شمع روشن بجھ گئی بزم سخن ماتم میں ہے۔۔۔

حضرت مولانا شیخ نعیم صاحب اشاعتی ایک متدین ملنسار سادگی پسند متقی عالم دین تھے جن کی زندگی سادگی اور تقوی کا حسین امتزاج تھی ۔احقر کی مولانا سے ملاقات لاک ڈاون کے زمانے میں ہوئی جب آپ نے ہمارے محلے میں ایک تجارت شروع کی تھی ۔اس کے بعد بھی حضرت سے کئی بار ملاقات ہوئی یہ وہ زمانہ تھا جب آپ دارالعلوم کے صدارت کے عہدے پر فائز کئے گئے تھے ۔
ایک مرتبہ دارالعلوم کے طلبہ کے طعام کا وقت تھا حضرت سے ملاقت ہوئی تو فرمایا کہ ہمارے گھر آپ کی دعوت ہے ۔کیونکہ آپ ہمارے مہمان ہے اور اس وقت سب کھانا کھارہے ہیں ۔اور مجھے یہ بات پسند نہیں کہ اپنے مہمانوں کو مدرسے سے کھانا کھلاوں ۔چوں کہ ہم لوگ سیراب تھے اس لئے معذرت کرلی ۔مگر اس واقعہ سے میں بہت متاثر ہوا۔ آج کے دور میں جب کہ بہت سے نظما و صدور حتی کہ مدرسین بھی مدرسے کی املاک کو اپنی سمجھتے ہیں ایسا تقوی اختیار کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔
ملنساری میں بھی آپ اپنی مثال آپ تھے اور جرات وعزیمت میں مشہور تھے ۔آپ کی رحلت سے عالم اسلام، مسلمانان ناندیڑ اور خصوصا دارالعلوم محل جاہ مالٹیکڑی ایک عظیم ہستی سے محروم ہوگئے ۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے.اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے۔آمین
احقرالعباداظہارالحق قاسمی ناندیڑ




