالغ مسلمان پر رمضان کا روزہ فرض ہے بلا عذر شرعی اس کا چھوڑنا گناہ ہے اور سالانہ امتحانات یا گرمی شرعاً فرض روزہ چھوڑنے کا قابل قبول عذر نہیں ہے لہذا بالغ طلبہ کو بیان کردہ عذر کی بنا پر فرض روزہ چھوڑنے پر گنہگار ہوں گے ہی ان کے والدین بھی اگر بلا عذر شرعی روزہ چھڑوائیں گے یا چھوڑنے پر باوجود قدرت پوچھ کچھ نہ کریں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے۔
*کوئلہ چبا کر دانت مانجھنا اور منجن سے دانت مانجھنا مکروہ ہے اور اگر اس میں سے کچھ حلق کے اندر اتر جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور مسواک سے دانت صاف کرنا درست ہے چاہے مسواک کا کڑوا پن منہ میں ظاہر ہوتا ہو تو بھی روزہ مکروہ نہیں۔
*روزے دار کے حلق میں کھانا بناتے ہوئے بلا اختیار تڑکے کا دھواں چلا جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا؛ کیوں کہ اس شخص کے لیے اس سے بچنا ناممکن ہے؛ اس لیے کہ اگر منہ بند کر لے، تب بھی ناک کے ذریعہ سے دھواں چلا جائے گا۔
* جو مرد یا عورت روزہ رکھنے پر قادر ہو اس کا کفارہ روزہ رکھنے سے ہی ادا ہوگا، البتہ جو مرد یا عورت کسی مستقل یا دائمی بیماری یا شدید ضعف کی وجہ سے روزے رکھنے پر قادر نہ ہو تو پھر اس کا کفارہ ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانے سے بھی ادا ہوجائے گا، لیکن بلا عذر صرف ہمت نہ کرنے کی وجہ سے ساٹھ مسلسل روزے رکھنے کے بجائے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم
*صورتِ مسئولہ میں روزے دار کے ناک یا حلق میں کسی بھی قسم کا دھواں جس سے بچنا ممکن نہ ہو چلا جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، تاہم قصداً دھواں اندر لے جانے سے روزہ فاسد ہوجائے گا اور قضا لازم ہوگی۔
*حالت حیض و نفاس میں خاتون کو نماز و روزہ ادا کرنے کی شرعاً اجازت نہیں ہے لہذا اس حالت میں نماز روزہ یا تلاوت کلامِ الہی ممنوع ہے تاہم پاک ہو جانے کے بعد روزوں کی قضا لازم ہوگی نماز کی قضا لازم نہ ہوگی ۔
*دورانِ روزہ عورت کو اگر حیض یا نفاس آ جائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور عورت پر اس روزے کی قضا لازم ہوگی۔
*اگر عورت کا حیض صبح فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے ختم ہو گیا لیکن اس نے ابھی غسل نہیں کیا اور روزہ رکھ لیا اور پھر روزہ رکھنے کے بعد اس نے غسل کیا تو روزہ درست ہو جائے گا لہذا روزہ رکھنے کے بعد غسل کر سکتے ہیں البتہ روزے کی حالت میں غسل کرتے وقت غرارہ نہ کرے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرے بہتر یہ ہے کہ صبح صادق سے پہلے غسل نہیں کرنا تو کم از کم ناک میں پانی چڑھانے اور کلی کرنے والے فرائض سحری کے وقت میں ہی ادا کرے پورے جسم پر پانی پہنچانے والا فرض چاہے تو صبح صادق کے بعد ادا کرے بحر حال اس پر لازم ہوگا کہ غسل کر کے فجر کے وقت میں نماز فجر ادا کرے کیونکہ اگر غسل فرض ہو تو اس میں اتنی تاخیر کرنا نماز ہی قضا ہو جائے یہ ناجائز وہ حرام ہے۔
*کوئی عورت غافل سو رہی تھی یا بے ہوش پڑی تھی اس سے کسی نے صحبت کی تو روزہ ٹوٹ جائے گا قضاء واجب ہوگی۔
*اگر کسی عورت کو قئے ہو گئی اور وہ عورت نے قئے ہونے کے بعد کچھ کھاتی پیتی رہی تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اس پر قضاء لازم ہوگی
*کوئی عورت نیند میں ایسا خواب دیکھتی ہے کہ اسے غسل کی ضرورت پڑتی ہے تو اس عورت کا روزہ نہیں ٹوٹتا۔
*روزے کی حالت میں مرد عورت ایک ساتھ لیٹ سکتے ہیں، ہاتھ لگانا پیار کرنا یہ سب درست ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا لیکن ان چیزوں کو کرنے سے اگر جوش میں آ کر صحبت کر لی تو روزہ ٹوٹ جائے گا اس پر قضاء لازم ہوگی ۔
*روزے کی حالت میں عورت اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ دودھ پلانے کی صورت میں کوئی چیز انسانی جسم میں داخل نہیں ہو رہی لہذا روزے کی حالت میں عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے البتہ اگر کسی بچے کو دودھ پلانا کسی عورت کی ذمہ داری ہو اور روزہ رکھنے کی صورت میں بچے کو نقصان کے لاحق ہونے کا غالب گمان ہو اور بچے کے لیے کوئی متبادل انتظام بھی موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت کے لیے روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہو رہی ہے اور بعد میں قضاء لازم ہوگی ۔
*رمضان میں فرض روزے کے دوران ہم بستری کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے جب کہ اس روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کرلی ہو۔ اور اس روزے کی قضا بھی لازم ہوتی ہے اور کفارہ کے طور پر ساٹھ روزے مسلسل رکھنے بھی لازم ہوتے ہیں۔ البتہ عورت اگر ساٹھ روزے رکھتے ہوئے درمیان میں کچھ دن حیض آنے کی وجہ سے روزے نہ رکھ پائے تو اس سے تسلسل نہیں ٹوٹے گا، یعنی ساٹھ روزے رکھنے کے دوران جس دن حیض آجائے اس دن سے روزہ رکھنا چھوڑ دے اور جس دن حیض آنا بند ہوجائے اس کے اگلے دن سے دوبارہ روزے رکھنا شروع کردے، حیض کے علاوہ کسی اور وجہ سے وقفہ کیے بغیر اگر عورت ساٹھ روزے رکھ لے تو اس کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔ چوں کہ عورت کو حیض آنا طبعی اور شرعی عذر ہے، اور یہ ہر ماہ اسے لاحق ہوتاہے، اس لیے شریعت نے اس کی وجہ سے دو ماہ کے روزوں میں آنے والے وقفے کو معاف قرار دیا ہے، اس کے علاوہ کسی اور بیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے اور ایک دن بھی وقفہ ہوجائے تو از سرِ نو دو ماہ کفارے کے روزے رکھنے ہوں گے۔
اگر روزہ کو تمام احکام و آداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پورا کيا جائے تو بلاشبہ گناہوں سے محفوظ رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ البتہ اگر کسی نے روزہ کے لوازم کا خيال نہ کيا اور گناہوں ميں مشغول رہتے ہوئے روزہ کی نيت کی، کھانے پینے ، خواہش نفسانی سے باز رہا ليکن حرام کمانے اور غيبت کرنے سے باز نہ يا تو اس سے فرض تو ادا ہو ہوجائے گا، مگر روزہ کے برکات و ثمرات سے محرومی رہے گی۔
حضرت ابو عبيدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے مروي ہے کہ حضور نبي اکرم ﷺ نے فرمايا: ا لصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْةِ.(نسائي، السنن 1: 167، رقم: 2233)یعنی’’روزہ ڈھال ہے جب تک اس کو پھاڑ نہ ڈالے۔‘‘اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِه، فَلَيْسَ لِلّٰهِ حَاجَةٌ فِی اَنْ يَدَعَ طَعَامَه، وَ شَرَابَه..(بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور و العمل به فی الصوم، 2: 673، الرقم: 1804)
’’جو شخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ (گناہوں کو چھوڑے بغیر) محض کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘معلوم ہوا کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑنے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتابلکہ روزہ کی حالت میں فواحش، منکرات اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے لہٰذا مندرجہ بالا احادیث سے ثابت ہوا کہ1۔ روزہ دار جھوٹ، غیبت، چغلی اور بدکلامی سے پرہیز کرے۔2۔ آنکھ کو مذموم و مکروہ اور ہر اس چیز سے بچائے جو یادِ الٰہی سے غافل کرتی ہو۔




