شمع اردو اسکول میں اردو دن شان و شوکت سے منایاگیا
مقامی شاعر مرحوم قدیر سولاپوری اور مرحوم نسیم منان کو بھی یاد کیا گیا۔

سولاپور(اقبال باغبان)- مجرے واڈی میں واقع شمع اردو اسکول میں تمثیلی مشاعرے کے ذریعے بزرگ شعراے کرام کی یاد تازہ کرتے ہوئے طلباء نے ان کی مختلف نظمیں اور غزلیں پیش کرکے داد تحسین حاصل کی۔
پروگرام کا افتتاح مہمانوں کے ہاتھوں شمع روشن کرکے کیا گیا
تمثیلی مشاعرے میں [علامتی کوی سممیلن] شعرا کے کپڑے اور لباس پہننا فیشن شو نہیں بلکہ اس کے ذریعے اردو ادبی ورثہ کو محفوظ رکھنے کا ایک موقع ملتا ہے اور خاص طور پر مقامی شعراء کو اس کے ذریعے ان کی یاد اور ان کے کلام کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا جاتا ہے اس لیے ایسے پروگرام وقتاً فوقتاً ہونے چاہییں۔ ایسا خیال شمع اردو اسکول میں اردو دن کی مناسبت سے منعقدہ "تمثیلی مشاعرے” میں اردو کے سینیئر ادیب ڈاکٹررشید شیخ نے کیا پروگرام کی صدارت شع کے صدر ایوب احمد نلامنڈو نے کی جبکہ بی ایچ کرجگکر مہمان خصوصی کے طور پر موجود تھے۔
ابتدا میں ابرار احمد نے اسکول کی روداد پیش کرکے اردو دن کی اہمیت بیان کی۔ھیڈ مسٹریس یاسمین بیجاپورے کی زیر نگرانی میں منعقدہ اس تمثیلی مشاعرہ کے لیے شاعرہ شاہین شکیل "صدف” نے خصوصی محنت کرکے بہترین نظامت کے ذریعے مشاعرے میں رمق پیدا کی، پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے تمام اساتذہ نے قیمتی تعاون کیا اس تمثیلی مشاعرے میں مقامی شاعر مرحوم قدیر سولاپوری اور مرحوم نسیم منان کی شاعری شیخ شرجیل شیخ ریحان نے پیش کی جبکہ شاعرہ صبا بلرام پوری پٹیل زارا، شبینا ادیب شیخ آسیہ، ہِمانشی بابرا – شیخ رُخسار، پروین شاکر – شیخ زینب، شایستہ ثنا – صابونگر عظمٰی، لتا ہیا – شِبہ پٹیل، شاعر عمران پرتابگڑی – قاسم پٹیل، بشیر بدر نداف فیضان، راحت اندوری – کے مختلف کلام پیش کرکے داد تحسین حاصل کی رسم شکریہ آسیہ بیجاپورے نے ادا کیا




