اسلامی

رمضان نیکیوں کا موسمِ بہار

از قلم:- صباء فردوس بنتِ ناظر چاؤس ( صدرِ جی آئی او ہنگولی)

منور نور ایماں سے یہ کر دیتا ہے سینوں کو
خدائے پاک و برتر کی عبادت کا مہینہ ہے
عبادت میں کرو کثرت ثوابوں میں بھی کثرت ہے
کرو یاد خدا ہر دم ریاضت کا مہینہ ہے

ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے۔ فضا میں ایک روح پرور سرگوشی سی گونجنے لگی ہے، دلوں کے دریچوں پر نور کی دستک سنائی دے رہی ہے، اور اہلِ ایمان کی نگاہیں افقِ اُمید پر مرکوز ہیں۔ ربِ کریم کے بے پایاں فضل و کرم سے ہمیں ایک بار پھر اس بابرکت مہینے کا استقبال نصیب ہو رہا ہے انشاءاللہ۔۔۔وہ مہینہ جو عارضی اور ناپائیدار زندگی کے اس مختصر سفر میں ہمارے لیے اصلاحِ باطن، تجدیدِ ایمان اور حصولِ مغفرت کا سنہرا موقع لے کر آتا ہے۔رمضان المبارک اسلامی سال کا ایک عظیم اور جلیل القدر مہینہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے شہر عظیم اور شہر مبارک کہا ہے۔ یعنی بڑی عظمت والا مہینہ اور بڑی برکت والا مہینہ! نہ ہم اس ماہ کی عظمت کی بلندیوں کا تصور کر سکتے ہیں، نہ ہماری زبان اس کی ساری برکتیں بیان کر سکتی ہے.رمضان المبارک یہ ایام معدودات ہے نیکیوں کا موسمِ بہار ہے۔

جس طرح بہار کی آمد سے سوکھی شاخوں پر نئی کونپلیں پھوٹتی ہیں، ویسے ہی رمضان کی ساعتیں مردہ دلوں کو حیاتِ نو عطا کرتی ہیں۔ اس مہینے میں عبادت کا ذوق بڑھ جاتا ہے، سجدوں کی لذت دوچند ہو جاتی ہے، اور آنکھوں سے بہنے والے آنسو توبہ کے موتی بن کر انسان کے مقدر کو روشن کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس ماہِ مقدس میں نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیتا ہے، اور بندۂ مومن اپنے رب کی رضا کے حصول کے لیے پہلے سے زیادہ مستعد اور آمادہ ہو جاتا ہے۔رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی اُن بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جو اس نے اُمتِ مسلمہ پر خصوصی فضل کے طور پر عطا فرمائی۔ یہ مہینہ محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ تاریخِ اسلام کی درخشاں ساعتوں، آسمانی ہدایت اور روحانی انقلاب کا عنوان ہے۔ اسی ماہِ مقدس میں قرآنِ مجید نازل ہوا۔ شَهۡرُ رَمَضَانَ الَّذِىۡٓ اُنۡزِلَ فِيۡهِ الۡقُرۡاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الۡهُدٰى وَالۡفُرۡقَانِۚ رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔

( سورۃ البقرة آیت نمبر 185)..یہ وہ کتاب جو ہدایت بھی ہے، فرقان بھی..رحمت بھی ہے، نور بھی اور دلوں کے امراض کے لیے شفا بھی۔جب یہ کتاب نازل ہوئی تو اس نے جہالت کی تاریکیوں کو چاک کر دیا، انسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی اور حق و باطل کے درمیان واضح خطِ امتیاز کھینچ دیا۔ یہی وہ ماہ ہےجس میں بدر کا وہ تاریخی دن یومُ الفرقان نصیب ہوا، جب قلیل اہلِ ایمان نے کثیر باطل قوتوں پر غلبہ پایا۔ وہ دن اس بات کا اعلان تھا کہ کامیابی عددی اکثریت سے نہیں، بلکہ ایمان، یقین اور اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔ جنہیں ہلاک ہونا تھا وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہوئے، اور جنہیں زندہ رہنا تھا وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے۔

اسی ماہِ مبارک میں یومُ الفتح بھی طلوع ہوا—فتحِ مکہ کا وہ درخشاں باب، جس میں بغیر خونریزی کے اس شہر کی کنجیاں اہلِ ایمان کے سپرد کر دی گئیں جو امّ القریٰ ہے، مرکزِ انسانیت ہے، بیت اللہ کا امین ہے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بندگی و وفاداری کی لازوال روایتوں کا امین ہے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں سے محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت اٹھی اور جہاں سے توحید کا پیغام پوری دنیا میں پھیلا۔یوں رمضان صرف روحانی ریاضت کا مہینہ نہیں، بلکہ عزم، استقلال اور نصرتِ الٰہی کی تاریخ بھی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اُمت کی سربلندی کا راز محض جذبات میں نہیں، بلکہ جدوجہد میں پوشیدہ ہے—ایسی جدوجہد جو سب سے پہلے دلوں کو فتح کرے، پھر تہذیب و فکر کے میدان میں غلبہ حاصل کرے، اور اس کے ساتھ ساتھ نفس کی اصلاح کا محاذ بھی گرم رکھے۔جہاد کا سب سے پہلا مرحلہ اپنے نفس

کے خلاف جدوجہد ہے۔ خواہشات کو قابو میں لانا، انا کو مغلوب کرنا، اور اپنے باطن کو تقویٰ سے آراستہ کرنا—یہی وہ بنیاد ہے جس پر اجتماعی عظمت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ رمضان ہمیں انفرادی تقویٰ بھی عطا کرتا ہے اور اجتماعی تقویٰ کا شعور بھی۔ خلوتوں میں نالۂ نیم شبی، آہِ سحرگاہی اور اشکوں سے وضو—اور جلوتوں میں صداقت، دیانت، امانت، عدالت، شجاعت، اخوت اور حقوقِ انسانی کا احترام—یہی وہ جامع طرزِ زندگی ہے جس کی تربیت رمضان کرتا ہے۔اگر خلوتیں عبادت سے روشن ہوں مگر جلوتیں ظلم و ناانصافی سے آلودہ ہوں تو یہ رمضان کی روح سے نا آشنائی ہے۔ اسی طرح اگر زبان پر تلاوت ہو مگر کردار میں قرآن نہ ہو تو یہ روحِ رمضان سے دوری ہے۔ رمضان دراصل علم و عمل کا سنگم ہے۔ یہ ہمیں صرف پڑھنے کا نہیں، بلکہ جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ قرآن کو صرف ہونٹوں تک محدود نہ رکھو، بلکہ اسے اپنی معیشت، سیاست، معاشرت اور اخلاق کا محور بنا لو۔رمضان علم و عمل کا وہ بابرکت راستہ ہے جس کے ذریعے فرد بھی سنور سکتا ہے اور قوم بھی۔

یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی خلوتوں کو بھی سنواریں اور جلوتوں کو بھی، اپنے دلوں کو بھی پاک کریں اور اپنے معاشرے کو بھی۔ اگر ہم نے اس مہینے کی روح کو سمجھ لیا تو یہی رمضان ہمارے لیے ایک نئے عہد کا آغاز بن سکتا ہے۔اگر اس ماہ مبارک کو اصول دین کے مطابق کامل شعور، جذبہ اخلاص اور حبیب خدا کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنے کی کوشش کی جائے تو یقینا آدمی کی زندگی میں یہ ایک مہینہ انقلاب لانے کے لیے کافی ہے۔ رمضان المبارک کے حسنات و برکات کا انسانی زندگی پر جو اثر مرتب ہوتا ہے، وہ من جانب اللہ ہے، کیوں کہ پورے مہینہ کی عبادت کا نام ہی رمضان ہے۔اس ماہ کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمال صالحہ، فرض اعمال صالحہ کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں اور فرائض ستر گنا زیادہ وزنی اور بلند ہو جاتے ہیں ۔ ( بیتی سلمان الفاری) رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور رحمتوں کی بارش تو ہوتی ہے، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور نیکی کے راستوں پر چلنے کی سہولت اور توفیق عام ہو جاتی ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور روزہ بدی کے راستوں کی رکاوٹ بن جاتا ہے ، شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور برائی پھیلانے کے مواقع کم سے کم ہو جاتے ہیں۔

(بخاری مسلم : ابوہریرہ) ۔ پس بشارت دی ہے نبی کریم نے اس شخص کو جو رمضان المبارک میں روزے رکھے کہ اس کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور اس شخص کو جو راتوں میں نماز کے لیے کھڑا ر ہے کہ اس کے بھی گناہ بخش دیے جائیں گے اور وہ، جو شب قدر میں قیام کرے، اس کے بھی۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی باتوں اور وعدوں کو سچا جانے ، اپنے عبید بندگی کو وفاداری بہ شرط استواری کے ساتھ نیا ہے، اور خود آگہی و خود احتسابی سے غافل نہ ہو۔ (بخاری مسلم : ابو ہریرہ)۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔(سورۃ البقرة آیت نمبر 183)گویا رمضان کا مقصد محض بھوک و پیاس نہیں بلکہ تقویٰ کا حصول ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس مقصد کو کیسے حاصل کریں؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟سب سے پہلے نیت اور ارادہ کو درست کرنا لازم ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے” (صحیح بخاری)۔رمضان المبارک کے استقبال کے لیے سب سے پہلا کام آپ کو یہی کرنا چاہیے کہ کے مقام اس کے پایا اس سے لیا اور ای کامات اور بار کیا آپ رمضان کے مقام، اس کے پیغام، اس کے مقصد اور اس کی عظمت و برکت کے احساس کو تازہ کریں۔ اس بات کی نیت کریں کہ اس مہینے میں آپ جن معمولات اور عبادات کا اہتمام کریں گے ان سے آپ اپنے اندر وہ تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کریں گے، جو روزہ کا حاصل ہے اور آپ کواللہ تعالیٰ کے دین کے تقاضوں اور قرآن مجید کے مشن کو پورا کرنے کے قابل بنا سکے۔

اس کے بعد قرآن مجید سے مضبوط تعلق قائم کیا جائےتیسری چیز اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی خصوصی کوشش ہے۔ روزہ کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے اور رمضان المبارک کا مہینہ تقویٰ کی افزائش کا موسم بہار ہے۔ اس لیےاللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی خصوصی کوشش کرنا ضروری۔رمضان نیکی کی جستجو کا موسم ہے۔ ہر خیر کے کام میں سبقت لے جاناصلہ رحمی کرنا اور حسنِ اخلاق اپنانا اسی جستجو کا حصہ ہے۔ ہر لحہ، ہر قسم کی نیکی کی طلب اور جستجو تو مومن کی فطرت کا جز ہونا چاہیے، لیکن رمضان کے مہینے میں اس معاملے میں بھی خصوصی توجہ اور کوشش ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ وہ مہینہ ہے، جس میں آپ جس نیکی سے بھی خدا کا قرب تلاش کریں، اس کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔بیہقی : سلمان الفارسی) اس سے بڑی خوش خبری اور کیا ہوسکتی ہے؟ اسی طرح قیام اللیل (تراویح و تہجد) کا اہتمام کیا جائے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: “جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان میں قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں” (صحیح مسلم)رات کا قیام اور تلاوت قرآن، اپنا احتساب اور استغفار، تقویٰ کے حصول کے لیے بہت ضروری اور

انتہائی کارگر نسخہ ہے۔ یہ متقین کی صفت اور علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: متقین وہ ہیں، جو رات کو کم سوتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار رتے ہیں اور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں .(الذاریت : ۱۸)ذکر و دعا کو معمول بنایا جائے، کیونکہ روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ رمضان میں دل کی گہرائی سے مانگی گئی ایک سچی دعا تقدیر بدل سکتی ہے۔ خصوصاً آخری عشرے میں شبِ قدر کی تلاش کی جائے، جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے: “لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ” (القدر: 3) — شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اسی عشرے میں اعتکاف سنتِ نبوی ﷺ ہے، جس کے ذریعے بندہ دنیا سے کٹ کر مکمل طور پر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔رمضان انفاق اور سخاوت کا مہینہ بھی ہے۔ آپ ﷺ رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے (صحیح بخاری)۔ لہٰذا انفاق فی سبیل اللہ، زکوٰۃ و صدقات کی ادائیگی اور ضرورت مندوں کی مدد کو اپنی ترجیح بنائیں۔ کسی روزہ دار کو افطار کرانا بھی عظیم اجر کا باعث ہے۔

اسی طرح انسانوں کی خدمت اور مدد کو عبادت سمجھیں، کیونکہ مخلوق کی خدمت خالق کی رضا کا ذریعہ ہے۔آخر میں، رمضان ہمیں صرف اپنی ذات کی اصلاح نہیں سکھاتا بلکہ دوسروں تک خیر پہنچانے کی ذمہ داری بھی دیتا ہے۔ دعوت الی القرآن ہمارا فریضہ ہے—لوگوں کو قرآن کی طرف بلانا، اس کا پیغام عام کرنا، اور اپنے عمل سے اس کی تصویر بن جانا ہی اصل دعوت ہے۔پس رمضان کا حقیقی استقبال یہی ہے کہ ہم نیت کو خالص کریں، قرآن سے جڑ جائیں، گناہوں سے بچیں، نیکیوں میں سبقت کریں، قیام و دعا سے دل کو روشن کریں، شب قدر کو پائیں، انفاق کریں، انسانیت کی خدمت کریں اور قرآن کی دعوت کو عام کریں۔ اگر ہم نے یہ لائحۂ عمل اپنا لیا تو یہی رمضان ہماری زندگی کا نقطۂ انقلاب بن سکتا ہے اور ہماری دنیا و آخرت سنوار سکتا ہے۔رمضان المبارک کے ان خزانوں میں سے آپ کو کیا کچھ ملے گا؟ زمین کی طرح آپ کے دل نرم اور آنکھیں نم ہوں گی، آپ ایمان کا بیچ اپنے اندر ڈالیں گے اور اپنی صلاحیت واستعداد کی حفاظت کریں گے، تو بیچ پودا بنے گا اور پودا درخت، درخت اعمال صالحہ کے پھل پھول اور پتیوں سے لہلہا اٹھیں گے اور آپ ابدی بادشاہت کی فصل کاٹیں گے۔

کسان کی طرح آپ محنت اور عمل کریں گے تو جنت کے انعامات کی فصل تیار ہو گی اور جتنی محنت کریں گے اتنی ہی اچھی فصل ہوگی۔ دل پتھر کی طرح سخت ہوں گے اور آپ غافل کسان کی طرح سوتے پڑے رہ جائیں گے، تو روزوں ، تراویح اور رحمت و برکت کا سارا پانی بہہ جائے گا اور آپ کے ہاتھ کُچھ بھی نہ آئے گا۔ت ایسانہ کیے کہ رمضان کا پورا مہینہ گزر جائے ،رحمتوں اور برکتوں کے ڈول کے ڈول انڈ لے جاتے رہیں اور آپ اتنے بد نصیب ہوں کہ آپ کی جھولی خالی رہ جائے۔ کچھ کرنے طرح یا درکھیے: کے لیے اور اپنے ھے کی رحمتیں لوٹنے ے لیے کمر کس لیے اورنبی کریم ہی کی اس تنبیہ کو اچھی طرح یاد رکھیے "کتنے روزہ دار ہیں، جن کو اپنے روزوں سے بھوک پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ اور کتنے راتوں کو نماز پڑھنے والے ہیں، جن کو اپنی نمازوں سے رات کی جگائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔” (ابوہریرہ)سارا انحصار آپ پر ہے! نبی کریم ﷺ رمضان سے پہلے اپنے رفقا کو مخاطب کر کے اس مہینے کی عظمت و برکت بھی بیان کرتے اور اس کی برکتوں کے خزانوں سے اپنا بھر پور حصہ لینے کے لیے پوری محنت اور کوشش کی تاکید بھی فرماتے ۔ آج سنت نبوی کی پیروی میں میرا مقصد بھی یہی تھا۔۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم مہینے کی قدر پہچاننے، قرآن سے سچا تعلق قائم کرنے اور تقویٰ کی اس روشنی کو اپنی زندگی کا مستقل سرمایہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔۔آمین ۔

todayonelive@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!