سعودی عرب کے دل خراش بس حادثے میں حیدرآباد کے ایک ہی خاندان کے 18 افراد جاں بحق
شہر بھر میں صفِ ماتم بچھ گئی، علاقہ رام نگر شدید سوگ میں ڈوبا ہوا


حیدرآباد: سعودی عرب میں پیش آئے ایک المناک اور خوفناک بس حادثے نے حیدرآباد سمیت پورے تلنگانہ کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپس آنے والے زائرین کی بس اچانک بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں متعدد ہندوستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ ہلاک شدگان میں حیدرآباد کے رام نگر سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 18 افراد بھی شامل ہیں۔
نذیرالدین خاندان کا مکمل صفایا — پورا محلہ غم میں ڈوب گیا
متوفین کا تعلق شہر کے معروف نذیرالدین خاندان سے بتایا جارہا ہے، جو عمرہ کی نیت سے 18 اہلِ خانہ کے ساتھ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ خاندان کے افراد نے بتایا کہ یہ سب لوگ برسوں سے خواہش مند تھے کہ وہ ایک ساتھ عمرہ ادا کریں، اور اس مقدس سفر نے ان سب کو ایک جگہ جمع بھی کر دیا۔ مگر کسی کو اندازہ نہ تھا کہ یہ سفر ان کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔
حادثے کے بعد رام نگر اور اطراف کے علاقوں میں ماتمی فضا قائم ہے۔ گھروں میں کہرام مچا ہوا ہے، پڑوسی، رشتہ دار اور واقف کار صدمے سے نڈھال ہیں۔ پورا علاقہ غم و اندوہ میں ڈوبا ہوا ہے اور ہر چہرہ افسردہ نظر آ رہا ہے۔
امریکہ میں مقیم سراج الدین خاندان کا واحد زندہ فرد
خاندان کے ذرائع کے مطابق نذیرالدین کا بیٹا، سراج الدین، روزگار کے سلسلے میں امریکہ میں مقیم ہے۔ حادثے کی خبر ملتے ہی اسے آگاہ کیا گیا، اور بتایا جاتا ہے کہ وہ شدید صدمے کی حالت میں ہے۔ دل دہلا دینے والی حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے کے بعد اب پورے خاندان میں زندہ بچ جانے والے صرف وہی واحد فرد ہیں۔

حکومت کی مدد اور انتظامات کی تیاری
حیدرآباد اور تلنگانہ کے حکومتی حلقوں نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی حکام سعودی عرب میں بھارتی سفارت خانے سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ مرنے والوں کی میتوں کو جلد از جلد وطن واپس لایا جاسکے۔ پولیس اور مقامی انتظامیہ رام نگر میں متاثرہ خاندان کے رشتہ داروں کو تمام تر قانونی اور ضروری مدد فراہم کر رہی ہے۔
شہریوں کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے پہنچ رہی ہے
حادثے کی خبر پھیلتے ہی شہر بھر سے لوگ رام نگر پہنچ رہے ہیں۔ کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے بھی متاثرہ خاندان سے تعزیت کی اور اس سانحے کو ’’ناقابلِ تلافی نقصان‘‘ قرار دیا۔




