زیرِ التوا وقف مقدمات فوری حل کریں، ورنہ چیئرمین کے گھر پر سخت احتجاج کیا جائے گا – شبیر انصاری کا انتباہ

ناندیڑ: 5 ستمبر (پریس ریلیز): تحریکِ اوقاف کی جانب سے وقف بورڈ کو 54 مقدمات کے تعلق سے درخواست دی گئی تھی۔ ان میں سے سات مقدمات کو پہلے حل کرنے کا یقین دلایا گیا تھا لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود ایک مقدمے کے علاوہ بقیہ سبھی مقدمات ابھی تک حل نہیں کیے گئے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر 9 ستمبر کو ممبئی میں ہونے والی میٹنگ میں یہ زیرِ التوا مقدمات فوری طور پر حل نہ ہوئے تو وقف بورڈ کے چیئرمین اور ممبران کے گھروں کے سامنے سخت احتجاج کیا جائے گا۔ یہ انتباہ تحریکِ اوقاف کے بانی صدر اور سینئر او بی سی لیڈر شبیر انصاری صاحب نے آج ناندیڑ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں دیا۔ ناندیڑ شہر کے حضرت دولہے شاہ رحمنؒ درگاہ اور بلولی تعلقے کی تاریخی کالا پتھر مسجد کے اراضی سے متعلق مقدمات خاص اہمیت رکھتے ہیں اور ان کا فوری فیصلہ بہت ضروری ہے ایسا شبیر انصاری نے کہا
۔ شبیر انصاری اس وقت کینسر کے علاج سے گذر رہے ہیں اس کے باوجود حضرت دولہے شاہ رحمنؒ کے 147 ویں عرس کے موقع پر ناندیڑ تشریف لائے مقامی افراد سے ملاقات کی اور پریس کانفرنس کے ذریعے ناندیڑ کے زیرِ التوا مقدمات کے تعلق سے وقف بورڈ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔ ناندیڑ کے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منعقدہ اس پریس کانفرنس میں تحریکِ اوقاف ناندیڑ کےضلع صدر فاروق احمد، ایم۔ اے۔ حفیظ، شفی موسیٰ، ایڈوکیٹ شیخ بلال، محمد قاسم، ایڈوکیٹ محمد شاہد، بلولی کے عمران خان، حیدر علی، اعظم بیگ، سید وسیم ، محمد علیم سمیت کئی لوگ موجود تھے۔ اسی طرح او بی سی تنظیم کے رضوان قریشی، عبدالمحیط اور دیگر عہدیداران بڑی تعداد میں شریک تھے۔




