سلیمان قتل عام معاملہ “مرکزی ملزم ابھی تک فرار؛ پولیس پر سیاسی دباؤ؟” — ‘ایس ڈی پی آئی”
“یہ واقعہ صرف مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت پر ایک بدنما داغ ہے” — ضلع کلیکٹر آیوش پرساد.

جلگاؤں (عقیل خان بیاولی)
جلگاؤں ضلع کے جامنیر تعلقہ کے بیٹاوڈ میں پیش آئے بھیانک موب لنچنگ واقعہ کو دس دن گزر چکے ہیں، جس میں معصوم سلیمان خان پٹھان کی جان گئی۔ لیکن افسوس کہ پولیس اب تک اس واقعہ کے مرکزی مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پولیس انتظامیہ ملزمین کے نام ظاہر کرنے سے بھی کترا رہا ہے اور الزام لگایا جا رہا ہے کہ مرکزی ملزم ایک بڑے سیاسی لیڈر کا قریبی ہونے کے سبب اسے جان بوجھ کر تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
اسی کے خلاف آج سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے ضلع کلیکٹر دفتر کے سامنے دھرنا مظاہرہ کیا۔ مظاہرے کے دوران وفد نے ضلع کلیکٹر آیوش پرساد سے ملاقات کی اور تقریباً 35 منٹ طویل گفتگو کی۔ کلیکٹر نے وفد کے جذبات سن کر اس معاملہ میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ: “یہ واقعہ صرف مہاراشٹر تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے نہایت افسوسناک ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور ایسے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اس طرح کے سانحات دوبارہ نہ ہوں۔ایس ڈی پی آئی اور ایکتا سنگٹھن نے انتظامیہ کے سامنے درج ذیل پرزور مطالبات رکھے:

1. تمام مرکزی ملزمین کو فوری گرفتار کیا جائے۔
2. ایس آئی ٹی میں شامل آئی او مدھوکر کاسر کو تفتیش سے ہٹایا جائے۔
3. شکایت کنندہ اور اس کے اہل خانہ کے تحریری بیانات کی بنیاد پر فوری کارروائی ہو۔4. ملزمین پر مکوکا اور سازش کی دفعات لگائی جائیں۔5. ملزمین پر سخت دفعات عائد کر کے فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے۔6. مقتول سلیمان خان پٹھان کے اہل خانہ کو فوری مالی امداد اور سرکاری ملازمت فراہم کی جائے۔7. ضلع میں مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔وفد نے انتباہ دیا کہ اگر
جلد ہی انصاف نہ ملا اور ملزمین گرفتار نہ ہوئے تو آئندہ بڑے پیمانے پر عوامی تحریک شروع کی جائے گی۔وفد میں شامل رہنما و ذمہ داران ایس ڈی پی آئی صدر مولانا متین دیشپانڈے، نائب صدر مولانا قاسم ندوی، فاروق شیخ، اشفاق پٹیل، جاوید مللا جی، انور سکلگر، مفتی خالد، حافظ رحیم پٹیل، انیس شاہ، متین پٹیل، قاسم عمر، مولانا عمر ناصر، ایس ڈی پی آئی جنرل سکریٹری سہیل شیخ، عرباز شیخ، خازن چراغ الدین شیخ، ڈائریکٹر جنید سید، ابوزر مرزا، ہادی انصاری، جنید شیخ، امین پٹیل، الطاف شیخ اور بڑی تعداد میں کارکنان موجود تھے۔




