رَمَضان، خواتین اور روحانی انصاف عبادت، قربانی اور مشترکہ تزکیۂ نفس


۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
رَمَضانُ المبارک جب اپنی رحمت، برکت اور مغفرت کی روشنی کے ساتھ نمودار ہوتا ہے تو یہ مہینہ صرف عبادت اور روزے کا نام نہیں، بلکہ ضبطِ نفس، روحانی بلندی اور اخلاقی تزکیہ کا مہینہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ہر روز اور ہر لمحہ انسان کو اپنے اعمال، اپنے دل اور اپنے ربّ کے ساتھ مکالمے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ مگر اسی مقدّس مہینے میں ایک حقیقت بھی خاموشی کے پردے میں ہمارے معاشرتی رویّوں کو بے نقاب کرتی ہے، جس پر اکثر کم توجہ دی جاتی ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کا کردار، ان کی مشقت اور ان کی عبادت کس طرح رمضان کے تناظر میں نظر انداز ہو جاتی ہے۔ رمضان عورت کے لیے صرف روزہ رکھنے یا عبادات کے فرائض کی تکمیل کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت امتحان کا نام ہے۔ یہاں عبادت، روحانی ذمّہ داری اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ گھریلو انتظامات، سماجی تعلقات اور جذباتی بوجھ بھی اس کے حصّے میں آتا ہے۔ عورت روزانہ کئی محاذوں پر اپنی توانائی تقسیم کرتی ہے: ایک طرف دن بھر کی بھوک و پیاس کے باوجود صبر و ضبط کے ساتھ روزہ قائم رکھتی ہے، دوسری طرف گھر کے افراد کی سہولت، سحر و افطار کی تیاری، دسترخوان کی رنگا رنگی، اور ہر فرد کی خواہشات کی تکمیل اس کے ذمّہ ہوتی ہے۔
عبادت کے باب میں خواتین کی شرکت اکثر خاموش رہ جاتی ہے، اور ان کی قربانی معاشرتی نظر سے اوجھل رہ جاتی ہے۔ سحر کے وقت جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، عورت اپنی نیند کی قیمتی ساعتیں قربان کر کے گھر کے افراد کے لیے خوراک تیار کرتی ہے، اور اپنی عبادت کو پیچھے ڈال دیتی ہے۔ افطار کے لمحے، جو شکر، سکوت اور روحانی سکون کا وقت ہوتے ہیں، اکثر اس کے ہاتھ برتنوں میں اور نگاہ گھڑی میں الجھی ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کو افطار کراتی ہے، مگر خود کبھی آخری لمحے میں ایک لقمہ لیتی ہے، اور عین اس وقت جب دعا کی قبولیت کا لمحہ ہوتا ہے، اس کے دل کی تڑپ اور ربّ کے ساتھ اس کی گہری مکالمہ نگاہوں سے چھپ جاتا ہے۔
یہ عبادت خاموش، پوشیدہ اور نظر انداز ہوتی ہے، مگر اس کی تاثیر نہایت گہری اور مضبوط ہوتی ہے۔ یہ عبادت انسانی صبر، خلوص، اور قربانی کا وہ عملی مظہر ہے جو صرف تجربے اور مشاہدے سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس تاثیر کے حقیقی ادراک کے لیے ضروری ہے کہ سماج اس خاموش عبادت کی قدر کرنا سیکھے۔ عورت کی یہ عبادت نہ صرف رمضان کی روح کی تجسم ہے بلکہ خاندان اور معاشرت کی اخلاقی بنیاد بھی مضبوط کرتی ہے۔ اس پس منظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ رمضان کی معنویت صرف فرد کی عبادت تک محدود نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور اخلاقی ذمّہ داری بھی ہے۔ جب سماج عورت کے اس کردار کو تسلیم کرے، اس کی عبادت کو معزز سمجھے اور اس کی مشقت کو بانٹے، تب ہی رمضان کا حقیقی روحانی پیغام ہر گھر اور ہر دل تک پہنچ سکتا ہے۔ ورنہ یہ مہینہ محض روزے اور عبادت کی جسمانی مشقت تک محدود رہ جاتا ہے، اور خواتین کی خاموش قربانی اس عظیم مہینے کی اصل روح میں گم ہو جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات نے عبادت کو کبھی مشقت اور بوجھ نہیں بنایا، بلکہ اس کی بنیاد سہولت، اعتدال اور آسانی پر رکھی ہے۔ ہر عبادت کا مقصد انسان کو روحانی تربیت، تزکیہ نفس اور قربِ الٰہی کی طرف رہنمائی فراہم کرنا ہے، نہ کہ جسم یا ذہن پر غیر ضروری بوجھ ڈالنا۔ مگر افسوس کہ معاشرتی رویّے اکثر عورت کے لیے رمضان کو آسان مہینے کے بجائے آزمائش کی صورت میں پیش کر دیتے ہیں۔ یہ وہی وہ سوچ ہے جس کے مطابق عورت کا اصل کردار محض باورچی خانے تک محدود ہے، اور یہ تصور رمضان میں اور بھی شدت اختیار کر لیتا ہے۔ افطار کے دسترخوان کی رنگا رنگی، کھانوں کی فراوانی، مہمان نوازی اور ہر شخص کی خواہشات پوری کرنے کا بوجھ زیادہ تر عورت کے ذمّہ آ جاتا ہے، جب کہ اس کی جسمانی تھکن، نیند کی کمی اور روحانی ضرورت کو معاشرہ کم ہی محسوس کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں رمضان عورت کے لیے عبادت اور خدمت کے درمیان ایک باریک سا توازن طلب کرنے والا مہینہ بن جاتا ہے، جس میں اکثر وہ اپنی روحانی تربیت کو پیچھے رکھ کر دوسروں کی سہولت اور خوشی کے لیے کام کرتی ہے۔
عورت کا رمضان ایک خاموش داستان ہے، جس میں صبر کی عظمت، قربانی کی شدت اور گمنامی کی عظمت سب شامل ہیں۔ وہ دن بھر بھوکی رہ کر دوسروں کی بھوک مٹاتی ہے، دن کے مشقت بھرے لمحوں کے بعد افطار کا اہتمام کرتی ہے، رات کی تھکن کے باوجود سحر کے لیے جاگتی ہے، اور اپنی ذاتی خواہشات، آرام اور راحت کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی، مگر اس کا اثر گھر کے ماحول اور روحانی فضاء پر گہرا اور دیرپا ہوتا ہے۔ مگر اس کے باوجود معاشرتی نظر اکثر اسے محض ایک منتظم، خدمت گار یا سہولت کار کے طور پر دیکھتی ہے، ایک عبادت گزار انسان کے طور پر نہیں۔ یہ رویّہ نہ صرف عورت کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ رمضان کے روحانی مقصد کے بھی منافی ہے۔ رمضان کا بنیادی مقصد تزکیہ نفس، قربِ الٰہی اور روحانی بیداری ہے، اور جب عورت کی عبادت، قربانی اور مشقت کو نظرانداز کیا جائے، تو اس مہینے کی اصل روح کمزور ہو جاتی ہے۔
اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ معاشرتی رویّے میں توازن پیدا کیا جائے: گھر کے مرد بھی کام میں حصّہ لیں، افطار کی تیاری اور دسترخوان کی ذمّہ داری بانٹی جائے، اور عورت کو عبادت، قرآن کی تلاوت اور روحانی سکون کے لیے وقت اور خلوت فراہم کی جائے۔ اسی طرح رمضان واقعی سب کے لیے رحمت اور برکت کا مہینہ بن سکتا ہے، اور عورت کی گمنام عبادت بھی معاشرتی اور روحانی اعتبار سے معتبر اور قابلِ قدر ہو جائے گی۔ یہ مضمون ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ رمضان کی روح صرف روزے یا کھانے میں نہیں بلکہ انصاف، تعاون، احترام اور عبادت کی مساوات میں بھی پوشیدہ ہے، اور خواتین کی عبادت اور مشقت کے بغیر یہ روح ادھوری رہ جاتی ہے۔
یہاں اصلاح کی ضرورت واضح اور انکار سے بالا تر ہو جاتی ہے، کیونکہ رمضان نہ صرف روزے اور عبادت کا مہینہ ہے بلکہ یہ عدل، رحم، باہمی تعاون اور اخلاقی ذمّہ داری کا بھی درس دیتا ہے۔ اگر گھر کے مرد اور دیگر افراد عورت کے بوجھ، مشقت اور وقت کی قدر کو سمجھیں، اس کے کاموں میں فعال حصہ ڈالیں، افطار کے اہتمام میں سادگی اختیار کریں، اور اسے عبادت کے لیے وقت اور سکون فراہم کریں، تو رمضان حقیقی معنوں میں ایک مشترکہ روحانی تجربہ بن سکتا ہے۔ یہ تجربہ صرف فرد کی عبادت تک محدود نہیں بلکہ پورے خاندان کی اخلاقی اور روحانی ترقی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ عورت کا حق ہے کہ وہ اس مہینے میں اپنی یکسوئی کے ساتھ عبادت کر سکے، قرآن سے تعلق مضبوط کر سکے، اور اپنے ربّ کے حضور دل کھول کر کھڑی ہو سکے، بغیر کسی معاشرتی بوجھ یا فرائض کی قید کے۔
سماجی سطح پر بھی ہماری ذمّہ داری ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا از خود جائزہ لیں۔ افطار پارٹیوں کی رنگا رنگ نمائش، غیر ضروری دعوتوں کی بھرمار اور دکھاوے کے اہتمام کے بجائے سادگی، ضرورت اور مقصدیت کو ترجیح دی جائے۔ اگر ہم اس سادگی کو اپنائیں تو نہ صرف عورت کی جسمانی اور جذباتی مشقت میں کمی آئے گی بلکہ رمضان کی اصل روح بھی محفوظ رہے گی: روحانیت، قربانی، سکون اور خدا سے تعلق کا درس۔ عورت کے لیے عبادت کو آسان بنانا دراصل پورے معاشرے کے اخلاقی معیار کو بلند کرنے کے مترادف ہے۔ جب خاندان اور معاشرہ عورت کی عبادت، مشقت اور قربانی کو معزز اور تسلیم شدہ سمجھے گا، تب ہی ہم رمضان کو محض ایک مہینے کے طور پر نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور سماجی اصلاح کا مہینہ بنا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم یہ سیکھیں گے کہ رمضان کی اصل تعلیم نہ صرف ذاتی تزکیہ بلکہ اجتماعی انصاف، ہمدردی اور تعاون میں بھی پوشیدہ ہے، اور خواتین کی عزّت، سہولت اور عبادت کی قدر اس تعلیم کو مکمل کرنے کا لازمی حصّہ ہے۔
رمضان نہ صرف مرد کے لیے بلکہ عورت کے لیے بھی تزکیۂ نفس، روحانی بیداری اور اخلاقی نشوونما کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدّس عرصہ ہے جس میں انسان اپنے اعمال، اپنے دل اور اپنے ربّ کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے، نفس کی تربیت پاتا ہے اور اپنی روح کو پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے۔ مگر یہ تزکیہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک معاشرہ عورت کی محنت، عبادت اور قربانی کو تسلیم نہ کرے، اس کی عبادت کو معزز نہ سمجھے، اور اس کی مشقت کو بانٹنے کی کوشش نہ کرے۔ اکثر گھر اور معاشرے میں عورت کی خدمات کو صرف روزمرّہ کی ذمّہ داریوں یا سہولت فراہم کرنے کے عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ وہ ہر لمحہ رمضان میں صبر، قربانی اور عبادت کا عملی مظہر بنتی ہے۔ سحر کی تیاری سے لے کر افطار کے اہتمام تک، دن کی تھکن اور روحانی طلب کے باوجود، عورت اپنی عبادت کو پیچھے رکھتی ہے اور دوسروں کی بھلائی کے لیے اپنا سکون قربان کرتی ہے۔ اس کے ہر عمل میں عبادت کی خفیہ لذت اور قربِ الٰہی کی روشنی موجود ہوتی ہے، مگر اگر معاشرہ اس قربانی کی قدر نہ کرے تو رمضان کی روح نصف ادھوری رہ جاتی ہے۔
رمضان کا تقاضا یہی ہے کہ ہم عورت کو صرف ایک خدمت کرنے والی، سہولت فراہم کرنے والی یا گھریلو ذمّہ داریوں تک محدود انسان کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے عبادت کرنے والی، سوچنے والی، غور و فکر کرنے والی اور روحانی بلندی کی حقدار انسان کے طور پر دیکھیں۔ عورت کا بھی حق ہے کہ وہ اس مہینے میں سکون کے ساتھ عبادت کرے، قرآن کے ذریعے اپنے ربّ سے تعلق مضبوط کرے اور دل کھول کر ربّ کے حضور پیش ہو سکے۔ جب سماج اس نظر سے عورت کو دیکھنا سیکھ جائے گا، جب اس کی محنت، قربانی اور عبادت کو باطنی احترام اور عملی تعاون کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا، تب رمضان واقعی ہر فرد کے لیے رحمت اور برکت کا مہینہ بن جائے گا۔ تب نہ صرف شخصی تزکیہ ممکن ہوگا بلکہ ایک اجتماعی روحانی فضا قائم ہوگی، جہاں مرد و عورت دونوں برابر کی قدر، عزّت اور روحانی مواقع کے حامل ہوں گے۔ اس طرح رمضان صرف روزے اور عبادت کا مہینہ نہیں رہے گا، بلکہ اخلاق، تعاون، ہمدردی اور انصاف کا عملی درس بھی بن جائے گا۔
🗓 (2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




