
عقیل خان بیاولی جلگاؤں
کوہِ ست پوڑا کے پُرسکون دامن میں، جہاں فطرت خاموشی سے ذکرِ الٰہی میں محو دکھائی دیتی ہے، وہیں تصوف، وحدانیت اور عشقِ الٰہی کی وہ شمع آج بھی روشن ہے جو صدیوں پہلے ایک مردِ درویش نے جلائی تھی۔ آدیباسی، خانہ بدوش لوگ، پہاڑی اور دور دراز علاقوں میں خانقاہی نظام کے ذریعے اسلام کی روحانی روشنی پھیلانے والے عظیم صوفی بزرگ حضرت الحاج سید عبدالطیفؒ، بالمعروف سجن شاہ ولیؒ (ساکلی، تعلقہ بیاول، ضلع جلگاؤں، خاندیش) کا ٧٦١ واں عرسِ مبارک روایتی تزک و احتشام، والہانہ عقیدت اور روحانی سرشاری کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے۔ عرس کی سہ روزہ تقریبات کا آغاز شاہ صاحب کے دست مبارک سے غسل شریف درگاہ، ۱۵ دسمبر کو محفلِ سماع سے ہوا، جہاں تصوف کے علمبردار شعرا
اور اہلِ دل نے وجدانی کیفیت میں صوفیانہ کلام پیش کر کے سرد فضاؤں میں روحانی حرارت بھر دی۔ محفل میں شرکت کرنے والے عشاق پر کیف کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ دل خود بخود دھڑکنوں کے ساتھ سر دھوننے لگے،یہ وہ لمحے تھے جہاں لفظ خاموش اور کیفیت گویا ہو جاتی ہے۔ ۱۶ دسمبر کو محفلِ قوالی کا اہتمام ہے، جس میں بیرونِ شہر سے آئے ہوئے نامور قوال حضرات اپنی فنی مہارت اور قلبی عقیدت کے ساتھ حضرت سجن شاہ ولیؒ اور دیگر بزرگانِ دین کو نذرانۂ عشق پیش کریں گے۔ قوالی کی لے، ذکر کی گونج اور عقیدت کی لَے مل کر وہ فضا قائم کریں گی جسے صرف دل محسوس کر سکتا ہے۔

آستانۂ مبارک کی عرس تقریبات کے حوالے سے مجاورانِ آستانہ سید ارمان سید نثار،و ہم نواؤں نے بتایا کہ ان تین دنوں میں ملک کے مختلف حصوں سے، بلا مذہبی تفریق، حضرت کے عاشقان یہاں حاضر ہو کر برکتیں اور مرادیں پاتے ہیں۔ عرس کے ساتھ ساتھ پانچ ہفتوں تک ہر اتوار خصوصی بازار بھی لگتا ہے، جہاں زندگی کی ضروریات سمیت انواع و اقسام کی اشیاء دستیاب ہوتی ہیں۔ یہ بازار نہ صرف معاشی سرگرمی کا مرکز ہے بلکہ صدیوں پرانی روایت اور عوامی عقیدت کی زندہ علامت بھی ہے۔ حضرت سجن شاہ ولیؒ کی کرامات کا تذکرہ اہلِ علاقہ کی زبان پر آج بھی تازہ ہے۔ سید ارمان علی کے مطابق آستانے کے گنبد پر خالص سونے کا کلس اور میناروں پر سونے کے چاند تارے نصب ہیں۔ ایک بار چوروں نے انہیں چرا لیا،مگر قدرت کی گرفت دیکھئے کہ ایک چور وہیں اندھا ہو کر اٹک گیا اور دوسرا جس سمت قدم بڑھاتا، وہاں دیوار حائل ہو جاتی۔ صبح ہونے پر شہر کے لوگ جمع ہوئے، چوروں نے معافی مانگی اور سونا اپنی جگہ واپس رکھ دیا۔
اسی طرح ندی کے سیلاب کا اتر جانا، غریب خاتون کو کھیت کا مل جانا، ظالم راکشس کی تدفین، قصبے کی خوشحالی اور علم و ادب میں نمایاں مقام ،یہ سب واقعات حضرتؒ کی کرامتوں کی کڑیاں ہیں جو آج بھی اہلِ دل کے یقین کو تازگی بخشتی ہیں۔ روایت کے مطابق پہلی چادر ایک غیر مسلم خانوادہ پیش کرتا ہے، جس کے بعد عوام الناس عقیدت کا اظہار کرتے ہیں یہی تو صوفیاء کی تعلیم ہے: محبت، یکجہتی اور انسانیت۔ سنہ ۲۰۱۶ میں اندھ شردھا نرملن سمیتی کے نمائندے تحقیق کی غرض سے یہاں آئے، مگر کوئی جواز پیش نہ کر سکے اور خاموشی سے لوٹ گئے کیونکہ
روحانیت دلیل کی محتاج نہیں، وہ خود اپنی گواہی دیتی ہے۔ یہ تمام تقریبات اعلیٰ درجے کی عقیدت، نظم و ضبط اور باہمی تعاون کے ساتھ انجام پاتی ہیں، جہاں گرام پنچایت، محکمۂ پولیس اور محکمۂ بجلی کا تعاون ہمیشہ نمایاں رہتا ہے۔ مقصد صرف اور صرف حصولِ برکات، فروغِ محبت اور روحانی یکجہتی ہے۔ حضرت کی بارگاہ میں ایک عاجزانہ نذرانۂ عقیدت.
درِ سجنؒ پہ جو جھکا، وہی سرخرو ٹھہرا
یہ فیضِ عشق ہے، عقیلؔ، جو دل میں اُتر گیا،




