شہادت، سیاست اور طاقت کی بساط ایران بحران کا تاریخی موڑ


✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اُمّتِ مسلمہ اس وقت ایک ایسے نازک تاریخی مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں اس کے مختلف خطے براہِ راست یا بالواسطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بن چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ، جو صدیوں سے تہذیبی، مذہبی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل رہا ہے، ایک بار پھر عالمی سیاست کی بساط پر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر یہ خبر درست ہو کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ایران پر حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہو چکے ہیں، تو یہ واقعہ محض ایک قومی سانحہ نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک فکری، سیاسی اور اخلاقی سوال بن جاتا ہے۔
اُمّت کے اجتماعی شعور میں قیادت، خودمختاری اور مزاحمت جیسے تصورات محض سیاسی اصطلاحات نہیں بلکہ دینی و تہذیبی حوالوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے کسی مسلم ریاست کے سربراہ پر براہِ راست حملہ، خواہ اس کے داخلی سیاسی اختلافات کچھ بھی ہوں، اصولی طور پر ریاستی خودمختاری اور اُمّت کی اجتماعی عزّتِ نفس سے متعلق بحث کو جنم دیتا ہے۔ یہاں سوال کسی مخصوص حکومت یا مسلک کی حمایت یا مخالفت کا نہیں، بلکہ اس اصول کا ہے کہ کیا مسلم دنیا عالمی طاقت کی سیاست میں ہمیشہ ردِّ عمل کی پوزیشن پر ہی رہے گی، یا وہ کسی مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل میں کامیاب ہو سکے گی؟
1979ء کے بعد قائم ہونے والا ایرانی نظام اپنی نوعیت میں ایک مخصوص نظریاتی شناخت رکھتا ہے، جس کی بنیاد "ولایتِ فقیہ” پر ہے۔ اُمّت کے اندر اس تصور سے اختلاف رکھنے والے حلقے بھی موجود ہیں، اور یہ اختلاف ایک فکری و فقہی حقیقت ہے۔ تاہم، جب بیرونی عسکری مداخلت کا پہلو غالب آ جائے تو داخلی نظریاتی اختلافات ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور مسئلہ خودمختاری و استحکام کا بن جاتا ہے۔ اس تناظر میں ایران پر ممکنہ جارحیت کو اُمّت کے ایک حصّے کے خلاف عسکری دباؤ کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔
اسی طرح امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو اُمّتِ مسلمہ کے مختلف طبقات مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ کچھ اسے علاقائی توازنِ قوت کا معاملہ قرار دیتے ہیں، جب کہ دیگر اسے ایک وسیع تر تہذیبی و سیاسی کشمکش کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ یہ تنوعِ آرا اُمّت کے فکری تنوع کا حصّہ ہے، لیکن موجودہ بحران اس امر کی یاد دہانی بھی ہے کہ باہمی تقسیم اور کمزور سفارتی ہم آہنگی مسلم دنیا کو عالمی سطح پر غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ اُمّتِ مسلمہ کے نقطۂ نظر سے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ کون سا فریق عسکری طور پر غالب آئے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ بحران مسلم دنیا کو مزید انتشار کی طرف لے جائے گا یا کسی نئی فکری بیداری اور سیاسی بصیرت کا باعث بنے گا؟ کیا مسلم ممالک باہمی اختلافات کے باوجود کم از کم اس اصول پر متفق ہو سکتے ہیں کہ علاقائی تنازعات کو سفارت اور مکالمے کے ذریعے حل کیا جائے؟
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جدید دور میں جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتیں؛ بیانیے، میڈیا اور سفارت کاری بھی اسی قدر اہم ہیں۔ اُمّت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردِّعمل سے بالاتر ہو کر معروضی تجزیہ، دانشمندانہ حکمتِ عملی اور باہمی مشاورت کو فروغ دے۔ بالآخر، یہ بحران اُمّتِ مسلمہ کے لیے ایک امتحان ہے! کیا وہ داخلی اختلافات کو حکمت کے ساتھ سنبھالتے ہوئے خارجی دباؤ کا سامنا کر سکتی ہے، یا وہ مزید تقسیم کا شکار ہوگی؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اتحاد، فکری پختگی اور ادارہ جاتی استحکام کے بغیر کوئی بھی تہذیب عالمی سیاست میں باوقار مقام برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اسی پس منظر میں ذیل کا مضمون ایران کے حالیہ بحران کا تجزیہ پیش کرتا ہے، تاکہ جذباتی فضا سے ہٹ کر ایک سنجیدہ، علمی اور تحقیقی مکالمہ ممکن ہو سکے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں طاقت، نظریہ اور جغرافیہ باہم ٹکرا رہے ہیں۔ جیسا کہ خبروں کی تصدیق کے بعد یہ خبر درست ہو کہ آیت اللّٰہ علی خامنہ ای ایران پر براہِ راست حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، تو یہ واقعہ محض ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ ایک عہد کے خاتمے اور دوسرے عہد کے آغاز کا اعلان ہوگا۔ ایسے لمحے قوموں کی تقدیر اور خطوں کی سیاست کو نئے سانچوں میں ڈھال دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ مشترکہ جارحیت کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف عسکری کارروائی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور تزویراتی کشمکش کا تسلسل ہے جو 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد سے جاری ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس خونچکاں مرحلے کے بعد خطے کا مستقبل کس سمت مڑے گا؟
ایران کا سیاسی نظام فردِ واحد پر نہیں بلکہ ایک آئینی ڈھانچے پر قائم ہے۔ 1979ء کے بعد تشکیل پانے والا نظام "ولایتِ فقیہ” کے اصول پر استوار ہے، جس کے تحت سپریم لیڈر ریاستی اداروں کا محور ہوتا ہے، مگر اس کے انتخاب اور جانشینی کا باقاعدہ آئینی طریقۂ کار موجود ہے۔ آئین کے مطابق مجلسِ خبرگان نئے رہبر کا انتخاب کرتی ہے، اور عبوری قیادت کونسل کی تشکیل بھی ممکن ہے۔ اس لیے محض ایک شخصیت کی شہادت سے نظام کا انہدام ناگزیر نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب ریاستی ڈھانچے ادارہ جاتی ہوں تو قیادت کی تبدیلی سے نظام نہیں گرتا، بلکہ بعض اوقات مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔ البتہ بیرونی دباؤ، معاشی پابندیاں اور داخلی سیاسی اختلافات اگر شدت اختیار کریں تو عدم استحکام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ تصور کہ چند فضائی حملوں یا ایک بڑی شخصیت کے خاتمے سے "ریجیم چینج” یقینی ہو جائے گا، سادہ لوحی کے مترادف ہے۔ ایران میں پچھلی چند دہائیوں کے دوران ریاستی اداروں نے بحرانوں سے نمٹنے کی ایک مخصوص صلاحیت پیدا کی ہے۔ 1989ء میں علامہ خمینیؒ کے انتقال کے بعد بھی قیادت کی منتقلی نسبتاً منظم انداز میں ہوئی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل نے ماضی میں بھی خطے میں پیش قدمی کی ہے، مگر ہر عسکری اقدام کے غیر متوقع نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ عراق اور افغانستان کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایران ایک وسیع جغرافیہ، بڑی آبادی، مضبوط عسکری ڈھانچے اور علاقائی اتحادیوں کا حامل ملک ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور اس کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک (جسے مغرب "Axis of Resistance” کہتا ہے) مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں اثر رکھتے ہیں۔ اگر جنگ وسیع ہوتی ہے تو لبنان، شام، عراق اور خلیج کے ساحلی علاقوں تک اس کے اثرات پہنچ سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں امریکہ اور اسرائیل کو عسکری سے زیادہ سیاسی و سفارتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی رائے عامہ، توانائی کی منڈیوں میں ہلچل، اور عالمی طاقتوں خصوصاً چین اور روس کا ردّعمل بھی فیصلہ کن ہوگا۔
کسی نظریاتی ریاست میں قیادت کی شہادت محض خلا نہیں چھوڑتی، بلکہ وہ ایک علامت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اگر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای واقعی اس معرکے میں جان بحق ہوئے ہیں، تو ایرانی بیانیہ انہیں "مزاحمت کی علامت” کے طور پر پیش کرے گا۔ شہادت کا تصور ایرانی سیاسی و مذہبی فکر میں گہری جڑیں رکھتا ہے، جس کی اساس واقعۂ کربلا سے جڑی ہے۔ اس پس منظر میں ایک سپریم لیڈر کی شہادت عوامی جذبات کو کمزور کرنے کے بجائے مزید منظم اور مشتعل کر سکتی ہے۔ سیاسی طور پر یہ واقعہ اندرونی صف بندی کو مضبوط کر سکتا ہے، کیونکہ بیرونی حملے کے بعد قومیں عموماً اختلافات بھلا کر یکجا ہو جاتی ہیں۔ تزویراتی اعتبار سے ایران اپنی دفاعی حکمتِ عملی کو مزید جارحانہ اور غیر متوازن جنگ (asymmetric warfare) کی طرف موڑ سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ نظریاتی تحریکیں اپنے بانیوں اور قائدین کی وفات کے بعد ختم نہیں ہوتیں، بلکہ بعض اوقات ان کا دائرۂ اثر بڑھ جاتا ہے۔ ایرانی انقلاب بھی ایک نظریہ ہے! خودمختاری، مغربی غلبے کی مزاحمت اور مذہبی سیاسی نظام کا نظریہ۔ اگر قیادت کا خلا دانشمندی سے پُر کیا گیا، تو ایران کی ریاستی مشینری اور سماجی ڈھانچہ اس صدمے کو برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن اگر داخلی تقسیم بڑھ گئی تو بیرونی قوتوں کے لیے مداخلت کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خامنہ ای کی وفات کے بعد نئی قیادت کچھ پالیسیوں میں لچک دکھائے اور سفارتی دروازے کھولنے کی کوشش کرے۔ دوسری طرف یہ امکان بھی ردّ نہیں کیا جا سکتا کہ سخت گیر مؤقف مزید مضبوط ہو جائے۔
جدید جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز سے نہیں لڑی جاتی؛ بیانیہ، میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اہم محاذ ہیں۔ ایران اور اس کے مخالفین دونوں اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ "شہادت” اور "جارحیت” جیسے الفاظ محض اصطلاحات نہیں بلکہ سیاسی بیانیے کی تشکیل کے اوزار ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شام، یمن، عراق اور فلسطین کے تنازعات سے زخمی ہے۔ ایران پر براہِ راست حملہ خطے کو ایک ہمہ گیر جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ تیل کی رسد، آبنائے ہرمز کی سلامتی، اور عالمی معیشت کی رفتار سب متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر تصادم وسیع ہوا تو یہ ایک نئی سرد جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس میں بڑی طاقتیں بالواسطہ طور پر آمنے سامنے ہوں گی۔
اگر تصادم فوری طور پر مکمل جنگ میں تبدیل نہ بھی ہو تو خطہ ایک طویل المدت سرد کشمکش کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ تصادم پہلے بھی جاری رہا ہے، مگر قیادت کی سطح پر حملہ اس کشمکش کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتا ہے۔ دوسری جانب، بعض اوقات شدید بحران سفارتی بریک تھرو کا سبب بھی بنتے ہیں۔ بعید نہیں کہ پسِ پردہ مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو محدود کرنے کی کوشش کی جائے۔ تاریخ میں کئی بار دشمن ریاستیں شدید تصادم کے بعد مفاہمت کی میز پر آ بیٹھی ہیں۔
ایران پر جارحیت اور سپریم لیڈر کی ممکنہ شہادت کا واقعہ محض ایک عسکری خبر نہیں بلکہ ایک تاریخی موڑ ہے۔ یہ لمحہ فیصلہ کرے گا کہ طاقت کی سیاست غالب آتی ہے یا قانون و سفارت کی زبان۔ اگر ایران داخلی استحکام برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو "ریجیم چینج” کا خواب دیکھنے والوں کو مایوسی ہو سکتی ہے۔ اور اگر جنگ پھیلتی ہے تو امریکہ اور اسرائیل کو ایک طویل اور مہنگے تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بالآخر تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قوموں کو صرف بم اور میزائل زیر نہیں کرتے؛ نظریات، عوامی حمایت اور ادارہ جاتی استحکام ہی اصل قوت ہوتے ہیں۔ خامنہ ای کی زندگی اور ان کی ممکنہ شہادت اسی بحث کو ایک نئے باب میں داخل کر سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل اب سفارت، حکمت اور تحمل کا تقاضا کرتا ہے؛ ورنہ یہ آگ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
ایران کا موجودہ بحران صرف جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ تہذیبی کشمکش کا بھی عکس ہے۔ ایک ایسا تصادم جس میں خودمختاری، مذہبی شناخت اور عالمی طاقت کا بیانیہ آمنے سامنے ہیں۔ اگر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی وفات اس بحران کا حصّہ ہے تو ان کی شخصیت ایرانی ریاست کے لیے ایک علامتی سرمایہ بن سکتی ہے۔ لیکن اصل سوال فرد کا نہیں، اداروں اور نظریے کی بقاء کا ہے۔ بالآخر یہ بحران ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کی جنگیں وقتی ہوتی ہیں، مگر ان کے اثرات نسلوں تک پھیلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ آیا یہ خطہ ایک اور تباہ کن تصادم کی طرف بڑھتا ہے یا سفارت، مکالمہ اور علاقائی توازن کی نئی راہ تلاش کرتا ہے۔
🗓 (02.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com




